Loading
غیر منقسم برصغیر میں فلمیں تفریح کا واحد ذریعہ تھیں، اس وقت پنجابی فلموں اور اردو ادب کا مرکز لاہور تھا، جب کہ اردو اور ہندی فلموں کا مرکز بمبئی (ممبئی) تھا، جب بلیک اینڈ وائٹ فلموں کا دور تھا، سوہنی مہینوال پہلی پنجابی فلم تھی جس کا میوزک ماسٹر غلام حیدر نے دیا تھا، ابتدا میں بہت بڑے بڑے نام فلمی دنیا میں سامنے آئے جنھوں نے فلموں کو ایسے ایسے موضوعات دیے کہ دیکھنے والے دنگ رہ گئے، ان ابتدائی موسیقاروں، ہدایت کاروں، پروڈیوسر اور لکھاریوں کی ایک کہکشاں ہے جو کوندتی نظر آتی ہے۔
اس دور میں نتن بوس، دیویکا رانی، ستارہ دیوی، کے آصف، ڈائریکٹر محبوب، تارا چندر بھاٹیہ، طلعت محمود، راج کمار، ایس ایس واسن نمایاں تھے۔ اداکاروں میں پرنس آف منروا مودی ٹون صادق علی، پرتھوی راج کپور، مدھوبالا، دلیپ کمار، نرگس، نلنی جیونت، ثریا اور مینا کماری بہت خاص ہیں جنھوں نے لاجواب فلمیں شائقین کو دیں۔ کے آصف کی مغل اعظم، کمال امروہوی کی پاکیزہ، محبوب کی مدر انڈیا خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
فلمی ستاروں کی کہکشاں کا ایک چمکتا ستارہ تھا وی شانتا رام جو اداکار، ہدایت کار، پروڈیوسر اورکہانی کار تھے۔ یہ سب سے الگ اور منفرد تھے، انھوں نے بڑی شاہکار فلمیں فلم بینوں کو دیں۔ وی شانتا رام کا جنم کولہاپور میں 18 نومبر سن 1901 میں ہوا۔ ان کا پورا نام راجہ رام وانکوندرے رکھا گیا، شانتا رام کا من پڑھائی میں نہیں لگتا تھا۔ ابتدا میں انھوں نے گندھروا ناٹک منڈلی میں پردہ کھینچنے کے کام سے اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا۔ شانتا رام کافی وجیہ اور خوبصورت انسان تھے۔ قد چھ فٹ تھا، یوں لوگوں کی نظروں میں جلد آگئے۔
تھیٹر کے زمانے میں وہ بابو راؤ پینٹر کے رابطے میں آگئے اور فلم بینی کی تربیت حاصل کی۔ شانتا رام نابغہ روزگار تھا، پڑھا لکھا نہ ہونے کے باوجود وہ کافی ذہین اور تیز تھے، وہ بہت جلد فلم کی باریکیوں سے واقف ہوگئے۔ 1925 میں بابوراؤ پینٹر نے انھیں اپنی فلم ’’ساوکاری پاش‘‘ میں ایک کسان کا رول دیا۔ وی شانتا رام فلمی افق پر ایک درخشندہ ستارہ تھا۔ انھوں نے 1927 میں ایک فلم ’’ نیتا جی پالکر‘‘ کی ہدایت کاری بھی کی۔ اس فلم کی ہدایت کاری نے انھیں فلمی دنیا میں ایک سمت دی۔ انھوں نے چار ٹیکنیشنوں کو ساتھ ملا کر اپنی کمپنی ’’ پربھات فلم کمپنی‘‘ کی بنیاد ڈالی۔ اس کمپنی میں چار افراد تھے یہ چاروں فلم کے مختلف شعبوں سے وابستہ تھے۔ 1932 میں شانتا رام نے ’’ایودھیا راجہ‘‘ نامی فلم بنائی جس کا مقصد دادا صاحب پھالکے کو خراج عقیدت پیش کرنا تھا، اس فلم نے فلمی دنیا کو درگا کھوٹے جیسی خوبصورت اداکارہ دی۔
1934 میں انھوں نے ’’امرت نتھن‘‘ نامی فلم بنائی، 1935 میں انھوں نے ’’مہاتما‘‘ نامی فلم بنائی، یہ فلم ذات پات کی تقسیم کے موضوع پر تھی اور ایک جرأت مندانہ کاوش تھی جسے فلم بینوں نے بہت سراہا۔ فلم باکس آفس پر کامیاب رہی اور شانتا رام کا قد بہ حیثیت ہدایت کار اور بھی بلند ہو گیا، یہ لوگ سینما کے معمار تھے۔
وی شانتا رام کی فلمیں موضوعاتی اعتبار سے اچھوتی ہوا کرتی تھیں، انھوں نے زیادہ تر سماجی فلمیں بنائیں جس میں ایک پیغام ہوا کرتا تھا۔ 1936 میں انھوں نے ’’ سنت تکارام‘‘ بنائی جو مہاراشٹر کے ایک مقبول شاعر تھے، اس کردار کو اداکار نے بڑی خوبی سے ادا کیا۔ فلم میں اس قدر سادگی اور نفاست تھی کہ 1937 کے وینس فلم فیسٹیول میں اعزاز سے نوازا گیا اور بڑی پذیرائی ملی۔ یہ پہلی ہندوستانی فلم تھی جسے بیرون ملک سراہا گیا۔
1936 میں ہی انھوں نے ایک فلم ’’ امر جیوتی‘‘ بنائی جو ایک عورت کے کردار کے گرد گھومتی تھی، یہ فلم بھی موضوع کے اعتبار سے ایک اچھوتی فلم تھی۔ 1937 میں انھوں نے فلم ’’ دنیا نہ مانے‘‘ بنائی یہ فلم بھی عورت کے کردار کے گرد گھومتی تھی، اس فلم کو پبلک نے بہت سراہا۔ 1939 میں انھوں نے فلم ’’آدمی‘‘ بنائی، یہ فلم شانتا رام کی یادگار فلموں میں سے ایک ہے۔ 1941 میں انھوں نے فلم ’’ پڑوسی‘‘ بنائی، یہ فلم ہندو مسلم فساد پر بننے والی پہلی فلم تھی، اس فلم کو بھی عوام نے بے حد سراہا۔ یہ ایک شاہکار فلم تھی۔
شانتا رام نے پربھات فلم سے الگ ہو کر اپنی ذاتی فلم کمپنی بنائی اور اس کے تحت فلم ’’شکنتلا‘‘ بنائی۔ اس فلم نے کامیابی کے سارے ریکارڈ توڑ دیے، یہ فلم 104 ہفتے چلی۔ 1946 میں انھوں نے ’’ڈاکٹر کوئنس کی امر کہانی‘‘ بنائی۔ یہ ایک سچی کہانی تھی جسے خواجہ احمد عباس نے فلم کے لیے لکھا تھا، اس فلم کی دیس بدیس خوب پذیرائی ہوئی۔ 1955 میں انھوں نے ’’چھنک چھنک پائل باجے‘‘ 1959 میں ’’نو رنگ‘‘، 1963 میں ’’سہرا‘‘، 1971 میں ’’جل بن مچھلی نرتیہ بن بجلی‘‘ بنائی۔
یہ تمام فلمیں کلاسیکی رقص پر مبنی تھیں، ان فلموں نے شانتا رام کو شہرت کی معراج تک پہنچا دیا۔ خاص کر ’’چھنک چھنک پائل باجے‘‘ کی موسیقی، رقص اور جان دار کہانی کی وجہ سے آج تک شائقین کو یاد ہے۔ بقیہ تینوں فلموں کا موضوع بھی کلاسیکل رقص تھا جسے پبلک نے بے حد پسند کیا، خاص کر ’’ نو رنگ‘‘ اپنے میوزک کی وجہ سے بھی یادگار فلم تھی۔ ایک اور فلم تھی ان کی ’’ دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ یہ ایک لاجواب فلم تھی۔ اس فلم کا ایک گیت برسوں بنا کا گیت مالا میں ریڈیو سیلون سے بجتا رہا، لتا کی آواز میں یہ کورس بہت مقبول ہوا۔
اے مالک تیرے بندے ہم
ایسے ہوں ہمارے کرم
نیکی پہ چلیں اور بدی سے بچیں
تاکہ ہنستے ہوئے نکلے دم
’’ دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ ہر لحاظ سے ایک شاہکار فلم تھی، جسے پوری دنیا میں سراہا گیا، ہدایت کاری کے لحاظ سے، میوزک کے لحاظ سے، مکالمہ کی وجہ سے، فوٹو گرافی ہو یا پروڈکشن ہر لحاظ سے یہ ایک نہایت عمدہ فلم تھی۔ اس فلم کو پہلی بار سان فرانسسکو کے فلمی فیسٹیول میں دکھایا گیا۔ یورپ کے فلم سازوں نے اس فلم کو خوب سراہا۔ اس فلم کے لیے انھیں کئی اعزازات سے نوازا گیا جن میں 1958 میں نیشنل ایوارڈ، اس فلم کے لیے برلن ایوارڈ، OCIC فلم ایوارڈ، 1959 میں گولڈن گلوب ایوارڈ اور سمبل گولڈ گلوب ایوارڈ اور دو اور فلمیں بھی ایسی تھیں جو مدتوں یاد رکھی جائیں گی۔ ایک فلم ’’پرچھائیں‘‘ جس میں شانتا رام نے ہیرو کا اور ان کی بیوی جے شری نے ہیروئن کا رول کیا تھا۔ اس فلم میں سندھیا بھی تھی جو بعد میں شانتا رام کی بیوی بھی بنی۔ فلم ’’پرچھائیں ‘‘ شانتا رام کی اپنی کہانی بن گئی تھی، اس فلم کے دو گیت بہت مقبول ہوئے تھے، ایک طلعت محمود کا گایا ہوا یہ گیت:
محبت ہی نہ جو سمجھے وہ ظالم پیارکیا جانے
نکلتی دل کے تاروں سے جو ہے جھنکارکیا جانے
اور دوسرا لتا کا گایا ہوا یہ گیت جو جے شری پہ فلمایا گیا تھا:
کٹتے ہیں دکھ میں یہ دن پہلو بدل بدل کے
رہتے ہیں دل کے دل میں ارماں مچل مچل کے
شانتا رام نے تین شادیاں کیں، پہلی بیوی کا نام وملا تھا جس سے ان کے کئی بچے ہوئے۔ دوسری بیوی جے شری سے ان کے تین بچے ہوئے اور سندھیا سے ان کے چار بچے ہوئے۔ ایک بیٹی نے ہندوستان کے نامی گرامی کلاسیکل گلوکار پنڈت جسراج سے شادی کی۔ انھیں اپنی سڑسٹھ سالہ زندگی میں بہت سے اعزازات سے نوازا گیا۔ 1985 میں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ اور 1992 میں پدم بھوشن ایوارڈ، 1992 میں ان کا انتقال ہوا۔ ایک اور بلیک اینڈ وائٹ فلم تھی ’’صبح کا تارا‘‘، اس کی ہیروئن جے شری تھی، محبوب خان، کے آصف، کمال امروہوی اور شانتا رام جیسے لوگ کبھی بھلائے نہیں جا سکتے۔ جب بھی برصغیر کی تاریخ لکھی جائے گی اور اس میں فلموں کا ذکر ہوگا تو یہ چار نام سرفہرست رہیں گے۔
شانتا رام بڑے کھلے دل اور اعلیٰ ظرف کے مالک تھے، ان کا کبھی کسی سے جھگڑا نہیں ہوا۔ وہ ایک کامیاب انسان تھے جس سے ان کی شہرت کو چار چاند لگے، لیکن وہ کبھی بد دماغ نہیں رہے۔ ہر ایک سے جھک کر ملنا اور دوسروں کے کام آنا ان کی فطرت تھی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل