Loading
کلینیکل ریسرچ کی محدود دنیا اور حقیقی مریضوں کی وسیع حقیقت کے درمیان پیدا ہونے والا خلا خدشات کو یقینی رکھتا ہے۔ آئیے اس موضوع کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
راقم پچھلی چار دہائیوں سے حیاتی و ادویاتی علوم کا طالبعلم ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ کب دوا کی تحقیق اور حقیقی مریضوں کے درمیان فاصلہ پیدا ہوجاتا ہے۔
جدید طب اور ادویات کی دنیا میں تحقیق کو ہمیشہ انسانی صحت کی ترقی کا بنیادی ستون سمجھا گیا ہے۔ نئی دوائیں سالہا سال کی سائنسی تحقیق، تجربات اور کلینیکل ٹرائلز کے بعد عام مریضوں تک پہنچتی ہیں لیکن اس پورے عمل میں ایک اہم مسئلہ ایسا ہے جس پر ڈاکٹر اعجاز حسین نے ہماری توجہ چاہی ہے۔ اس موضوع پر اب دنیا بھر میں سنجیدہ بحث ہو رہی ہے، اسے اخراجی خلا یعنی Exclusion Gap کے نام سے پہچانتے ہیں۔
یہ وہ فرق ہے جو کلینیکل ٹرائلز (آزمائش) میں شامل مریضوں اور حقیقی دنیا کے مریضوں کے درمیان پایا جاتا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ جب بھی کسی دوا پر تحقیق کی جاتی ہے تو اس میں مخصوص قسم کے لوگوں کو شامل کیا جاتا ہے جبکہ منظوری کے بعد، حقیقت میں وہ دوا بہت زیادہ متنوع اور پیچیدہ حالات رکھنے والے مریضوں پر استعمال ہوتی ہے۔ اس طرح تحقیق اور حقیقت کے درمیان ایک واضح خلا پیدا ہو جاتا ہے۔
ادویات کی تحقیق میں عام طور پر ایسے افراد کو منتخب کیا جاتا ہے جو نسبتاً صحت مند ہوں جنہیں صرف ایک بیماری ہو اور جو کسی بڑی پیچیدگی کا شکار نہ ہوں۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ دوا کے اثرات کو واضح طور پر سمجھا جاسکے لیکن یہی احتیاط دوسری طرف ایک بڑے مسئلے کو جنم دیتی ہے۔ کیونکہ حقیقی دنیا کے مریض اکثر اس معیار پر پورا نہیں اترتے۔
ابھرنے والے تحقیقی مطالعات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کلینیکل ٹرائلز میں شامل افراد مجموعی طور پر اس مرض کی آبادی کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہوتے ہیں۔ بعض اندازوں کے مطابق حقیقی دنیا کے 90 فیصد سے زیادہ مریض ایسے ہوتے ہیں جو ان ٹرائلز کا حصہ ہی نہیں بنتے۔
یہی صورتحال Exclusion Gap کو جنم دیتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ حقیقی مریضوں کی حالت اکثر پیچیدہ ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک بزرگ مریض کو بیک وقت ذیابیطس، بلڈ پریشر اور دل کی بیماری ہوسکتی ہے۔ لیکن کلینیکل ٹرائل میں صرف ایسے افراد کو شامل کیا جاتا ہے جنہیں صرف ایک بیماری ہو۔
اس طرح تحقیق کا نتیجہ ایک محدود دائرے تک درست ہوسکتا ہے جبکہ حقیقی دنیا میں حالات مختلف ہوتے ہیں۔ مریض کی عمر بھی اس خلا کی ایک اہم وجہ ہے۔ اکثر کلینیکل ٹرائلز میں بہت زیادہ عمر رسیدہ افراد یا بچوں کو شامل نہیں کیا جاتا۔ حالانکہ عملی طور پر یہی وہ گروہ ہوتے ہیں جو سب سے زیادہ ادویات استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح حاملہ خواتین کو تقریباً ہر تحقیق سے خارج رکھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے بعد میں ان کے علاج کے حوالے سے واضح معلومات کی کمی رہ جاتی ہے۔ ماحولیاتی حالات بھی اس فرق کو بڑھاتے ہیں۔
تحقیق کے دوران ادویات کو عموماً مثالی درجہ حرارت اور کنٹرول شدہ ماحول میں رکھا جاتا ہے لیکن حقیقت میں ادویات کو مختلف موسموں اور جغرافیائی حالات کا سامنا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر گرم اور مرطوب علاقوں میں دوا کی کیمیائی کیفیت بدل سکتی ہے۔ اس پہلو کو اکثر ابتدائی تحقیقات میں پوری طرح شامل نہیں کیا جاتا۔ سماجی اور معاشی عوامل بھی اس مسئلے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ دیہی علاقوں کے لوگ ، کم آمدنی والے طبقات یا وہ افراد جنہیں طبی سہولیات تک آسان رسائی حاصل نہیں ہوتی، اکثر تحقیقی مطالعات کا حصہ نہیں بن پاتے، نتیجتاً ان طبقات کے تجربات اور ردعمل سائنسی ڈیٹا میں شامل نہیں ہو پاتے۔
اس اخراجی خلا کے اثرات بھی نہایت اہم ہیں۔ جب کوئی دوا عام استعمال میں آتی ہے تو بعض اوقات ایسے اثرات سامنے آتے ہیں جو تحقیق کے دوران نظر نہیں آئے تھے۔ اس کی ایک وجہ یہی ہوتی ہے کہ تحقیق میں شامل مریضوں کا دائرہ بہت محدود تھا۔ اس صورتحال میں حقیقی دنیا کے تجربات دوا کے بارے میں نئی معلومات فراہم کرتے ہیں۔
آج دنیا میں اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ ادویات کی تحقیق کو زیادہ جامع اور حقیقت کے قریب بنایا جائے۔ جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل ہیلتھ سسٹمز اور حقیقی مریضوں کے ڈیٹا کو استعمال کر کے اس خلا کو کم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ مریضوں کے تجربات، علاج کے نتائج اور ادویات کے عملی اثرات کو براہ راست ریکارڈ کرکے تحقیق کو زیادہ مؤثر بنایا جاسکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ طب کا مقصد صرف بیماری کا علاج نہیں بلکہ انسان کی مکمل حفاظت اور صحت کو یقینی بنانا ہے۔ اگر تحقیق اور حقیقت کے درمیان فاصلہ بہت زیادہ ہوجائے تو علاج کے نتائج بھی غیر متوازن ہو سکتے ہیں۔ اس لیے Exclusion Gap کو سمجھنا اور اسے کم کرنا جدید طب کے اہم ترین چیلنجز میں سے ایک ہے۔
جب تک ادویات کی تحقیق میں حقیقی دنیا کے زیادہ سے زیادہ مریضوں کو شامل نہیں کیا جائے گا، اس وقت تک طب کی ترقی مکمل طور پر انسانی تجربے کی نمائندگی نہیں کرسکے گی۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں سائنسی تحقیق کو مزید وسیع، جامع اور مزید معنی خیز بنانے کی ضرورت ہے۔ شاید یہی وہ سمت ہے جہاں مستقبل کی طب ہمیں لے کر جا رہی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل