Tuesday, March 03, 2026
 

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ، ہیسن کی من مانیاں گرین شرٹس کو لے ڈوبیں

 



ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 میں مائیک ہیسن کی من مانیاں گرین شرٹس کو لے ڈوبیں۔ تفصیلات کے مطابق ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاکستان ٹیم سپرایٹ مرحلے سے آگے نہ بڑھ سکی، غیر معیاری کارکردگی پر کھلاڑیوں پر ہر جانب سے تنقید کی جا رہی ہے۔ پی سی بی نے کھلاڑیوں پر 50، 50 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا، البتہ اس میں صرف پلیئرز ہی ذمہ دار نہیں ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کا بھی اہم کردار ہے۔ انتہائی باخبر ذرائع کے مطابق کوچ نے نہ صرف سلیکٹر بلکہ کپتان کا کام بھی سنبھالا ہوا تھا، چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے انہیں اختیارات دیے لیکن وہ حد سے تجاوز کر گئے۔ ان من مانیوں کا ٹیم کو شکست کی صورت میں نتیجہ بھگتنا پڑا۔ ذرائع نے بتایا کہ ورلڈکپ سے قبل سلیکٹرز نے جو اسکواڈ منتخب کیا اس میں بابر اعظم شامل نہ تھے، البتہ ہیسن نے زور دے کر انہیں ٹیم کا حصہ بنوایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایشیا کپ کے دوران مڈل آرڈر کمزور تھا لہذا سینئر بیٹر کی شمولیت ضروری ہے، یہ فیصلہ غلط ثابت ہوا اور بابر بدترین ناکامی کا شکار ہوئے۔ مسلسل ناکامیوں کے باوجود صائم ایوب کو کھلانے کی وجہ سے فخر زمان کو باہر بیٹھنا پڑا، اسی طرح سلمان علی آغا کو تیسری پوزیشن پر بھیجنے کا فیصلہ بھی بیک فائر کر گیا۔ پلئینگ الیون، ٹاس جیت کر کیا کرنا ہے اس قسم کے فیصلوں میں بھی کوچ پیش پیش ہوتے، سلمان آغا کمزور کپتان ثابت ہوئے اور اپنی کوئی بات نہیں منوا سکے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ ہیسن کا اس حد تک کنٹرول رہا کہ کس بولر کو کب بولنگ دینا ہے یا بیٹنگ میں کسے کب بھیجنا ہے یہ بھی وہی طے کرتے۔ بھارت سے میچ میں عثمان طارق کو تاخیر سے بولنگ دینے کا فیصلہ ہیسن اور بولنگ کوچ ایشلے نوفکے نے کیا، انہوں نے ہی ابرار احمد کو باہر کیا تاکہ شاداب خان کی جگہ کو خطرہ نہ ہو۔ انگلینڈ کیخلاف میچ میں جب عثمان طارق نے اپنی پہلی ہی گیند پر وکٹ لے لی تو حیران کن طور پر ان سے اگلا اوور کروانے کے بجائے صائم ایوب کو گیند تھما دی گئی، اس کی ہدایت بھی کپتان کو کوچ سے ملی تھی۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ سلمان آغا کی غلطی یہ تھی کہ وہ ہیسن کی ہر بات پر عمل کرتے رہے۔ اس سے قبل دورہ ویسٹ انڈیز میں جب اس وقت کے ون ڈے کپتان محمد رضوان کو کوچ اسی طرح میدان میں ہدایات بھیجتے رہے تو انہوں نے عمل کرنے سے انکار کر دیا تھا جس پر ہیسن ان سے ناراض ہو گئے تھے۔ بعض سینئر کھلاڑی اس پر بھی ناخوش رہے کہ کوچ نے کبھی انہیں ڈراپ کرنے کی وجہ نہ بتائی۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ پی سی بی کو کوچ کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ موصول ہو چکی ہے، البتہ فوری طور پر کسی فیصلے سے گریز کرتے ہوئے انہیں بنگلادیش کے دورے پر ٹیم کے ساتھ ہی بھیجا جائے گا، البتہ اس کے بعد پوزیشن پر برقرار رہنا یقینی نہیں لگتا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل