Wednesday, March 04, 2026
 

عالمی بساط پر بالادستی کا سورج اور متبادل مزاحمتی نظمِ نو

 



دنیا کی موجودہ جیو پولیٹیکل صورتحال کو اگر گہرائی اور بصیرت سے دیکھا جائے تو یہ کہنا قبل از وقت اور تاریخی طور پر غلط ہوگا کہ اسرائیل اور امریکا کو روکنے والا اب کوئی باقی نہیں رہا۔ بظاہر اس وقت اسرائیل کی جارحیت اور امریکا کی عسکری و معاشی پشت پناہی ایک ایسی ناقابلِ شکست قوت کے طور پر نظر آتی ہے جس نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، لیکن عالمی بساط کے پسِ پردہ چند ایسی تزویراتی رکاوٹیں اور عوامل جنم لے چکے ہیں جو اس تسلط کی راہ میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوسکتے ہیں۔ اس پورے منظرنامے میں روس اور چین کا ابھرتا ہوا بلاک، برکس جیسے معاشی اتحاد، اور غیر ریاستی عناصر کی مزاحمت اپنی جگہ اہم ہے، لیکن اس فتنے کے حتمی تدارک کے لیے مسلم ممالک کا کردار اور اقوام متحدہ جیسے عالمی اداروں کی از سرِ نو ترتیب ناگزیر ہو چکی ہے۔ روس اور چین نے حالیہ برسوں میں جس تزویراتی اتحاد کی بنیاد رکھی ہے، وہ براہ راست امریکی یک قطبی دنیا (Unipolar World) کے لیے موت کا پیغام ہے۔ چین نے اپنی معاشی طاقت اور ’بیلٹ اینڈ روڈ‘ جیسے عظیم الشان منصوبوں کے ذریعے افریقہ سے لے کر وسطی ایشیا تک اپنا اثر و رسوخ اس حد تک بڑھا لیا ہے کہ اب وہ براہ راست عسکری ٹکراؤ کے بجائے ’معاشی گھیراؤ‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ دوسری جانب روس، جس کی عسکری قوت اور ایٹمی صلاحیت اب بھی کسی بھی عالمی طاقت کے لیے ڈراؤنا خواب ہے، مشرقِ وسطیٰ خصوصاً شام اور ایران میں امریکی منصوبوں کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ حالیہ عرصے میں ایران پر ہونے والے حملوں کے خلاف روس اور چین کا سخت موقف اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وہ خطے میں طاقت کے توازن کو مکمل طور پر اسرائیل اور امریکا کے حق میں جھکنے نہیں دیں گے۔ اسٹرٹیجک محاذ کے ساتھ ساتھ معاشی محاذ پر ’برکس‘ (BRICS) کی صورت میں ایک ایسا طوفان اٹھ رہا ہے جو امریکی ڈالر کی بادشاہت کو جڑ سے اکھاڑ سکتا ہے۔ امریکا کی تمام تر عسکری مہم جوئی کا ایندھن ’ڈالر‘ ہے، اور جب برازیل، روس، انڈیا، چین اور اب سعودی عرب و متحدہ عرب امارات جیسے ممالک اپنی مقامی کرنسیوں میں تجارت کو فروغ دیں گے، تو ڈالر کی عالمی حیثیت کمزور پڑ جائے گی۔ ڈی-ڈالرائزیشن کا یہ عمل امریکی ’ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس‘ کو اس مالیاتی سہارے سے محروم کر دے گا جس کے بل بوتے پر وہ پوری دنیا میں جنگیں لڑتا ہے۔ جب ڈالر کی مانگ کم ہوگی، تو امریکا کے لیے اپنی دفاعی صنعت کو برقرار رکھنا اور اسرائیل جیسے اتحادیوں کو اربوں ڈالر کی مفت امداد فراہم کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ جہاں تک اس فتنے کو روکنے میں مسلم ممالک کے کردار کا تعلق ہے، تو یہ سب سے اہم اور بنیادی نکتہ ہے۔ بدقسمتی سے اب تک مسلم دنیا نے ایک متحد بلاک کے طور پر ردِ عمل دینے کے بجائے انفرادی اور مصلحت پسندانہ پالیسیاں اپنائی ہیں۔ اس صورتحال کو بدلنے کے لیے مسلم ممالک کو ’تزویراتی خود مختاری‘ (Strategic Autonomy) کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ سب سے پہلے مسلم دنیا کو اپنی دولت اور قدرتی وسائل، خصوصاً تیل اور گیس کو ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ہوگا۔ اگر دنیا کے اہم مسلم ممالک ایک ایسا معاشی بلاک بنا لیں جو مغرب کو توانائی کی فراہمی کو فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم اور علاقائی سالمیت سے مشروط کر دے، تو مغربی دارالحکومتوں میں لرزہ طاری ہو جائے گا۔ مزید برآں، او آئی سی (OIC) کو ایک محض بیانات جاری کرنے والے ادارے سے نکال کر ایک فعال دفاعی اور اقتصادی یونین میں بدلنا ہوگا۔ مسلم ممالک کو اپنی ایک مشترکہ منڈی اور مشترکہ دفاعی نظام کی ضرورت ہے تاکہ وہ سیکیورٹی کے لیے امریکا کے محتاج نہ رہیں۔ ترکی، پاکستان، انڈونیشیا اور سعودی عرب جیسے ممالک اگر اپنی عسکری اور معاشی صلاحیتوں کو یکجا کرلیں، تو وہ ایک ایسی تیسری قوت بن کر ابھر سکتے ہیں جو اسرائیل کی جارحیت کو لگام ڈالنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ اقوام متحدہ کا کردار اس وقت تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہا ہے۔ یہ ادارہ، جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، اب محض بڑی طاقتوں کے مفادات کا تحفظ کرنے والا ایک کلب بن کر رہ گیا ہے۔ سلامتی کونسل میں امریکا کا بار بار ’ویٹو‘ پاور استعمال کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ ڈھانچہ انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہوچکا ہے۔ اس فتنے کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ کے ڈھانچے میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔ دنیا اب پانچ مستقل ارکان کی یرغمال نہیں رہ سکتی۔ جنرل اسمبلی کو زیادہ اختیارات دینے ہوں گے اور ’ویٹو‘ کے حق کو محدود یا ختم کرنا ہوگا تاکہ اکثریت کی رائے کو تسلیم کیا جاسکے۔ اگر اقوام متحدہ اپنی ذمے داریاں پوری نہیں کرتا، تو مسلم ممالک اور برکس جیسی ابھرتی ہوئی طاقتوں کو ایک متوازی عالمی فورم تشکیل دینا ہوگا جو انصاف اور برابری کی بنیاد پر فیصلے کرے۔ اس فتنے کو روکنے کا لائحہ عمل یہ ہے کہ تمام عوامل یعنی معاشی بائیکاٹ، سفارتی تنہائی اور عسکری ڈیٹرنس کو ایک ساتھ استعمال کیا جائے۔ مسلم ممالک کو چاہیے کہ وہ اپنی زمین پر موجود غیر ملکی فوجی اڈوں کو ختم کرنے کی طرف قدم بڑھائیں اور اپنی دفاعی ضروریات کے لیے روس اور چین جیسے متبادل مراکز کی طرف دیکھیں تاکہ امریکہ کا بلیک میلنگ کا ہتھیار کند ہو سکے۔ جب عوامی رائے عامہ، معاشی دباؤ اور تزویراتی اتحاد ایک نقطے پر جمع ہوں گے، تو اسرائیل اور امریکا کی بالادستی کا یہ طلسم ٹوٹ جائے گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی سلطنت، چاہے وہ کتنی ہی طاقتور کیوں نہ ہو، ہمیشہ قائم نہیں رہتی؛ زوال تب شروع ہوتا ہے جب ظلم حد سے بڑھ جاتا ہے اور متبادل قوتیں بیدار ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ اسرائیل اور امریکا کا فتنہ ناقابلِ تسخیر نہیں، بلکہ یہ عالمی نظم کے بدترین بحران کی علامت ہے۔ چین کی معیشت، روس کی عسکری مزاحمت، برکس کا مالیاتی چیلنج، غیر ریاستی عناصر کی گوریلا جنگ اور مسلم ممالک کا ممکنہ اتحاد وہ عوامل ہیں جو مل کر اس بالادستی کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ مسلم دنیا اپنی مصلحتوں کی چادر اتار کر ایک واضح اور جرات مندانہ لائحہ عمل اپنائے اور دنیا کے نئے ابھرتے ہوئے مراکز کے ساتھ مل کر ایک کثیر قطبی (Multipolar) دنیا کی تشکیل میں اپنا حصہ ڈالے، جہاں طاقت کے بجائے انصاف کا بول بالا ہو۔ نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل