Loading
کوئٹہ میں حکومت بلوچستان نے اسپنی روڈ پر 150 بیڈز پر مشتمل جدید ترین نیو ٹراما سینٹر قائم کر دیا ہے، جو حادثات اور ایمرجنسی کیسز کے فوری اور معیاری علاج میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نیو ٹراما سینٹر میں مختلف شعبہ جات کی اسپیشلٹی سروسز ایک ہی چھت تلے فراہم کی جائیں گی، جبکہ سینٹر میں 4 جدید آئی سی یوز قائم کی گئی ہیں، جو مجموعی طور پر 31 بیڈز پر مشتمل ہیں۔
مریضوں کے علاج کے لیے 24 گھنٹے ماہر نیورو، آرتھوپیڈک اور جنرل سرجن دستیاب ہوں گے۔
ٹراما سینٹر میں جدید لیبارٹری قائم کی گئی ہے، جہاں سی ٹی اسکین، ایکسرے، الٹراساؤنڈ، موبائل ایکسرے اور موبائل وینٹی لیٹر جیسی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
اس کے علاوہ 6 جدید آپریشن تھیٹرز موجود ہیں، جہاں بیک وقت 8 مریضوں کے آپریشن کی سہولت ممکن ہے، جبکہ ادویات کی فراہمی 24 گھنٹے یقینی بنائی گئی ہے۔
صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے نیو ٹراما سینٹر کا دورہ کیا اور مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ
نیو ٹراما سینٹر حکومتِ بلوچستان کی عوام دوست پالیسیوں کا عملی ثبوت ہے، بلوچستان میں صحت کے شعبے میں عملی اقدامات تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران منفی سروے رپورٹ کا سامنے نہ آنا ویکسینیشن پالیسی کی کامیابی کا واضح ثبوت ہے، جبکہ گزشتہ تین ماہ میں 35 غیر فعال صحت مراکز دوبارہ فعال کیے گئے اور 164 بی ایچ یوز کو مکمل طور پر فنکشنل بنایا گیا۔
وزیر صحت کے مطابق بلوچستان میں ڈی ایچ آئی ایس ٹو نظام نافذ کیا جا چکا ہے، جس کے تحت صوبہ 87 فیصد کمپلائنس کے ساتھ صحت کا ڈیٹا ڈیجیٹل بنیادوں پر مرتب کر رہا ہے۔
شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے اے آئی اٹینڈنس سسٹم متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت 41 ہسپتالوں اور 13 ہزار ملازمین کی حاضری ڈیجیٹل کی گئی ہے، اور اس نظام کو بی ایچ یوز تک توسیع دی جا رہی ہے۔
بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ یہ صوبے کا پہلا مکمل پیپر لیس ٹراما سینٹر ہے، جہاں مریض کی رجسٹریشن، تشخیص، لیب، ریڈیالوجی، سرجری اور ادویات کا مکمل نظام کمپیوٹرائزڈ ہوگا۔
مزید برآں صوبے کے بڑے ہسپتالوں میں کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں، جن کی لائیو مانیٹرنگ کوئٹہ کے مرکزی کنٹرول روم سے کی جائے گی، جبکہ ادویات کی خریداری، استعمال اور فراہمی کا مکمل ریکارڈ بھی ڈیجیٹل ہوگا۔
صوبائی وزیر صحت نے ایکسپریس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کا صحت کا نظام مستقبل میں ملک کے دیگر صوبوں کے لیے ایک مثالی ماڈل بن سکتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل