Loading
موسمیاتی تبدیلیوں نے جہاں پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، وہیں پاکستان بھی اس بدلتے موسم کی شدت کو محسوس کر رہا ہے۔ ہمارے بچپن میں مارچ کے اختتام تک بارشیں اپنا پورا جوبن دکھاتی تھیں،آسمان بار بار برستا تھا اور موسم میں ایک خاص تازگی محسوس ہوتی تھی مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ بارشیں کم ہوتی چلی گئیں۔
اس سال تو یوں محسوس ہوا جیسے بارش ہم سے روٹھ ہی گئی ہو اور جو چند بوندیں برسیں بھی، وہ موسم کے مزاج میں کوئی نمایاں تبدیلی پیدا نہ کر سکیں۔
لاہور جو کبھی خون جما دینے والی سردی کے لیے مشہور ہوا کرتا تھا، اس بار سموگ اور دھند کی موٹی چادر میں ہی لپٹا رہا۔ پورے موسم سرما میں چند ہی دن ایسے آئے جب سردی نے اپنی اصل جھلک دکھائی، وہ بھی اس حد تک کہ معمول کے گرم کپڑوں میں گزارا ہو گیا۔
کہاں اس لاہور کی سردی، جب رات کو کہرا پڑتا، صبح اٹھتے تو درختوں، پتوں اور کھلے میدانوں پر اس کہرے کی سفید تہہ جمعی نظر آتی تھی ، لاہور کے شہری سوجی، گاجر، دال اور پیٹھے کے حلوے ، پوریاں، کچوریاں، گرما گرم دودھ جلیبیاں، بداموں والی کشمیری چائے اور رنگ برنگے مشروبات سے لطف اندوز ہوا کرتے تھے۔
لوگ گرم ملبوسات میں ملبوس گیس ہیٹر کے سامنے بیٹھ کر خشک میوہ جات سے جسم کو حرارت پہنچانے کی کوشش کرتے تھے۔
اس بار سردیوں کی یاد میں اگر کسی چیز سے انصاف ہوا تو وہ خشک میوہ جات تھے۔سردیوں کی یہ یاد شاید اس لیے بھی زیادہ شدت سے دل میں اتر رہی ہے کہ ایک طویل عرصے کے بعد پنجاب حکومت نے لاہور بلکہ پنجاب اور پورے پاکستان کے روایتی تہورا بسنت کو بحال کرنے کا دلیرانہ فیصلہ کیا ہے۔
لاہوریوں کے نزدیک بسنت محض ایک تہوار نہیں بلکہ بہار کی آمد کا اعلان ہوتی ہے۔ ہر سال یہ تہوار فلک شگاف نعروں کے ساتھ منایا جاتا تھا مگر افسوس کہ ہمارے اپنے ہی کچھ لوگوں نے اس خوبصورت موسمی جشن کو ذاتی مفادات اور سیاست بازی کی نذر کر دیا۔
دیکھتے ہی دیکھتے یہ تہوار خوشیوں کے بجائے خونریزی کی علامت بن گیا اور وہ وقت بھی آیا جب حکومت کو مجبوراً اس عظیم ثقافتی تہوار پر پابندی عائد کرنا پڑی۔
یوں پچھلے کئی برسوں سے بہار خاموشی سے آتی اور گزر جاتی رہی۔ بسنت کے ذریعے جو ڈھول ڈھمکوں کے ساتھ بہار کی آمد کا اعلان ہوتا تھا وہ کہیں کھو گیا۔
بسنت لاہور کا سالانہ ثقافتی تہوار تھا اور ہے، جب بھی یہ تہوار منایا جاتا، دنیا بھر سے لوگ شریک ہوتے اور چند دنوں کے لیے لاہور بسنتی رنگوں میں ڈوب جاتا۔ پرویز مشرف کے دور میں اس تہوار کو نئی جہت اور سرکاری سرپرستی ملی اور یہ تہوار پورے پاکستان میں منایا گیا بلکہ یہ عالمی تہوار بن گیا۔
اندرون لاہور کی قدیم عمارتیں رنگ برنگی روشنیوں سے جگمگا اٹھتیں، رات بھر لاہوری کھانوں کی خوشبو اور ’’بو کاٹا‘‘ کی صدائیں فضا میں گونجتی رہتیں۔
کچھ چھتوں پر گانوں، رقص اور سرور کی محفلیں سجتیں جہاں پتنگ باز گڈیاں اور پتنگیں اڑانے کے ساتھ ساتھ مہمانوں کو بوقت ضرورت محفوظ طریقے سے نیچے اتارنے کی ذمے داری بھی نبھاتے تھے۔
اب محترمہ مریم نواز نے اس تہوار سے پابندی ہٹانے کا فیصلہ کیا۔ اس بار سخت ترین حفاظتی انتظامات اور خلاف ورزی پر کڑی سزاؤں کا اعلان کیا گیا ہے۔
میرے اپنے بچے اس دور میں جوان ہوئے جب بسنت پر پابندی تھی۔ جب میں نے ان سے پوچھا کہ کیا تمہیں یاد ہے لاہور میں بسنت منائی جاتی تھی تو جواب ملا کہ بسنت کا نام تو سنا ہے مگر ساتھ ہی سوال بھی آیا کہ آخر بسنت ہوتی کیا تھی؟
ہم نے اپنی نئی نسل سے کئی خوشیاں اور تہوار چھین لیے ہیں جن کی بنیادی وجہ انتہاپسند نظریات ، دہشت گردی اور سیکیورٹی کا وہ مسئلہ ہے جس نے ملک کے حسن کو گہنا دیا ہے۔ کئی میلے اور ثقافتی تقریبات صرف اس لیے بند کر دی گئیں کہ ہم ان میں شریک لوگوں کی حفاظت یقینی نہیں بنا سکتے یا انتہاپسندوں کے دباؤ میں آگئے۔
نوجوانوں کو اپنی ثقافت سے دور کر کے ہم نے انٹرنیٹ اور موبائل فون کے حوالے کر دیا جہاں وہ ایک مصنوعی دنیا میں کھو کر اپنے اردگرد کی حقیقت سے بے خبر ہو جاتے ہیںاور یہ خرافات ان کی ذہنی بالیدگی میں انتشار پیدا کر رہی ہیں۔
ہم نے اکثر اپنی بدانتظامی کو چھپانے کے لیے سیکیورٹی جیسے بہانوں کا سہارا لیا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ جب انتظامیہ کمزور ہو جائے تو بدانتظامی لازمی طور پر فروغ پاتی ہے۔
پتنگ بازی صدیوں پرانی ایک تفریح اور کھیل ہے، یہ دنیا کے تقریباً ہر ملک اور تہذیب میں موجود ہے مگر جب لوگوں کو بے لگام چھوڑ دیا جائے تو تفریح بھی حد سے تجاوز کر جاتی ہے۔
بسنت کے ساتھ بھی یہی ہوا اور خوشی کا یہ ذریعہ ایک بے رحم قتل گاہ میں بدل گیا یہاں تک کہ معاملہ عدالتوں تک جا پہنچا۔ ابتدا میں حکومتی ڈھیل کا فائدہ اٹھایا گیا بڑے لوگ بسنتی رنگ میں رنگنے کو تیار تھے، اس لیے سختی نہ کی گئی، نتیجتاً ڈور کی لگام ڈھیلی پڑ گئی۔
جب بسنتی رنگ سرخ ہونے لگا تو اچانک سب کچھ بند کرنے کا اعلان ہو گیا۔اس فیصلے نے لاہوریوں کو ایک طویل عرصے تک اداس رکھا۔ وہ بہار کا استقبال بسنت کے روایتی انداز میں تو نہ کر سکے مگر بسنت کی یاد میں اکٹھے ہو کر دو چار آنسو ضرور بہاتے رہے۔
آج انھی آنسوؤں کو پونچھنے کی کوشش محترمہ مریم نواز کر رہی ہیں جنھوں نے پاکستان کے ثقافتی تہوار کو بحال کرنے کا دلیرانہ قدم اٹھا کر پاکستانیوں خصوصاً لاہوریوں کے دل جیتنے کی کوشش کی ہے۔
ہماری دعا ہے کہ لاہوریوں کے بسنت پالا اُڑنت کے نعروں میں یہ خوبصورت تہوار خیر و عافیت سے گزرے اور لاہور ایک بار پھر بہار کے رنگوں میں نہا جائے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل