Thursday, February 19, 2026
 

ایف بی آر نے کاروبار کو ٹیکس نظام سے منسلک کرنے کیلیے ایک ہفتے کی مہلت دیدی

 



ایف بی آر نے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لیے اہم قدم اٹھاتے ہوئے تمام رجسٹرڈ کاروباروں کو ایک ہفتے کے اندر اپنے نظام کو ایف بی آر کے ساتھ منسلک کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے جس میں مقررہ مدت کے اندر تعمیل لازمی قرار دی گئی ہے۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ پوائنٹ آف سیلز مشین استعمال کرنے والے تمام کاروباری یونٹس کو ایف بی آر کے مرکزی نظام سے جوڑا جائے گا۔ اس فیصلے کا اطلاق ہوٹلوں، گیسٹ ہاؤسز، میرج ہالز اور مختلف کلبز پر بھی ہوگا جبکہ انٹر سٹی ٹرانسپورٹ، کورئیر سروسز اور کارگو آپریٹرز کو بھی اس عمل کا پابند بنایا گیا ہے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ بیوٹی پارلرز، سلمنگ سینٹرز اور بیوٹی کلینکس کو لازمی طور پر ایف بی آر کے ساتھ رجسٹریشن مکمل کرنا ہوگی۔ اسی طرح ہئیر ٹرانسپلانٹ مراکز، نجی کلینکس، ڈینٹل کلینکس اور پلاسٹک سرجنز کے کاروبار بھی اس نئے ٹیکس نظام کے تحت لائے جائیں گے تاکہ ان کی آمدن کا ریکارڈ مرکزی ڈیٹا سے منسلک رہے۔ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ لیبارٹریز، ویٹرنری ڈاکٹرز، ڈائیگناسٹک اور ایکسرے سینٹرز، نجی اسپتال، پرائیویٹ کنسلٹنٹس اور دیگر ہیلتھ کیئر سروسز فراہم کرنے والے ادارے بھی اس پابندی کے دائرے میں آئیں گے۔ اسی طرح ہیلتھ کلبز، سوئمنگ پولز، فٹنس سینٹرز اور ملٹی پرپز کلبز کو بھی ٹیکس نظام سے جوڑنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ایف بی آر کے مطابق بڑے اور معروف کلبز بشمول کراچی جمخانہ، رائل پام، چناب کلب، اسلام آباد کلب اور لاہور جمخانہ کو بھی اس نظام میں شامل کیا جائے گا۔ مزید برآں چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس فرمز اور کاسٹ و مینجمنٹ خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ تعلیمی ادارے جہاں ماہانہ فیس ایک ہزار روپے ہے، انہیں بھی ایف بی آر کے نظام سے منسلک ہونا ہوگا۔ انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 33 کے تحت اس نظام سے وابستگی بنیادی شرط قرار دی گئی ہے اور متعلقہ کاروباروں کو پوائنٹ آف سیلز مشین نصب کرنا لازمی ہوگا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل