Monday, February 23, 2026
 

مودی نے اپنی قوم کو پھر چونا لگادیا؛ تیجس طیارے خزاں رسیدہ پتوں کی مانند گرنے لگے

 



بھارتی حکومت کی دفاعی کمپنی ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ نے لائٹ کامبیٹ ایئرکرافٹ تیجس کے تباہ ہونے کی خبروں کی تردید کردی تاہم شواہد پیش کرنے میں ناکام نظر آئے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق سرکاری دفاعی کمپنی نے بتایا کہ بھارتی فضائیہ کے طیارے کو کوئی حادثہ پیش نہیں آیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ تیجس طیارے کو کوئی حادثہ پیش نہیں آیا بلکہ یہ محض زمین پر پیش آنے والا ایک ’معمولی تکنیکی مسئلہ تھا۔ تاہم اس وضاحت سے قبل بھارتی میڈیا میں خبریں سامنے آچکی تھیں کہ فروری کے اوائل میں ایک فرنٹ لائن ایئر بیس پر تیجس طیارے کو رن وے سے پھسلنے کے باعث شدید نقصان پہنچا اور پائلٹ کو ایجیکٹ کرنا پڑا۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر واقعہ اتنا ہی معمولی تھا تو پھر پائلٹ کے ایجیکشن اور طیارے کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات کیوں سامنے آئیں؟ ناقدین کے مطابق یہ وضاحتیں وزیرِ اعظم مودی کی جانب سے ’’میک اِن انڈیا‘‘ کے نام پر شروع کیے گئے دفاعی منصوبوں کی مسلسل ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہیں۔ ایچ اے ایل نے دعویٰ کیا ہے کہ تیجس دنیا کے محفوظ ترین لڑاکا طیاروں میں شامل ہے، لیکن حقائق اس دعوے سے مختلف نظر آتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں تیجس پروگرام کو متعدد حادثات، تکنیکی خرابیوں اور تاخیر کا سامنا رہا ہے، جن میں 2024 میں راجستھان کے علاقے جیسلمیر کے قریب طیارے کا گر کر تباہ ہونا اور 2025 میں دبئی ایئر شو کے دوران حادثہ شامل ہیں۔ اس کے باوجود مودی حکومت نے فروری 2021 میں 83 تیجس طیاروں کی خریداری کے لیے تقریباً 48 ہزار کروڑ روپے کا معاہدہ کیا جبکہ بعد ازاں مزید 97 طیاروں کے لیے 62 ہزار کروڑ روپے سے زائد کا نیا سودا بھی طے کیا گیا۔ ناقدین کے مطابق یہ معاہدے دفاعی ضرورت سے زیادہ سیاسی تشہیر کا حصہ ہیں جبکہ زمینی حقائق میں نہ بروقت ڈیلیوری ممکن ہو سکی اور نہ ہی تکنیکی مسائل حل کیے جا سکے۔ مزید یہ کہ تیجس طیارے میں استعمال ہونے والے امریکی جی ای ایف 404 انجن کی فراہمی میں تاخیر کے باعث بھارتی فضائیہ کی جدید کاری بری طرح متاثر ہوئی ہے، جس کا اعتراف خود بھارتی دفاعی حکام بھی کر چکے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کی جانب سے بار بار خود انحصاری کے دعووں کے باوجود بھارت اب بھی بیرونی ٹیکنالوجی پر انحصار کرنے پر مجبور ہے اور یہ تیجس طیارے نہیں بلکہ مودی کے دعوے ہیں جو زمین بوس ہوگئے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل