Loading
جب سے ہوش سنبھالا ہے ریاست و حکومت پر تنقید سنتا، پڑھتا آیا ہوں۔ ریاست و حکومت سے شکوے زبان زد عام تھے مگر جب تک کمانے کی مشقت سے آزاد اپنے مرشد و مربی باباجان رحمہ اللہ کی کمائی پر گزر بسر ہو رہی تھی سوچتا تھا کہ ریاست تو ماں ہوتی ہے اور ماں اتنی بری کیسی ہوسکتی ہے؟ مگر جب اپنا اور بچوں کا بوجھ میرے کندھوں پر پڑا تو پتہ چل گیا کہ سیر سے کتنی پکتی ہے۔ مگر خدا گواہ ہے کہ کافی عرصے تک یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ ریاست میرے ساتھ زیادتی کر رہی مگر اب صورتحال یہ ہے کہ میرا جیسا بندہ جو ریاست کو ماں کہہ کر پکارنے کا عادی تھا وہ یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ ماں جیسی جان کی دشمن بن کر ظلم کرنے لگ گئی ہے آخر میرے جیسے کروڑوں پاکستانی یہ سوچنے پر کیوں مجبور ہوئے کہ ریاست ہمارے ساتھ ظلم کرنے پر اتر آئی ہے۔
اگرچہ نابیناؤں کے شہر میں جرم بصارت اور جرم جسارت ناقابل معافی جرائم ہیں اور بسا اوقات تمام نابینا اس جرم کی پاداش میں صاحب بصارت و جسارت پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ مگر بصارت رکھنے والے نابینا شہر میں آئینہ بن کر بصارت و جسارت کا جرم کرنا پڑتا ہے۔
بقول و قلم احمد ندیم قاسمی:
زندگی کے جتنے دروازے ہیں مجھ پہ بند ہیں
دیکھنا حد نظر سے آگے بڑھ کر دیکھنا بھی جرم ہے
سوچنا اپنے عقیدوں اور یقینوں سے نکل کر سوچنا بھی جرم ہے
آسماں در آسماں اسرار کی پرتیں ہٹا کر جھانکنا بھی جرم ہے
کیوں بھی کہنا جرم ہے کیسے بھی کہنا جرم ہے
سانس لینے کی تو آزادی میسر ہے مگر
زندہ رہنے کے لیے انسان کو کچھ اور بھی درکار ہے
اور اس کچھ اور بھی کا تذکرہ بھی جرم ہے
اے خداوندان ایوان عقائد
اے ہنر مندان آئین و سیاست
زندگی کے نام پر بس اک عنایت چاہیئے
مجھ کو ان سارے جرائم کی اجازت چاہیئے
اس امید پر کہ شہر نابینا کے ایوان اقتدار میں بیٹھے نابیناؤں نے مجھے جرم بصارت و جسارت اجازت دینگے بات آگے بڑھاتا ہوں۔ پاکستان دنیا کا وہ واحد، انوکھا اور بدقسمت ملک ہے جہاں عوام پر بین الاقوامی اور مقامی دہشتگردوں کے ساتھ اپنے حکمران بھی حملہ آور رہتے ہیں۔ کبھی پٹرول، بجلی اور گیس بم گرا کر اور کبھی مہنگائی کی آگ بھڑکا کر۔ حکمران عوام کو معاشی اور ذہنی طور پر مفلوج کرنے کا کوئی موقع ضایع نہیں کرتے، عام عوام خصوصاً تنخواہ دار طبقہ مہینے کے پہلے عشرے میں نہ رکنے والے ریاستی معاشی دہشتگردی کی وجہ سے ہی ہانپنے لگتا ہے۔ تنخواہ دار اور اوسط درجے کا کاروباری طبقہ غیر منصفانہ ٹیکسوں کے بوجھ تلے کراہتے اور عوام دشمن ترجیحات کی وجہ سے کاروبار کا پہیہ منجمد ہو چکا ہے، آخر کیوں عام عوام لاوارث ہیں ؟ اور وہ آخر جائیں کہاں؟
عام عوام ہر روز نئے نرخنامے کے ساتھ اپنی ترجیحات بدلنے پر مجبور اور ہر مہینے بجلی کے بل عام عوام کی معاشی لاشوں پر دھما چوکڑی کرنے آجاتے ہیں۔
چھوٹا کاروباری سوچ رہا ہے کہ کاروبار جاری رکھے یا شٹر گرا کر فاقوں پر گزارہ کرے۔ ایک وقت کھانے والا دیہاڑی دار مزدور شیر خوار بچوں کے "پانی میں دودھ ملانے" پر مجبورہے۔ ریاستی جبر کے ہاتھوں زندہ لاشوں کی دل چیرنے والی کہانیاں چاروں طرف بکھری پڑی ہیں، عام عوام کو آج تک کبھی محسوس نہیں ہوا کہ موجودہ یا سابقہ حکمرانوں کی ترجیحات میں عام عوام بھی ہیں۔ یہاں تو ہر پالیسی عام عوام کے گلے کا پھندا ثابت ہوتی ہے، مگر آج بجلی کے نہ ختم ہونے والے ریاستی جھٹکوں پر بات کرتے ہیں۔ بجلی کے بل پر نظر ڈالنے پر کئی جھٹکے محسوس ہوتے ہیں۔ بجلی کی قیمت کے علاوہ پتہ نہیں کس کس نام سے سرچارج وصول کیے جاتے ہیں، بعض اوقات استعمال شدہ بجلی کی قیمت، واجب الادا رقم کے 30 فیصد سے بھی کم ہوتی ہے۔
ٹیکسوں کی بھرمار کے علاوہ بروقت بجلی کا بل ادا کرنے کے جرم میں بجلی چوروں کی استعمال شدہ بجلی کو لائن لاسز کی ٹوپی پہنا کر عام عوام سے وصول کیا جاتا ہے۔ بجائے چور کو پکڑنے اور سزا دینے کے بل دینے والوں سے ان کا بل لیا جاتا رہا مگر عوام دشمن حکمرانوں کی تسلی نہیں ہو رہی تھی شاید اس لیے پاکستان کی تقدیر بدلنے والے سی پیک منصوبے کو بھی عام عوام کے گلے کا پھندا اور بجلی کے جھٹکے دینے والی کرسی اس انداز میں بنائی گئی کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ یہ المیہ نہیں حکمرانوں کی نااہلی اور عوام دشمنی کا ثبوت ہے کہ ایٹمی پاکستان میں ٹیکسوں اور اضافی سرچارجز کے زہر آلود ماہانہ بھاری بھرکم بلوں کی ادائیگی کے باوجود لوڈشیڈنگ کے اندھیروں نے عوام کا جینا دو بھر کیا تھا۔
لوڈشیڈنگ سے نجات اور سی پیک پروجیکٹ کے بیسیوں انڈسٹریل اسٹیٹس کے ضروریات پورا کرنے کے نام پر پرائیویٹ اداروں کے ساتھ مل کر بدنام زمانہ آئی پی پیز کا ڈرامہ رچایا گیا۔ رئیس زادوں اور سرکاری دامادوں کو اربوں روپے کے قرضے آسان شرائط پر دلوائے گئے تو ہر ایک نے "حسب استطاعت و ضرورت" قرضے کی حاصل کردہ رقم سے خطیر رقوم ملک سے باہر اپنے بے نامی اکاؤنٹس میں ٹرانسفر کردئے۔ 10-15 فیصد سے سرکاری مڈل مینز کی دوزخ کو بھر کر دو نمبر مشینری منگوائی اور حکومت نے آئی پی پیز کو لائسنس جاری کیے۔
گرمیوں میں گھریلو اور صنعتی صارفین کو کل 22ہزار میگاواٹ اور سردیوں میں 8 ہزار میگاواٹ بجلی کی ضرورت ہوتی ہے، آئی پی پیز سے پہلے گرمیوں کے موسم میں 8 ہزار میگاواٹ واٹ کے لگ بھگ بجلی کی کمی کا سامنا تھا جس کو پورا کرنے کے لیے ناعاقبت اندیش حکمرانوں اور بیوروکریسی نے اپنی جیبیں بھرنے اور سرمایہ کاروں کو نوازنے کے لیے آئی پی پیز سے 46 ہزار میگاواٹ بجلی خریدنے کے لیے گارنٹیاں دے کر معاہدے کر لیے یعنی اس وقت کی ضرورت سے لگ بھگ 38 ہزار میگاواٹ زیادہ کے لیے معاہدے کیے گئے۔ اس وقت اور آج بھی ہماری ٹرانسمیشن لائنز میں 25 ہزار میگاواٹ سے زیادہ ترسیل کی سکت نہیں اور گرمیوں میں مسلسل ٹرانسمیشن لائنز اور ٹرانسفارمرز ٹرپ ہونے کی وجہ سے ملک اندھیروں میں ڈوبتا رہتا ہے۔سمجھ میں نہیں آتا کہ ٹرانسمیشن کی ترسیلی سکت سے 35 ہزار میگاواٹ زیادہ بجلی کے معاہدے کیوں کیے گئے؟ جس کی وجہ سے آئی پی پیز کو ایک یونٹ بجلی پیدا کیے بغیر فکسڈ چارجز کی مد میں اربوں روپے ادا کیے جاتے ہیں۔
ایک طرف عام عوام کے جیبوں پر اربوں روپے کا ڈاکہ ہر ماہ ڈالا جاتا ہے اور دوسری طرف سرمایہ داروں بلکہ ان کی آیندہ آنے والی نسلوں کو بھی مالا مال کیا جا رہا ہے۔ یعنی ماں جسی ریاست اپنے سگے بچوں کی قومی خزانے سے اربوں روپے کی لوٹ مار کی وصولی اپنی سوتیلی اولاد (عام عوام) سے کر رہی ہے۔ ریاست بجلی چوروں کی چوری، آئی پی پیز کی لوٹ مار اور کارخانہ داروں کو دی گئی رعایتی بجلی کا بوجھ عوام پر ڈالنے اور اپنا حصہ لے کر ہر ذمے داری سے بری الزمہ ہو جاتی ہے۔ جب بجلی کے بل عام عوام کے گھروں، دکانوں، فیکٹریوں اور کارخانو ں کے بجٹ کو نگلنے لگے تو حکومت و ریاست سے مایوس عام عوام نے ماحولیاتی آلودگی کا سبب بننے والی بجلی کے بھاری بھرکم بلوں سے نجات پانے کے لیے اپنی مدد آپ کے تحت اپنے گھروں کے چھتوں پر سولر پینل لگا کر ماحول دوست بجلی (گرین انرجی) بنانا شروع کیا تو حکومت نے عوام کے فلاح و بہبود اور آسانی کے نام پر سولر انرجی پالیسی اور نیٹ میٹرنگ کو دن رات پروموٹ کیا تو عام عوام ان کے دھوکے میں آگئے، کسی نے اپنی جمع پونجی، کسی نے بیوی بچوں کے زیور بیچ کر اور کسی نے قرض لے کر اپنے گھر کے چھت پر منی آئی پی پی لگا لیے، آج تک کم و بیش 4 لاکھ 60 ہزار پاکستانیوں نے اپنی حلال کمائی کے اربوں روپے لگا کر یہ منی آئی پی پیز لگائے اور حکومت وقت نے ان کے ساتھ 7 سالہ نیٹ میٹرنگ کے معاہدے کیے۔
(جاری ہے)
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل