Loading
ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ گاؤٹ (آرتھرائٹس کی سب سے عام قسم) کے لیے لکھی جانے والی عام دوا کی اگر مناسب خوراک استعمال کی جائے تو ہارٹ اٹیک اور فالج کے خطرات کم کر سکتی ہے۔
آرتھرائٹس کی یہ قسم جوڑوں میں یورک ایسڈ کے کرسٹل جمع ہوجانے کے سبب ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے جوڑوں میں اچانک اور شدید درد ہو سکتا ہے۔
ایلوپیورینول جیسی دوا سے (اگر صحیح مقدار میں استعمال کی جائے تو) یورک ایسڈ کی سطح کم اور کرسٹل تحلیل ہو جاتے ہیں۔
مریضوں کو عموماً بتایا جاتا ہے کہ انہیں اپنے خون میں 360 مائیکرو مول فی لیٹر سے کم کی سطح رکھنی چاہیے۔
تحقیق میں گاؤٹ کا تعلق قلبی بیماریوں کے خطرات میں اضافے سے قائم کیا گیا ہے جن میں ہارٹ اٹیک اور فالج شامل ہیں۔
یہ تحقیق 1 لاکھ 9 ہزار 504 ایسے افراد میں کی گئی جو گاؤٹ میں مبتلا تھے اور ان میں یورک ایسڈ کی مقدار زیادہ تھی۔ ان تمام مریضوں کی عمر 18 یا اس سے زیادہ تھی۔
ان افراد کو دو گروہوں میں تقسیم کیا گیا اور ایک گروہ کو یورک ایسڈ کم کرنے والی ادویات دی گئی جن میں سب سے عام ایلوپیورینول تھی۔
محققین نے اس بات کا جائزہ لیا کہ کیا پہلے نسخے کے بعد پانچ سال کے اندر دل کے دورے، فالج یا دل سے متعلق کتنی اموات ہوئیں۔
تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ پانچ برس دوران دوا لینے والے افراد میں دل کی بیماریوں کا خطرہ دوسرے گروپ کے مقابلے میں کم تھا جبکہ گاؤٹ کا درد بھی کم اٹھا تھا۔
جن مریضوں میں یورک ایسڈ کی سطح 300 مائیکرو مول فی لیٹر سے نیچے آگئی تھی ان میں یہ خطرات مزید کم ہوگئے تھے۔
یہ تحقیق جاما انٹرنل میڈیسن میں شائع ہوئی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل