Tuesday, March 10, 2026
 

نئے سپریم لیڈر کا انتخاب

 



ایران کی مجلس خبرگان نے شہید آیت اللہ خامنہ ای کے صاحبزادے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر اور رہبر اعلیٰ منتخب کر لیا ہے۔ اس اعلان کے بعد ایران کی کمان نئے سپریم لیڈر کے پاس آگئی ہے۔ ویسے تو اطلاعات یہی تھیں کہ نئے سپریم لیڈر گزشتہ دو دہائیوں سے ایران کے معاملات میں عملی کردار ادا کرتے آرہے ہیں۔ بالخصوص پاسدران انقلاب کے معاملات میں ان کا رول خاصا زیادہ رہا ہے۔ اب بھی یہی اطلاعات ہیں کہ پاسداران انقلاب کا ووٹ اور حمایت انھیں ہی حاصل تھی اورا س حمایت نے ہی ان کے حق میں فیصلہ کی راہ ہموار کی ہے۔ بہرحال اب وہ ایران کے سپریم لیڈر ہیں۔ ایران کے آیندہ فیصلے ان کی رائے سے مشروط ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اس جنگ زدہ ماحول میں نئے ایرانی سپریم لیڈر کیا کردارکر تے ہیں؟ ایک رائے یہ ہے کہ وہ زیادہ سخت گیر موقف رکھنے کے حامی ہیں، اس لیے جاری جنگ زیادہ خطرناک ہوسکتی ہے ۔ تاریخ تو یہی بتاتی ہے کہ جب لیڈر بالخصوص سپریم لیڈر تنازعات کے آغاز میں مارے جاتے ہیں تو ان کے جانشن زیادہ دباؤ میں ہوتے ہیں، اس لیے وہ اپنے پیش رو سے زیادہ سختی سے آگے بڑھتے ہیں۔ ایران کے نئے سپریم لیڈر کو بھی ایسی ہی سنگین صورتحال میں ذمے داری ملی ہے ۔ ایران کے شہید سپریم لیڈر جو ان کے والد بھی تھے، جنگ کے آغاز میں شہید ہو گئے ہیں۔ اس لیے جناب مجتبیٰ خامنہ ای پر ایک دباؤ ضرور ہوگا۔ ایک بات اور اہم ہے کہ جب دشمن کسی لیڈر کو جنگ کے دوران قتل کردیتا ہے۔ تو اس کے جانشین کو وراثت میں یہ مسئلہ ملتا ہے کہ اس نے یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ اس عہدے کے اہل ہیں اور مضبوط ہیں۔جناب مجتبیٰ خامنہ ای بھی ایسی صورتحال کا شکار نظر آتے ہیں۔ انھیں بھی ثابت کرنا ہے کہ ان کا انتخاب درست ہے۔ اب وہ رہبر اعلیٰ منتخب ہوگئے ہیں۔ سب نے ان کی بیعت کر لی ہے۔ لیکن ایک مرحلہ ابھی باقی ہے۔ انھیں اپنی صلاحیتیں ابھی منوانی ہیں۔ جوایک مشکل مرحلہ ہے۔ لوگ ان کا ان کے والد سے موازنہ کریں گے۔  نئے رہبراعلیٰ کی کوئی سیاسی تقریر فی الحال سامنے نہیں آئی ہے۔ ان کی کوئی تصنیف بھی ہمارے سامنے نہیں ہے کہ ان کی تحریر سے ان کی شخصیت کا انداذہ لگایا جاسکے ۔ ان کی کتاب سے ان کی سوچ پڑھ لیں۔ جس سے ان کی سیاسی سوچ کا انداذہ لگایا جا سکے۔ ان کی کوئی ویڈیو بھی موجود نہیں ہے۔ البتہ ان کی چند تصاویر ضرور موجود ہیں۔ لیکن وہ بھی بہت کم۔ انھوں نے اب تک جو بھی کام کیا ہے، پردہ کے پیچھے رہ کر کیا ہے۔ وہ کیا سوچ رکھتے ہیں۔ ان کی پالیسی کیا ہوگی؟ وہ کیا مزاج رکھتے ہیں؟ باقی سب کہانیاں ہیں، ریکارڈ پر کچھ نہیں۔  اس جنگی ماحول میں نئے سپریم لیڈر کے لیے جلد پیچھے ہٹنا ممکن نہیں ہوگا۔ وہ اس وقت جنگ سے پیچھے ہٹے تو یہ تاثر بنے گا کہ وہ کمزور ہیں۔ انھیں ایک مضبوط شناخت کے لیے جنگ جاری رکھنی ہوگی۔ اسی لیے جب سے ان کا علان ہوا، ایران کا زیادہ سخت موقف سامنے آرہا ہے۔ پاسداران انقلاب کا زیادہ سخت موقف سامنے آرہا ہے۔ جیسے ٹرمپ کے بیان کا براہ راست جواب دیا جارہا ہے کہ جنگ کب بند کرنی ہے، یہ فیصلہ ہم کریں گے۔ اس کو نئے سپریم لیڈر کی سوچ اور پالیسی کہا جا سکتا ہے۔ اس لیے نئے لیڈر کے لیے سخت موقف اور کشیدگی کو جاری رکھنا ضروری ہو جاتا ہے۔ ایران کے نئے سپریم لیڈر کو کئی قسم کے دباؤ کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔ پاسداران انقلاب کی طرف سے یہ دباؤ ہوگا کہ وہ ان کی پالیسی کو آگے لے کر چلیں۔ انھیں انقلا بی دھڑے کی جانب سے بھی دباؤ کاسامان ہوگا کہ وہ انقلاب کی سوچ کو بھی آگے لے کر چلیں۔ انھیں اصلاح پسندوں کی جانب سے دباؤ کا سامنا ہوگا کہ وہ ملک میں اصلاح پسندی لے کر آئیں۔ انھیں قدامت پسندوں اور اصلا ح پسندوں کے درمیان توازن رکھ کر آگے برھنا ہوگا۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ سب دھڑے غور سے دیکھ رہے ہیں کہ جانشین مضبوط ہے یا کمزور۔ ان کی پالیسی کیا ہے۔ والد کے ساتھ کام کرنا اور پھر خودکمان کرنے میں فرق ہے۔ لوگ اس فرق کو جاننا چاہتے ہیں۔  نئے رہبر کے انتخاب عوام نے کو بہت ویلکم کیا ہے۔ لیکن ابھی وہ عوام میں نہیں آئے، وہ انڈر گراؤنڈ ہیں، وہ سامنے نہیں آسکتے، ان کا کوئی ویٖڈیو پیغام بھی جاری نہیں کیا گیا ہے۔ ان کی ایرانی صدر سے ملاقات کی بھی کوئی تصویر یا ویڈیو نہیں آئی۔ اس لیے ایک تشنگی باقی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ایران میں جید مذہبی رہنما موجود ہیں لیکن فیصلہ ان کے حق میں ہوا ہے۔ اب وقت ثابت کرے گا کہ ان کو کتنی قبولیت حا صل ہوگی۔ اب جنگ کا ماحول ہے۔ قوم متحد ہے۔ ابھی سب خاموش بھی ہیں۔ جنگ کے بعد ان کے انتخاب کا اصل مرحلہ شروع ہوگا۔ تب ہی معلوم ہوگا کہ کتنی مقبولیت اور کتنی قبولیت ہے۔ مقبولیت عوام میں، قبولیت مذہبی رہنماؤں میں۔ کیا وہ ان کو ا پنا مذہبی لیڈر مان لیں گے؟ آئت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب کے بعد ایرانی میزائل حملوں میں اضافہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ سرمایہ کار ان کو سخت گیر رہنماکے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ان سے لمبی جنگ کی توقع کی جا رہی ہے۔ ان سے زیادہ سخت موقف کی توقع کی جا رہی ہے۔ لیکن یہ سب وقت ہی بتائے گا۔ کیونکہ ایک رائے یہ بھی ہے کہ سرپرائز بھی دے سکتے ہیں۔ وہ نئی سوچ اور نئی پالیسی کے ساتھ بھی آگے آسکتے ہیں۔ لیکن اس کے امکانات بظاہر کم نظر آرہے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل