Friday, January 09, 2026
 

عوام کو اب جینے بھی دیں

 



حکومت نے رواں برس گیس کی قیمتیں نہ بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر پٹرولیم نے کہا ہے کہ گیس کا سرکلر ڈیٹ تین کھرب روپے سے زائد ہے اور قطر نے پاکستان کی مشکل صورت حال میں کنٹریکٹ کی شرائط برقرار رکھی ہیں اور اسی لیے حکومت نے قوم پر یہ احسان کیا ہے جب کہ اس سلسلے میں حکومت پاکستان کی نہیں بلکہ برادر مسلم ملک قطرکا یہ احسان ہے جس نے کنٹریکٹ برقرار رکھا ہے ورنہ حکومت نے ڈھائی سال میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا اور حکومت کا سارا زور بجلی وگیس کی قیمتیں مسلسل بڑھانے پر ہی رہا ہے اور پٹرولیم مصنوعات میں جو نرخ کم ہوئے ہیں وہ حکومت کی عوام پر مہربانی نہیں یا کوئی ریلیف نہیں بلکہ عالمی طور پر پٹرول کی قیمت کم ہونے پر نرخ کم ہوئے ہیں۔ موجودہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کے عالمی نرخ کم ہونے کے باوجود لیوی بڑھانے کا ریکارڈ بنایا ہے، تاکہ عالمی طور پر پٹرولیم مصنوعات کے اگر نرخ کم بھی ہوں تو عوام کو اس کا فائدہ بھی پہنچنے دیا جائے اور لیوی مزید بڑھا کر حکومتی آمدنی مزید بڑھا لی جائے۔ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات، بجلی اورگیس کو اپنی کمائی کا ذریعہ بنایا ہوا ہے اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے عوام پر ہر سال مزید ٹیکس نافذ کیے جاتے ہیں اور حکومت کا اپنی آمدنی بڑھانے کا آسان ہدف تنخواہ دار ملازمین اور عوام ہیں۔ محکمہ خزانہ ہر سال دعوے تو بڑے کرتا ہے مگر سینٹرل بورڈ آف ریونیو محکمہ کا خواب پورا نہیں ہونے دیتا۔ سی بی آر ملک کے صنعتکاروں اور تاجروں سے من مانے ٹیکس وصول کرنے میں ہمیشہ ناکام رہا ہے اور حکومت کبھی صنعتکاروں اور تاجروں کو اعتماد میں لینے کے قابل ہی نہیں سمجھتی اور محکمہ خزانہ کے مشوروں پر چلتی اور ٹیکسوں میں اضافہ یا نئے ٹیکس لگاتی رہتی ہے۔ جاری مالی سال کی پہلی ششماہی میں حکومت نے تنخواہ دار افراد سے 266 ارب روپے صرف انکم ٹیکس وصول کیا ہے۔ حکومت کو شکایت ہے کہ عوام ٹیکس نہیں دیتے جب کہ حکومت ہر چیز پر ٹیکس وصول کرتی آ رہی ہے اور یہ الگ بات ہے کہ ہر چیز پر وصول کیا جانے والا ٹیکس ایف بی آر اور صنعتکاروں کی باہمی ملی بھگت سے قومی خزانہ میں جمع نہیں کرایا جاتا یا کم جمع ہوتا ہے۔ گھی، تیل، صابنوں اور اشیائے خوردنی کی ہر پیک چیز جس میں چائے کی پتی بھی شامل ہے، ٹیکس لکھا ہوتا ہے جو بہت زیادہ ہوتا ہے۔ حکومت نے عوام کے استعمال کی ضروری اشیا پر مختلف ٹیکس لگا رکھے ہیں جب کہ بجلی بلوں پر سیلز ٹیکس اور سوئی گیس کے بلوں پر فکسڈ چارجز لگا کر ظلم کی انتہا کر رکھی ہے اورگیس کے گھریلو صارفین جو نوے یونٹ سے کم گیس استعمال کرتے ہیں، 6 سو سے ایک ہزار روپے، ہرگیس بل میں شامل ہوتے ہیں اور اسٹینڈرڈ کے نام سے الگ اضافی رقم بلوں کی رقم سے وصول کی جا رہی ہے اور بجلی بل میں الیکٹرسٹی ڈیوٹی بھی وصول کی جا رہی ہے۔ حکومت سردیوں میں گیس کی لوڈشیڈنگ زیادہ کر رہی ہے جب کہ گرمیوں میں گیس صرف چولہوں کے لیے استعمال ہوتی ہے، وہ بھی پوری نہیں دے رہی اورگرمیوں میں بھی گھروں کو دن رات نہیں مخصوص وقت کے لیے ملتی ہے۔  سوئی سدرن گیس کمپنی نے تو عوام کی کھال کھینچنے کی انتہا کر رکھی ہے اور اس نے بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ صرف 47 یونٹ بجلی کے بل پر گیس چارجز 352 روپے بنتے ہیں جس پر نہ جانے کون سا اسٹینڈرڈ ہے جس کے 178 روپے اور جس گیس میٹر کی رقم کمپنی وصول کر چکی ہے اس کا کرایہ چالیس روپے وصول کیا جا رہا ہے۔ گیس چارجز، اسٹینڈرڈ اور میٹر رینٹ ملا کر جو بل 570 روپے ہے اس پر فکسڈ چارجز 6 سو روپے وصول کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ اس پر کبھی ٰ عدلیہ نے بھی باز پرس نہیں کی اس طرح وہ گیس صارف لوٹے جا رہے ہیں جنھیں گیس بھی پوری نہیں دی جا رہی اور حکومت یہ احسان جتا رہی ہے کہ وہ رواں سال گیس کی قیمت نہیں بڑھائے گی۔ حکومت پٹرولیم مصنوعات اور گیس باہر سے خرید کر عوام کی ضرورت پوری کرنے کے دعوے کرتی ہے اور دونوں ہی حکومت کی زیادہ آمدنی کا ذریعہ ہیں جب کہ ملک میں بھی پٹرول اور گیس کے ذخائر موجود ہیں پھر بھی دونوں اشیا کے نرخ عوام کی پہنچ سے باہر ہو چکے ہیں مگر حکومت اپنے ٹیکس کم کرکے عوام کو کوئی ریلیف دینے پر تیار نہیں۔ بجلی ملک میں ہی بنتی ہے باہر سے نہیں آتی مگر سابقہ اور موجودہ حکومتوں سے سارا فائدہ بجلی کمپنیوں کو دے رکھا ہے اور بے انتہا مہنگی بجلی خریدنے پر مجبور ہیں۔ایران میں مہنگائی برائے نام اور حکومتی سہولیات زیادہ ہیں مگر وہاں اب عوام سڑکوں پر ہیں جب کہ ملک میں موجودہ حکومت نے مہنگائی و بے روزگاری کی انتہا کر دی ہے جس نے عوام کا جینا دوبھرکردیا ہے توکیا عوام کو سڑکوں پر آ کر ریلیف دیا جائے گا؟

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل