Monday, March 09, 2026
 

’ملزم کے تیور ٹھیک نہیں لگ رہے‘،عدالت کا ملزم کے رویے پر سخت برہمی کا اظہار

 



سپریم کورٹ میں لڑائی جھگڑے کے ایک مقدمے میں ملزم کی درخواست ضمانت قبل از گرفتاری پر سماعت ہوئی جہاں عدالت نے ملزم کے رویے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے کمرہ عدالت میں ملزم کی سرزنش کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ملزم کے تیور ٹھیک نہیں لگ رہے اور پوچھا کہ کیا وہ کوئی بدمعاش ہے جو عدالت میں بھی طریقے سے کھڑا نہیں ہو سکتا۔ وکیل مدعی نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم نے جھگڑے کے دوران مدعی کو راڈ مار کر اس کے گھٹنے کی ہڈی توڑ دی جبکہ اس کے خلاف لڑائی جھگڑے کے مزید 18 مقدمات بھی درج ہیں۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ تم کون ہوتے ہو جو لوگوں کے پاؤں توڑتے پھرتے ہو، اگر فریقین میں صلح نہ ہوئی تو معاملہ قتل و غارت تک پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خوشاب کے لوگ لڑائی جھگڑا آسانی سے نہیں چھوڑتے۔ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے مدعی عمر دراز سے پوچھا کہ کیا وہ صلح کرنا چاہتے ہیں جس پر مدعی نے کہا کہ ان کے ساتھ ظلم ہوا ہے اور وہ ملزم کو معاف نہیں کریں گے بلکہ اسے سزا دی جائے۔ مدعی کا کہنا تھا کہ گھٹنا توڑنے کے باوجود ملزم انہیں دھمکیاں دیتا اور بدمعاشی کرتا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ لوگ تو قتل بھی اللہ کی رضا کے لیے معاف کر دیتے ہیں تاہم اگر صلح نہ ہوئی تو ملزم کو جرمانہ کیا جائے گا۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے خبردار کیا کہ آئندہ سماعت تک راضی نامہ نہ ہوا تو نتائج سنگین ہوں گے۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 2 اپریل تک ملتوی کر دی۔ درخواست ضمانت پر سماعت جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل