Loading
ڈونلڈ ٹرمپ کے تشکیل کردہ بورڈ آف پیس کا پہلا اجلاس واشنگٹن میں ہوا جس میں امریکی صدر نے غزہ میں مختلف ممالک کی فورسز کی تعیناتی کی تفصیلات بھی بتائیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افتتاحی تقریب سے خطاب میں جہاں ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کے غزہ میں جلد غیرمسلح ہونے کا امکان ظاہر کیا وہیں حماس کے بعد تعینات ہونے والی غیرملکی فورسز سے متعلق معلومات بھی دیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے بتایا کہ انڈونیشیا، مراکش، البانیہ، کوسوو اور قازقستان غزہ میں سیکیورٹی کے لیے قائم کی گئی عالمی استحکامی فورس کے لیے اپنی اپنی فوج اور پولیس بھیجیں گے۔
صدر ٹرمپ نے عالمی استحکامی فورس میں شمولیت پر آمادگی ظاہر کرنے والے ان ممالک کا نام لے کر شکریہ بھی ادا کیا اور ان کے تعاون کو سراہا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ ممالک غزہ میں سیکیورٹی، نظم و نسق اور انسانی امداد کے تحفظ میں کردار ادا کریں گے جب کہ مصر اور اردن بھی اس عمل میں انتہائی اہم تعاون فراہم کر رہے ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ مصر اور اردن ایک قابلِ اعتماد فلسطینی پولیس فورس کے قیام کے لیے فوج، تربیت اور مکمل تعاون فراہم کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ عالمی استحکامی فورس میں شامل ہونے کے خواہش مند ممالک نے اس شرط پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ ان کے دستے محدود نوعیت کے امن مشنز انجام دیں گے، جن میں سرحدی نگرانی، امدادی قافلوں کا تحفظ اور حساس تنصیبات کی حفاظت شامل ہیں۔
امریکی حکام کے بقول ان ممالک نے واضح کیا ہے کہ وہ ایسے آپریشنز میں حصہ نہیں لینا چاہتے جن میں حماس یا دیگر مزاحمت پسند گروہوں سے براہِ راست لڑائی اور اسلحہ ضبط کرنے جیسے اقدامات شامل ہوں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل