Loading
پاکستان کے خلاف مبینہ سازشوں سے متعلق ایک نئی بحث اس وقت شروع ہو گئی جب ایک سابق بھارتی فوجی افسر کے بیانات منظر عام پر آئے۔
رپورٹس کے مطابق بھارتی فوج کے ریٹائرڈ کرنل راجیش پاور نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال کی جا رہی ہے، جہاں مختلف شدت پسند گروہ سرگرم ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان گروہوں کو مالی معاونت انڈیا کی جانب سے جبکہ اسلحہ اور انٹیلیجنس سپورٹ اسرائیل فراہم کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ان سرگرمیوں کا مرکزی ہدف پاکستان ہے۔
کرنل (ر) راجیش پاور کے مطابق ان ممالک کے مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور خطے میں پاکستان کو کمزور کرنا ایک مشترکہ مقصد کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل پاکستان کے ایٹمی پروگرام اور اس کے اسرائیل مخالف مؤقف کی وجہ سے اسے ایک اہم حریف کے طور پر دیکھتا ہے۔
دوسری جانب بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات پاکستان کے اس مؤقف کی تائید کرتے ہیں کہ ملک کو طویل عرصے سے پراکسی جنگ کا سامنا ہے، تاہم اس حوالے سے آزادانہ تصدیق اور شواہد کی اہمیت بھی اپنی جگہ برقرار ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر اس نوعیت کے الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہو سکتا ہے
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل