Loading
عمران خان نے جی ایچ کیو حملہ سمیت 9 مئی کے تمام 12 مقدمات کا وڈیو لنک وٹس ایپ کال ٹرائل ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ میں چیلنج کر دیا۔
سلمان اکرم راجہ اور فیصل محمود ملک ایڈووکیٹس نے درخواست میں موقف اپنایا کہ وڈیو لنک ٹرائل کا نوٹیفیکیشن شفاف ٹرائل اور آرٹیکل 10 ۔اے سے متصادم ہے، ٹرائل اڈیالہ جیل اوپن کورٹ میں کیا جائے یا عمران خان کو جیل سے عدالت پیش کرنے کا حکم دیا جائے۔
عمران خان کی گزشتہ 2 ماہ سے وکلا تک رسائی نہیں ہے، بغیر کلائنٹ سے مشاورت کے کیس کی پیروی نہیں کر سکتے، یہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، یہ نوٹیفیکیشن غیر آئینی، غیر قانونی اور انتقامی کارروائی ہے، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت کے لیے علیحدہ درخواست بھی دائر کی گئی ہے۔
وکیل صفائی کے مطابق ملاقات کی اجازت نہ ملی تو وہ کسی بھی کیس میں ٹرائل آگے نہیں بڑھائیں گے۔ عمران خان سے ملاقات کی درخواست انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی میں بھی دائر کر دی گئی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل