Loading
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ (HRW) نے اپنی ایک نئی رپورٹ میں الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے آبادی والے علاقوں میں سفید فاسفورس استعمال کیا ہے، جو بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا جاتا ہے۔
تنظیم کے مطابق تصدیق شدہ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ 3 مارچ کو جنوبی لبنان کے علاقے یوہمر (Yohmor) میں رہائشی علاقے کے اوپر سفید فاسفورس کے گولے فائر کیے گئے، جس کے باعث کم از کم دو گھروں میں آگ لگ گئی۔
ہیومن رائٹس واچ کے لبنان سے متعلق محقق رمزی کعیس نے کہا کہ آبادی والے علاقوں میں اس ہتھیار کا استعمال انتہائی تشویشناک ہے اور اس کے شہریوں پر سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سفید فاسفورس آکسیجن کے ساتھ رابطے میں آتے ہی جلنے لگتا ہے اور یہ گھروں، زرعی زمینوں اور دیگر شہری املاک کو آگ لگا سکتا ہے، جس سے ہلاکتیں اور شدید زخمی ہونے کے واقعات پیش آسکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق تنظیم نے کئی تصاویر اور ویڈیوز کی جغرافیائی تصدیق (Geolocation) بھی کی، جن میں دیکھا گیا کہ رہائشی علاقوں کے اوپر توپ خانے کے ذریعے سفید فاسفورس کے گولے فائر کیے گئے۔
ادھر لبنان میں اسرائیلی حملوں کے باعث صورتحال کشیدہ ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں میں اب تک 394 افراد شہید اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔
ہیومن رائٹس واچ نے امریکا، برطانیہ اور جرمنی سمیت اسرائیل کے اتحادی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی معطل کریں اور اس معاملے کی تحقیقات کرائیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل