Tuesday, February 17, 2026
 

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس

 



اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین سینیٹر شہادت علی اعوان کی صدارت میں جاری رہا، اجلاس میں میٹرو بس سے متعلق بل پیش کیا گیا۔ سی ڈی اے حکام نے کہا کہ میٹرو کے معاملے پر ونگ بنانے کی سفارش کی گئی تھی اور وزارت قانون کی جانب سے رہنمائی درکار ہے، سینیٹر سرمد علی نے کہا کہ الگ ادارہ نہیں بلکہ ونگ بنایا جائے گا، وزارت قانون حکام نے کہا کہ اگر ادارہ اس کو لے کر چلے تو کوئی اعتراض نہیں۔ سینیٹر سرمد علی نے بل میں کی گئی تبدیلیوں سے آگاہ کرنے کا مطالبہ کیا، وزارت قانون حکام نے کہا کہ ترمیم کے حوالے سے کچھ شیئر نہیں کیا گیا، وزارت داخلہ حکام نے کہا کہ بل شیئر کیا جائے تاکہ رائے دی جا سکے۔ وزارت قانون حکام کے مطابق اس پر کام کیلئے وقت درکار ہوگا، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پوچھے گئے سوالات کے اصل جواب نہیں دیے جا رہے، سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ موور کا رائٹ ہوتا ہے اور بات کرنے والوں کو خاموش کرایا جاتا ہے، چیئرمین کمیٹی نے بل کو اگلی میٹنگ میں دیکھنے کا فیصلہ کیا۔ اجلاس میں اسلام آباد کے ماسٹر پلان پر چیئرمین سی ڈی اے کو بریفنگ دینے کی ہدایت کی گئی، سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ چیئرمین سی ڈی اے کمیٹی میں پیش نہیں ہوتے اور انہیں طلب کیا جائے، سینیٹر طلحہ محمود نے ڈی پی او اپر چترال، آئی جی کے پی اور دیگر افسران کو طلب کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دہشت گردی کے مقدمات، شیڈول فور، پولیس گاڑیوں کے ناجائز استعمال اور 38 کروڑ روپے کے معاملے کی نشاندہی کی۔ سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ گلگت بلتستان کو تقسیم کیا جا رہا ہے، اجلاس میں اغواء کے واقعات، افغانستان بارڈر کی صورتحال، مغویوں پر تشدد اور کابل سے بازیابی کا ذکر کیا گیا۔ سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ اس حوالے سے رپورٹ منگوائی جائے گی جبکہ سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ طاقت کے زور پر غیر قانونی کام ہو رہے ہیں اور بروقت اقدام نہ کیا جاتا تو ملک بھر میں طوفان آ جاتا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل