Monday, March 09, 2026
 

مشرق وسطیٰ میں بھڑکتی آگ

 



ایران پر حالیہ ہونے ولے حملے نے پورے مشرقِ وسطیٰ کو بالخصوص اور پوری دنیا کو بالعموم ایک ایسی دھکتی اور آگ میں دھکیل دیا ہے جس کے اثرات صرف دو یا تین ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے اور عالمی سیاست کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ گزشتہ چند دہائیوں میں مشرقِ وسطیٰ نے عراق، لبنان، یمن، فلسطین اور دیگر کئی تنازعات دیکھے ہیں، لیکن ایران کشیدگی اس اعتبار سے مختلف ہے کہ اس میں براہِ راست عالمی طاقتوں کے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ علاقائی جنگ نہیں رہی بلکہ یہ قضیہ عالمی طاقتوں کے درمیان ایک نئی آزمائش بن سکتا ہے۔ اس بحران نے نہ صرف خطے کی سلامتی کے سوالات کو جنم دیا ہے بلکہ عالمی معیشت اور بین الاقوامی سفارت کاری کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ سفارت کاری اگر اس جنگ میں ناکام ہو جاتی ہے تو اس کے اثرات اگلی کئی دہائیوں تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد یہ توقع کی جا رہی تھی کہ ایران داخلی بحران کا شکار ہو جائے گا اور عالمی طاقتوں کے مفادات با آسانی پورے ہو جائیں گے۔ اور ایسا ہونا ممکن بھی تھا کہ ماضی قریب میں ایسا بارہا دیکھا گیا کہ کسی ملک کی مرکزی قیادت کے منظر سے ہٹتے ہی ملک یا ریاست ایسے خلفشار کا شکار ہو گئی کہ جس نے عالمی طاقتوں کے مقاصد آسان کر دیے۔ عراق، لیبیا، شام اور وینزویلا کی مثالیں موجود ہیں جہاں ون مین شو ثابت ہوا جس کے جاتے ہی حالات حیران کن حد تک تبدیل ہو گئے۔ ایران میں بھی یہی توقع تھی اور سپریم لیڈر کے ہٹتے ہی نظام کے کمزور ہو جانے کی نوید سنائی جا رہی تھی۔ اور فیصلہ ساز بغلیں بجا رہے تھے کہ اب دیرینہ مقاصد حل ہو جائیں گے۔ لیکن زمینی حقائق اس اندازے کے برعکس سامنے آئے ہیں۔ سپریم لیڈر کی شہادت کے باوجود ریاستی ڈھانچہ مکمل طور پر قائم نظر آ رہا ہے اور ایران کے ریاستی ادارے بھی مکمل فعال دکھائی دے رہے ہیں۔ یہی وہ پہلو ہے جو حیران کن بھی ہے اور ایران کے اندرونی نظام کی پختگی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ ایران میں اعلیٰ ترین قیادت کے منظر سے ہٹ جانے کے باوجود ایران میں ایسا کیا ہوا کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑا اور عالمی طاقتوں کو استطاعت کے مطابق جواب بھی دے رہا ہے۔ سپریم لیڈر کی شخصیت یقیناً کرشماتی اور طاقتور تھی، لیکن ایران میں اختیارات پرت در پرت موجود نظام میں منقسم ہیں۔ سپریم لیڈر کے پاس ویٹو پاور ضرور ہے لیکن بہرحال اختیارات، انتظامات اور فیصلہ سازی مختلف سطح پر موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے سپریم لیڈر کے منظر سے ہٹنے کے بعد بھی ایران میں نظام مکمل منہدم نہیں ہوا بلکہ ایک عبوری کونسل کو اختیارات منتقل ہو گئے۔ شاید یہی وہ پہلو تھا جس کی امریکہ کو توقع نہیں تھی۔ واشنگٹن کے پالیسی سازوں نے غالباً یہ اندازہ لگایا تھا سپریم لیڈر کے نشانہ بنتے ہی نہ صرف ایران میں ایک افراتفری ک عالم ہو گا بلکہ ریاستی اداروں کا وجود بھی خطرے میں پڑھ جائے گا۔ لیکن اس کے برعکس ایران کے اندر ایک حد تک نظم و ضبط برقرار دکھائی دے رہا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہاں کا سیاسی ڈھانچہ کسی حد تک ادارہ جاتی بنیادوں پر قائم ہو چکا ہے۔ امریکa کو یہ توقع بھی بہرحال تھی کہ اس کے حملہ کرتے ہی وہ عناصر ایران کے اندر مصروفِ عمل ہو جائیں گے جو کچھ عرصہ قبل ہی ایران کے اندار احتجاج اور شدت کے رجحان کے ساتھ دیکھے گئے تھے۔ لیکن معاملات اس سوچ کے مکمل طور پر برعکس ہوئے اور ایران کے اندرونی حالات اس وقت اس بات کے شاہد ہیں کہ سپریم لیڈر کی شہادت کے ساتھ ہی ایران میں سیاسی، سماجی اور مذہبی لحاظ سے ایک ایکا دیکھنے میں آیا۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اپنے لیڈر کے غم میں ایران متحد ہو گیا۔ اور یہ یقینی طور پر حملہ آوروں کی توقعات کے برعکس ہوا۔ حملہ کرتے ہوئے امریکا کو شاید یہ یقین مصمم تھا کہ ان کے حملہ کرتے ہی پہلی ضرب ہی اتنی کاری لگائی جائے گی کہ ایران اس سے سنبھل نہیں پائے گا اور کسی قسم کی جوابی کاروائی کے قابل ہیں نہیں رہے گا کیوں کہ مرکزی قیادت کے منظر سے ہٹنے کو ہی عالمی طاقتیں کامیابی کی ضمانت سمجھ رہی تھیں۔ لیکن معاملہ اس کے الٹ ہوا۔ شاید ایران کو اس قدر شدید حملے کی توقع تھی اسی لیے اپنے راہنما کے منظر سے ہٹنے پہ بھی کسی قسم کے نفسیاتی ہیجان میں مبتلا ہونے کے بجائے ایران نے اپنی تمام توانائی ردعمل دینے پر لگا دی۔ اور ردعمل بھی ایسا تھا کہ جس سے عالمی طاقتیں اور مشرقِ وسطی میں امریکی اتحادی بھی انگشت بدندان ہیں۔ جنگوں میں صرف عسکری طاقت ہی فیصلہ کن عنصر نہیں ہوتی بلکہ ذہنی اور نفسیاتی تیاری بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ایران کا ردعمل یہ ظاہر کرتا ہے کہ قیادت کے فقدان کے باوجود اس کے ریاستی ادارے حواس باختہ نہیں ہوئے بلکہ ایک منظم انداز میں ردعمل دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض مبصرین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ایران نے اپنی قیادت کے ممکنہ نقصان کے باوجود جنگی حکمتِ عملی کو جاری رکھنے کے لیے پہلے سے منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ اگر یہ تاثر درست ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ایران نے اس جنگ کے امکانات کو پہلے سے ذہن میں رکھتے ہوئے اپنی دفاعی حکمتِ عملی ترتیب دی تھی۔ مشرقِ وسطیٰ اور ایشیائی خطے میں اس جنگ کے اثرات ہر گزرتے دن کے ساتھ انتہائی پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ امریکا کے مفادات براہِ راست ایران کے ساتھ ٹکراؤ میں شاید نہ ہوں، لیکن اسرائیل کے ساتھ اس کی غیر مشروط وابستگی نے اسے اس تنازعے کا مرکزی کردار بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا اسرائیل کے دفاع کے لیے ہر حد تک جانے کو تیار دکھائی دیتا ہے۔ یہ صورتحال خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک مشکل سوال بن گئی ہے کہ آیا امریکہ کی ترجیحات واقعی پورے خطے کے استحکام سے جڑی ہیں یا وہ صرف ایک خاص اتحادی کے مفادات کے تحفظ تک محدود ہیں۔ اس تنازعے نے تمام خلیجی ریاستوں کے بھی ایک مشکل دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے اور وہ اپنے وجود پر اٹھنے والے سوالات کے جوابات تلاش کر رہے ہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکا ان خلیجی ریاستوں کے لیے سیکیورٹی کی ضمانت ہے اور ان ریاستوں نے اپنے دفاع کو بھی اسی حوالے سے ترتیب دیا ہے۔ لیکن حالیہ ایران جنگ نے اس سوچ کی نفی کر دی ہے اور یہ تاثر تقویت پکڑتا جا رہا ہے کہ امریکا کے لیے تو پہلی ترجیح اسرائیل کا تحفظ ہے اور اگر یہ جنگ وسعت اختیار کرتی ہے تو خلیجی ریاستوں کا وجود ہی خطے کا شکار ہو جائے گا۔ ایران بارہا یہ کہہ چکا ہے کہ اس کا کوئی لینا دینا خلیجی ریاستوں سے نہیں ہے ہاں مگر وہ ان ریاستوں میں موجود امریکی مفادات پہ ضرب ضرور لگائے گا۔ اور اس بات میں ایران حق پر بھی ہے کہ براہ راست امریکا تک رسائی نہ ہو سکنے میں خطے میں موجود امریکی اڈے تو نشانہ بنیں گے ہی۔ اسی بات نے خلیجی ریاستوں کو گومگو کی کیفیت میں لا کھڑا کیا ہے کہ یہ ریاستی تیل کے بجائے اپنا انحصار سیاحت پر متنقل کرنے کی کوششوں میں ہی اور اس قضیے نے ان کوششوں کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ایران کے لیے سب سے آسان ہدف یہی خلیجی ریاستیں ہو سکتی ہیں جہاں امریکی فوجی اڈے اور معاشی مفادات موجود ہیں۔ ایران کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آ چکا ہے کہ وہ خلیجی ریاستوں کے خلاف براہِ راست کارروائی نہیں کرنا چاہتا، لیکن ان ریاستوں میں موجود امریکی مفادات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔ خلیجی ممالک عالمی توانائی کی منڈیوں میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں اور کسی بھی جنگی کشیدگی کا براہِ راست اثر تیل اور گیس کی عالمی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔ اس جنگ کا ایک اہم پہلو معاشی بھی ہے۔ جدید جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ان کے معاشی اثرات بھی انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔ اسلحے کی پیداواری لاگت اس جنگ میں ایک اہم عنصر بن کر سامنے آ رہی ہے۔ ایران نسبتاً کم لاگت کے ہتھیار استعمال کر رہا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کو انتہائی مہنگے دفاعی نظام استعمال کرنے پڑتے ہیں۔ اس عدم توازن نے اس جنگ کو ایک معاشی مقابلے کی شکل بھی دے دی ہے۔ مثال کے طور پر اگر ایران تقریباً بیس ہزار ڈالر کی لاگت سے تیار ہونے والا شاہد ڈرون استعمال کرتا ہے تو اسے روکنے کے لیے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ملینز آف ڈالرز مالیت کے میزائل استعمال کرنے پڑتے ہیں۔ اس صورتحال کا مطلب یہ ہے کہ ہر حملے کے ساتھ امریکا کو بھاری مالی لاگت برداشت کرنا پڑتی ہے۔ اگر جنگ طویل ہوتی ہے تو یہ معاشی بوجھ مسلسل بڑھتا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ بعض تجزیہ کار اس جنگ کو ایک ایسے معاشی امتحان کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں جس میں صرف عسکری طاقت نہیں بلکہ مالی برداشت بھی اہم کردار ادا کرے گی۔ اگر یہ تنازع جلد کسی سفارتی حل کی طرف نہیں جاتا تو امریکا کے لیے معاشی مشکلات بھی بڑھ سکتی ہیں۔ جنگی اخراجات پہلے ہی عالمی طاقتوں کے بجٹ پر بڑا بوجھ بن چکے ہیں۔ ایسے میں ایک طویل جنگ نہ صرف فوجی بلکہ معاشی دباؤ بھی بڑھا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض حلقوں میں یہ بحث بھی شروع ہو چکی ہے کہ آیا امریکا اس جنگ کو طویل مدت تک برداشت کر سکے گا یا نہیں۔ ایک اور اہم پہلو سفارت کاری کا ہے۔ اگر ایران کے لیے سفارت کاری کے دروازے مکمل طور پر بند کر دیے جاتے ہیں تو اس کا ردعمل پورے خطے کو ایک ایسی وسیع جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے جس سے نکلنا کسی کے بس میں نہیں ہوگا۔ ایران ایک بڑی علاقائی طاقت ہے اور اس کے اثرات مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک تک پھیلے ہوئے ہیں۔ اگر اسے مکمل طور پر دیوار سے لگا دیا گیا تو اس کے ردعمل کا دائرہ بھی بہت وسیع ہو سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں سفارت کاری کے دروازے کھلے رکھنا ہی دانشمندانہ حکمتِ عملی ہو سکتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب ریاستوں کو مکمل طور پر گوشہ نشین کر دیا جاتا ہے تو وہ زیادہ جارحانہ ردعمل دینے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ ایران کے معاملے میں بھی اگر مذاکرات کا راستہ مکمل طور پر بند کر دیا گیا تو یہ بحران ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو سکتا ہے جہاں سے واپسی انتہائی مشکل ہو جائے گی۔ عالمی طاقتوں کے ردعمل پر بھی نظر ڈالنا ضروری ہے۔ ابتدا میں روس اور چین نسبتاً خاموش نظر آئے۔ غالباً وہ یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ آیا امریکا تیزی سے اپنے مقاصد حاصل کر لیتا ہے یا نہیں۔ لیکن اب جب ایران نے مزاحمت جاری رکھی ہے تو یہ دونوں طاقتیں بھی آہستہ آہستہ اپنی پوزیشن واضح کرنا شروع کر رہی ہیں۔ عالمی سیاست میں طاقت کا خلا ہمیشہ کسی نہ کسی قوت کے ذریعے پُر کیا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ روس اور چین مکمل لاتعلقی کا راستہ اختیار نہیں کر سکتے۔ پاکستان کے لیے بھی معاملات پیچیدگی اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ پاکستان براہ راست فریق نہیں لیکن جغرافیائی اہمیت پاکستان کو طویل عرصے تک اس معاملے سے دور نہیں رکھ سکتی اور آج نہین تو کل پاکستان کو اس معاملے میں کردار ادا کرنا پڑئے گا۔ ایک طرف پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے موجود ہیں اور دوسری طرف ایران اس کا ہمسایہ ملک ہے۔ اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو پاکستان ایک مشکل دوراہے پر کھڑا ہو سکتا ہے جہاں کسی بھی فیصلے کے دور رس اثرات ہوں گے۔ پاکستان کی مشرقی اور مغربی سرح پر جنگی مصروفیات نے پاکستان کے لیے لائن آف ایکشن اس حوالے سے واضح کر رکھی ہے کہ پاکستان کسی بھی طرح ایک نیا محاذ کھولنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور اس جنگ میں پاکستان کی براہ راست شمولیت اس کی افغانستان اور بھارت کے ساتھ معاملات کو بھی رسک پر لے آئے گی۔ مشرقِ وسطیٰ اس وقت تاریخ کے ایک نہایت نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر اس بحران کو بروقت سفارتی راستے سے حل نہ کیا گیا تو یہ صرف ایک علاقائی تنازع نہیں رہے گا بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان ایک بڑے جغرافیائی تصادم کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری کے لیے ضروری ہے کہ وہ طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دے۔ کیونکہ اگر یہ جنگ پھیل گئی تو اس کے اثرات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں اور پھر اسے روکنا شاید کسی کے بس میں نہیں رہے گا۔ نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل