Loading
سپریم کورٹ نے اپنی بیوی کی سگی بھتیجی سے زیادتی کر کے جھوٹے نکاح کا دعویٰ کرنے والے شخص پر 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کردیا۔
چیف جسٹس یحیٰی آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے محمد شہزاد کی اپیل خارج کر دی، پٹیشنر نے اپنی بیوی کی سگی بھتیجی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور اسے شرعی نکاح کا رنگ دینے کی کوشش کی۔
پٹیشنر پہلے سے شادی شدہ ہے اور اس کی قانونی بیوی متاثرہ لڑکی کی سگی پھوپھی ہے، پھوپھی کی موجودگی میں اس کی سگی بھتیجی سے نکاح قانونی طور پر ممنوعہ حد میں آتا ہے اور یہ جائز نہیں ہو سکتا۔
پٹیشنر نے قانونی رکاوٹ سے بچنے کے لیے اپنی پہلی بیوی کو طلاق دینے کا من گھڑت دعویٰ کیا، پٹیشنر نے اپنے انسانیت سوز فعل کو چھپانے کے لیے جھوٹی کہانی گھڑی جس کا کوئی قانونی ثبوت نہیں۔
سپریم کورٹ نے پٹیشنر کو متاثرہ خاتون سے پیدا ہونے والے بچے کا حیاتیاتی والد قرار دیا، نکاح ثابت نہ ہونے کے باوجود حیاتیاتی والد اپنے بچے کو نان و نفقہ دینے کا قانونی اور اخلاقی پابند ہے۔
معصوم بچے کو والدین کے غیر قانونی تعلق یا تنازعات کی وجہ سے اس کے بنیادی حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
پٹیشنر نے عدالتی عمل کو خاتون کو ہراساں کرنے اور اخلاقی طور پر دبانے کے لیے بطور آلہ استعمال کیا، آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت ہر انسان کے وقار کی حرمت ناقابلِ تسخیر ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل