Thursday, March 05, 2026
 

لوگ آپ کے حالات سے ہاتھ ملاتے ہیں

 



لوگ آپ سے نہیں آپ کے حالات سے ہاتھ ملاتے ہیں۔ دیکھنے اور پڑھنے میں یہ ایک عام سا جملہ ہے اور کوئی بھی اس کو سرسری طور پر پڑھ کر گزر جائے گا لیکن اس کو اپنی زندگی میں ہوتے ہوئے دیکھنا ایک بالکل الگ تجربہ ہوتا ہے جو آپ کی زندگی کی بنیادوں اور رشتوں پر آپ کے اعتماد کو جڑ سے ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ ہم سب کو پتہ ہے کہ دنیا میں پرخلوص دوست بہت کم ہوتے ہیں، زیادہ تر لوگ ہماری حیثیت، رتبے اور مقام کی وجہ سے ہمارے اردگرد ہوتے ہیں اور ان میں تغیر آتے ہی ایسے چھٹ جاتے ہیں جیسے کبھی تھے ہی نہیں۔ وہ تمام اشخاص کہ جنھوں نے کسی نہ کسی کلیدی عہدے یا اہم شعبے میں کام کیا ہے، یقیناً کبھی نہ کبھی اس کا تجربہ ضرور کیا ہوگا۔ میں نے بھی ذاتی حیثیت میں اس کا تجربہ کیا ہے کہ جس کا ذکر یہاں بےمحل نہ ہوگا۔ میں ایک حکومتی اکثریتی حصص والے ادارے میں کام کرتا تھا اور خاصے مناسب سے عہدے پر تھا۔ ایک صاحب کہ جن کا بہت کچھ میرے عہدے سے وابستہ تھا وہ بار بار مجھے یہ باور کرواتے تھے کہ وہ میرے بہترین دوست ہیں اور وہ میرے دوست میرے عہدے کی وجہ سے نہیں بلکہ میرے اوصاف کی وجہ سے ہیں۔ باقی دیگر کمزور لوگوں کی طرح میں نے بھی ان کی بات پر یقین کرلیا۔ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ کوئی دو سال کے بعد مجھے اس عہدے سے تبدیل کردیا گیا اور اس کے بعد وہ صاحب میری زندگی سے ایسے غائب ہوئے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ کچھ عرصے بعد میں دوبارہ ایک کلیدی عہدے پر تعینات کردیا گیا۔ اب وہ صاحب میرے ایک اور دفتری ساتھی سے ملے اور میرے بارے میں دعوٰی کیا کہ میں ان کا بہترین دوست ہوں۔ ان صاحب نے فوراً مجھے فون ملایا اور فرمایا کہ آپ کے ایک دوست میرے پاس تشریف فرما ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ بھلا میرا کون سا دوست آپ کے پاس پہنچ گیا تو انھوں نے ریسور ان صاحب کو تھما دیا۔ وہ لائن پر آئے اور کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے اپنی دوستی کے دعوے کو دہرایا۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ فون میرے ساتھی کو واپس دیجئے تاکہ میں ان کو بتا سکوں کہ آپ میرے نہیں بلکہ کرسی کے دوست ہیں اور آپ کی مستقل دوستی صرف کرسی سے ہے، اس پر بیٹھنے والے سے نہیں۔ کیونکہ وہ تو بدلتا رہتا ہے مگر کرسی مستقل رہتی ہے۔ اس وقت میرے اپنے دفتر میں بھی کچھ لوگ بیٹھے تھے، انھیں یہ تو پتہ نہیں چلا کہ میں کس سے بات کررہا تھا لیکن میری ذہنی صحت کے بارے میں اگر ان کے کچھ بھی ابہام تھے وہ اس گفتگو کے بعد یقیناً دور ہوگئے ہوں گے۔ اس معاملے میں سب سے قابل رحم حالت مرحوم جنرل پرویز مشرف کی تھی۔ لوگ ان کے اقتدار کے زمانے میں ان کے گرد ایسے جمع تھے جیسے شہد کے گرد مکھیاں اور بعد میں وہ مکھیوں ہی کی طرح چھٹ گئے۔ ایک ایسے ہی کردار نے جنرل پرویز مشرف کےلیے کہا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو ہم دس بار ان کو وردی میں منتخب کروائیں گے اور جب جنرل مشرف اپنا آخری وقت مشکل میں کاٹ رہے تھے تو وہ صاحب ان کے دس میل کے رداس میں بھی نہیں تھے۔ کچھ جملے تاریخ میں انمٹ ہوجاتے ہیں اور دس دفعہ وردی میں منتخب کروانے والا جملہ بھی ایسا ہی ایک جملہ ہے جو شاید تاریخ سے کبھی مٹایا نہ جاسکے۔ ویسے جنرل مشرف ہماری تاریخ کے ایسے اکلوتے کردار نہیں ہے، ہماری تاریخ ایسے کرداروں سے بھری ہوئی ہیں اور ایک اور بات بھی تاریخی حقیقت ہے کہ ہم نے ان سب سے سبق نہ لینے کی بھی قسم کھائی ہوئی ہے۔ کچھ عرصے پہلے سماجی ذرائع ابلاغ پر ایک کہانی بہت گردش کررہی تھی، جس کا آغاز کچھ یوں تھا کہ ’’جب ڈاکٹر نے میرے والد کے حقے پر پابندی لگائی‘‘ اس کہانی میں چوہدری صاحب کی دکان پر لوگوں کی کشش کی دو چیزیں تھی ایک حقہ اور دوسرا ٹیلیفون۔ جب ڈاکٹر نے چوہدری صاحب کے حقہ پینے پر پابندی لگائی اور سڑک کی توسیع کی وجہ سے ٹیلیفون کٹ گیا تو لوگ بھی چھٹ گئے۔ اس تحریر میں ایک بات بہت شاندار تھی جو میں یہاں لکھنا چاہوں گا۔ ’’اللہ تعالٰی جب آپ کو کوئی نعمت دیتا ہے تو یہ نعمت اپنے ساتھ نئے دوست لے کر آتی ہے لیکن ہم نعمت کے ان دوستوں کو اپنا دوست سمجھ بیٹھتے ہیں۔ یہ ہماری بیوقوفی ہوتی ہے۔ یہ نعمت جس دن چلی جاتی ہے یہ سارے دوست بھی رخصت ہوجاتے ہیں۔‘‘ ہم میں اکثر لوگ نعمت کی واپسی کی سعی کرتے ہیں اور کرنا بھی چاہیے لیکن زیادہ تر لوگ نعمت کی واپسی اس لیے چاہتے ہیں کہ وہ ان فصلی بٹیروں سے بدلہ لے سکیں اور اللہ شاید اسی لیے انھیں وہ نعمت سے عموماً دوبارہ نہیں نوازتا۔ اگر آپ یہ نعمت واپس چاہتے ہیں تو بدلے کی خواہش کوئی دل سے نکال دیں بلکہ ان لوگوں کے احسان کو یاد رکھیں کہ جنھوں آپ کو یہ قیمتی سبق سکھایا۔ اگر آپ نے ایسا کیا تو امید کی جاسکتی ہے کہ شاید وہ نعمت دوبارہ آپ کی زندگی میں واپس آجائے۔ آخر میں حسب روایت ایک قصہ۔ اس دفعہ یہ ایک سچا قصہ ہے بس لوگوں کی شناخت بیان نہیں کی گئی ہے۔ ایک بہت بڑے سرکاری افسر کے کچھ بہت ہی پرانے دوست اس سے ملنے آئے۔ کمرے میں بےتکلف گفتگو چل رہی تھی کہ اندرونی ٹیلیفون پر سرکاری افسر کے معتمد نے کسی ملاقاتی کے آنے کی اطلاع دی۔ ملاقاتی ایسا تھا کہ جس کو ٹالا نہیں جاسکتا تھا، چنانچہ افسر نے دوستوں سے کہا اگر وہ کچھ دیر کمرے میں ہی خاموشی سے بیٹھیں تو وہ اس ملاقاتی کو نمٹا لیں۔ دوستوں نے حامی بھر لی۔ وہ ملاقاتی اندر آیا اور اگلے تیس سکینڈ میں اس نے اپنی روداد بیان کی لیکن وہ اگلے ساڑھے چودہ منٹ تک اس سرکاری افسر کی خوشامد اور چاپلوسی کرتا رہا۔ اس نے یہ بھی خیال نہیں کیا کہ کمرے میں افسر کے دوست بھی بیٹھے ہیں۔ پندرہ منٹ بعد جب وہ گیا تو دوستوں نے افسر کو آڑے ہاتھوں لیا اور اس سے کہا کہ تمھیں سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ تمھاری جھوٹی تعریف کررہا تھا اور تم بیوقوفوں کی طرح اس کی یہ جھوٹی تعریف سن رہے تھے۔ اس پر سرکاری افسر نے کہا کہ مجھے بھی پتہ ہے کہ وہ جھوٹی تعریف کررہا تھا لیکن کیا کروں سننے میں بہت مزا آرہا تھا۔ اور یہ مزہ ہی ہماری اجتماعی تباہی کی وجہ ہے اور ہمارے تمام ہی سرکردہ افراد اس کے عادی ہیں۔ اس لیے اس پر مزید نہیں لکھا جاسکتا۔ اجازت دیجیے۔ نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل