Monday, January 26, 2026
 

کراچی میں گیس بحران، عوام پریشان

 



کراچی، جو کبھی روشنیوں، صنعتوں اور مواقع کا شہر کہلاتا تھا، آج بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کی علامت بنتا جارہا ہے۔ اس شہر میں دن کا آغاز کسی امید کے ساتھ نہیں بلکہ ایک مسئلے کے ساتھ ہوتا ہے، اور دن کا اختتام کسی نئے بحران پر۔ پانی کی قلت، بجلی کی لوڈشیڈنگ، ٹرانسپورٹ کی بدنظمی اور اب گیس کا شدید بحران، یہ سب مل کر شہری زندگی کو ایک مستقل اذیت میں بدل چکے ہیں۔ گیس، جو جدید شہری زندگی کی بنیادی ضرورت سمجھی جاتی ہے، کراچی کے لاکھوں گھروں میں محض ایک خواب بن چکی ہے، خاص طور پر سردیوں کے موسم میں جب اس کی ضرورت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ حالیہ دنوں میں کراچی میں گیس کی غیر اعلانیہ بندش نے گھریلو خواتین، مزدور طبقے، طلبا اور بزرگوں کو یکساں طور پر متاثر کیا ہے۔ صبح کے وقت ناشتہ بنانا ہو یا رات کو کھانا پکانا، ہر مرحلہ صبر، انتظار اور بے بسی کی علامت بن چکا ہے۔ شہریوں کو کبھی کم پریشر کا سامنا ہوتا ہے تو کبھی مکمل بندش کا، جبکہ متعلقہ اداروں کی جانب سے وضاحتیں، بیانات اور وعدے زمینی حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے۔ یہ بحران محض تکنیکی یا انتظامی نہیں بلکہ سماجی، معاشی اور نفسیاتی سطح پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔ ایک طرف صنعتی اور کمرشل صارفین کو ترجیح دی جاتی ہے، تو دوسری جانب عام شہری اپنی بنیادی ضرورت کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے۔ اس صورتحال نے ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کے رشتے کو کمزور کر دیا ہے، جہاں سوال یہ نہیں کہ مسئلہ کیوں پیدا ہوا، بلکہ یہ ہے کہ اس کا مستقل حل کب اور کیسے ممکن ہوگا۔ حالیہ دنوں میں کراچی کے مختلف علاقوں میں گیس کی مکمل بندش اور کم پریشر نے شہریوں کو ذہنی و جسمانی اذیت میں مبتلا کردیا ہے۔ روٹی جیسی بنیادی ضرورت کےلیے تندوروں اور ہوٹلوں پر طویل قطاریں معمول بن چکی ہیں اور گھروں میں چولہے سرد پڑے ہیں۔ کراچی میں گیس کا بحران کوئی نیا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ کئی دہائیوں سے مختلف صورتوں میں موجود ہے، مگر حالیہ صورتحال نے اس بحران کو ایک نئی شدت دے دی ہے۔ شہر کے بیشتر علاقوں میں یا تو گیس مکمل طور پر بند ہے یا اتنا کم پریشر ہے کہ کھانا پکانا ممکن نہیں رہا۔  عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ سوئی سدرن گیس کمپنی کراچی کے عوام کو گیس کی نارمل فراہمی میں مسلسل ناکام نظر آتی ہے۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صبح کے اوقات میں ناشتے کے لیے گیس دستیاب نہیں ہوتی، دوپہر میں کھانا پکانے کے وقت پریشر ختم ہو جاتا ہے اور رات کو چولہے مکمل طور پر ٹھنڈے پڑے رہتے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف گیس دستیاب نہیں اور دوسری طرف بھاری بلز نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ یہ صورتحال اس صوبے کے عوام کے لیے مزید تکلیف دہ ہے جو ملک کی گیس پیداوار کا 70 فیصد حصہ فراہم کرتا ہے، مگر خود بنیادی سہولت سے محروم ہے۔ گیس بحران کے براہ راست اثرات گھریلو زندگی پر سب سے زیادہ مرتب ہو رہے ہیں۔ گھریلو خواتین کے لیے کھانا پکانا ایک مستقل ذہنی دباؤ بن چکا ہے۔ شہری مہنگی ایل پی جی خریدنے پر مجبور ہیں، جو پہلے ہی مہنگائی کے ستائے ہوئے بجٹ پر ایک اضافی بوجھ ہے۔ ایل پی جی کے بڑھتے استعمال نے نہ صرف گھریلو اخراجات میں اضافہ کیا ہے بلکہ حفاظتی خدشات بھی پیدا کیے ہیں، کیونکہ غیر معیاری سلنڈرز اور ناقص تنصیبات حادثات کا باعث بن سکتی ہیں۔ اس بحران کے اثرات گھریلو دائرے تک محدود نہیں رہے بلکہ معاشی سرگرمیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ گیس لوڈ شیڈنگ کے باعث صنعتیں متاثر ہورہی ہیں اور صنعتی پہیہ سست روی یا مکمل جمود کا شکار ہے۔ چھوٹے کارخانے، بیکریاں، دودھ فروش، مٹھائی بنانے والے، پکوان ہاؤسز اور ہوٹل مالکان سبھی اس بحران کی لپیٹ میں ہیں۔ ایک طرف گھروں میں کھانا پکانا ممکن نہیں رہا تو دوسری طرف ہوٹلوں پر رش بڑھ گیا ہے، جس سے شہریوں کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے اور عام آدمی مزید مالی دباؤ کا شکار ہورہا ہے۔ شہریوں میں یہ تاثر بھی مضبوط ہو رہا ہے کہ ایس ایس جی سی کی جانب سے شہر میں ایک مصنوعی بحران پیدا کیا جا رہا ہے تاکہ صارفین کو قدرتی گیس کے بجائے ایل پی جی کے استعمال کی طرف راغب کیا جا سکے۔ اگرچہ کمپنی کے ترجمان کا دعویٰ ہے کہ صورتحال بہتر ہو رہی ہے، مگر زمینی حقائق اس بیان کی تردید کرتے ہیں۔ گیس کی غیر مساوی تقسیم، پرانے اور نئے صارفین کے درمیان فرق، اور بغیر کسی واضح شیڈول کے بندش نے اعتماد کا شدید بحران پیدا کر دیا ہے۔ یہ سوال بھی شدت اختیار کر رہا ہے کہ جب گیس کی دستیابی پہلے ہی محدود ہے تو نئے کنکشنز کا اجرا کس منطق کے تحت کیا جا رہا ہے، اور کیا یہ اقدام پرانے صارفین کے ساتھ ناانصافی نہیں۔ اس سنگین مسئلے پر سیاسی جماعتوں اور معزز شہریوں کی خاموشی بھی حیران کن ہے۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں، جہاں لاکھوں افراد روزانہ محنت مزدوری کےلیے نکلتے ہیں، صبح اسکول کے بچوں اور کام پر جانے والے افراد کا بغیر ناشتہ کے گھر سے نکلنا ایک اجتماعی ناکامی کی علامت ہے۔ یہ صورتحال محض انتظامی ناکامی نہیں بلکہ سماجی المیہ بن چکی ہے۔ ہمیں آج بھی یاد ہے کہ بچپن میں پڑھائی جانے والی معاشرتی علوم کی کتابوں میں پاکستان کو قدرتی وسائل، خصوصاً گیس اور معدنی ذخائر سے مالا مال ملک قرار دیا جاتا تھا، جہاں بڑے بڑے گیس فیلڈز، وافر قدرتی دولت اور توانائی کے وسیع وسائل کا ذکر فخر کے ساتھ کیا جاتا تھا۔ انہی کتابوں میں یہ بھی پڑھایا جاتا تھا کہ یہ وسائل قومی ترقی، عوامی خوشحالی اور خود کفالت کی بنیاد ہیں، مگر آج عملی صورتِ حال اس تعلیمی بیانیے کی مکمل نفی کرتی نظر آتی ہے۔ وہ ملک جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اس کے پاس گیس کے اتنے ذخائر ہیں کہ دہائیوں تک عوام کی ضروریات پوری کی جاسکتی ہیں، آج اسی ملک کے سب سے بڑے شہر کے باسی ایک وقت کی روٹی پکانے کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ یہ تضاد صرف ایک انتظامی ناکامی نہیں بلکہ ایک فکری، تعلیمی اور ریاستی شکست کی علامت ہے، جہاں کتابوں میں پڑھایا جانے والا خواب زمینی حقیقت بننے کے بجائے ایک تلخ سوال بن چکا ہے کہ آخر وسائل ہونے کے باوجود عوام بنیادی سہولتوں سے کیوں محروم ہیں۔ مگر آج یہی ملک اپنے شہریوں کو بنیادی توانائی فراہم کرنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔ کراچی کے ساتھ ساتھ سندھ کے دیگر شہروں اور حیدرآباد میں بھی گیس لوڈ شیڈنگ نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ یہ بحران اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسئلہ محض سپلائی کا نہیں بلکہ منصوبہ بندی، ترجیحات اور شفافیت کا ہے۔ جب ایک طرف عوام شدید مشکلات کا شکار ہوں اور دوسری طرف نئے کنکشنز دیے جا رہے ہوں تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ پالیسی سازی کس کے مفاد میں ہو رہی ہے۔ عوام کا اعتماد اس وقت بحال ہوسکتا ہے جب انہیں واضح، منصفانہ اور قابلِ عمل حل نظر آئیں۔ موجودہ صورتحال کا تقاضا ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے محض بیانات تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی اقدامات کریں۔ سب سے پہلے گیس کی تقسیم میں شفافیت اور مساوات کو یقینی بنایا جائے، تاکہ پرانے اور نئے صارفین کے درمیان امتیاز ختم ہو۔ غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے بجائے واضح شیڈول جاری کیا جائے تاکہ شہری اپنی روزمرہ زندگی کی منصوبہ بندی کر سکیں۔ گیس کے نئے کنکشنز کے اجرا کو عارضی طور پر روکا جائے جب تک موجودہ صارفین کو مناسب فراہمی ممکن نہ ہو۔  ضرورت اس امر کی ہے کہ اس بحران کو وقتی بندوبست کے بجائے ایک مستقل اور منظم پالیسی کے تحت حل کیا جائے، جہاں سب سے پہلے گیس کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کے نظام کا شفاف اور غیرجانبدارانہ آڈٹ کیا جائے تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ قلت قدرتی ہے یا بدانتظامی کا نتیجہ۔ شہری علاقوں اور صنعتی صارفین کے درمیان ترجیحات کا ازسرِنو تعین ناگزیر ہے، کیونکہ گھریلو صارفین کی بنیادی ضرورت کو نظرانداز کرکے صنعت کو بلا رکاوٹ گیس فراہم کرنا سماجی ناانصافی کے مترادف ہے۔ پرانی اور بوسیدہ پائپ لائنوں کی فوری مرمت اور مرحلہ وار تبدیلی کے بغیر لائن لاسز کم نہیں کیے جاسکتے، اس کے ساتھ ساتھ غیر قانونی کنکشنز اور گیس چوری کے خلاف مؤثر، مسلسل اور بلاامتیاز کارروائی ضروری ہے۔ متبادل توانائی کے ذرائع، خصوصاً ایل این جی، بائیو گیس اور شمسی توانائی کے فروغ کے لیے شہری سطح پر عملی منصوبہ بندی کی جائے تاکہ گھریلو صارفین پر انحصار کم ہو۔ عوامی آگاہی مہم کے ذریعے صارفین کو ذم دارانہ استعمال کی ترغیب دی جائے، جبکہ شکایات کے ازالے کے لیے مقامی سطح پر فعال اور جوابدہ نظام قائم کیا جائے۔ سب سے بڑھ کر، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان واضح ذمے داریوں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کی جائے تاکہ فیصلے کاغذوں سے نکل کر عملی صورت اختیار کریں اور کراچی کے شہریوں کو بنیادی سہولت کے لیے روزانہ کی اذیت سے نجات مل سکے۔ نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل