Loading
امریکی شہری حقوق کے عظیم رہنما جَیسّی جیکسن 84 برس کی عمر میں طویل علالت کے بعد جہان فانی سے کوچ کرگئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا میں شہری حقوق کی تحریک کے صفِ اول کے رہنما، ممتاز مذہبی شخصیت اور ڈیموکریٹک سیاست کے نمایاں چہرے 84 سالہ جَیسی جیکسن اعصابی بیماری میں مبتلا تھے۔
جَیسّی جیکسن ایک دہائی سے زائد عرصے سے پالسی نامی اعصابی بیماری میں مبتلا تھے۔ اس سے قبل انھیں پارکنسنز کی تشخیص بھی ہوئی تھی جب کہ دو مرتبہ کووِڈ-19 کے باعث اسپتال میں زیرِ علاج بھی رہے ہیں۔
ان کے اہلِ خانہ نے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جیسّی جیکسن نہ صرف اپنے خاندان بلکہ دنیا بھر کے مظلوم، بے آواز اور نظرانداز کیے گئے لوگوں کے لیے ایک خدمت گزار رہنما تھے۔
شہری حقوق کی تحریک میں کردار
1960 کی دہائی سے شہری حقوق کی تحریک اور ڈیموکریٹک سیاست کا مستقل حوالہ بننے والے جیکسن، عظیم رہنما مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کے قریبی ساتھی اور شاگرد رہے۔
مارٹن لوتھر کے ہمراہ اور پھر ان کے بعد بھی جیسی جیکسن نے نسلی امتیاز، غربت اور معاشی عدم مساوات کے خلاف جدوجہد کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔
صدارتی سیاست اور رینبو کولیشن
جَیسّی جیکسن نے 1984 اور پھر 1988 میں ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے صدارتی نامزدگی کے لیے بھرپور مہم چلائی تھی۔
1988 کی صدارتی مہم میں ان کی جاندار کارکردگی نے امریکی سیاست میں سیاہ فام امیدواروں کے لیے نئی راہیں کھولیں۔
بعد ازاں پہلے سیاہ فام امریکی صدر باراک اوباما نے اعتراف کیا کہ جیسّی جیکسن کی جدوجہد نے ان کی کامیابی کی بنیاد رکھی۔
جیکسن نے رینبو کولیشن کے تصور کو فروغ دیا، جس کا مقصد سیاہ فام، غریب، محنت کش اور دیگر محروم طبقات کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنا تھا۔
ان کی قائم کردہ تنظیم نے تعلیم، روزگار اور معاشی انصاف کے لیے عملی اقدامات کیے جن کے تحت ہزاروں خاندانوں کو مالی امداد اور لاکھوں ڈالر کے تعلیمی وظائف فراہم کیے گئے۔
یاد رہے کہ جَیسی جیکسن 8 اکتوبر 1941 کو جنوبی کیرولائنا کے شہر گرین ویل میں پیدا ہوئے اور زمانہ طالب علمی کے زمانے ہی سے امتیازی قوانین کے خلاف آواز اٹھائی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل