Loading
امریکا،اسرائیل اور ایران جنگ پانچویں ہفتہ میں داخل ہوچکی ہے۔اس جنگ نے ان ممالک سمیت سعودی عرب،خلیجی ممالک سمیت دیگر ممالک کو بھی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ایک طرف امریکا اور ایران کے درمیان باہمی سطح پر بات چیت کے امکانات تو دوسری طرف ان ممالک سمیت دیگر ممالک بشمول پاکستان پس پردہ بات چیت کی مدد سے مسائل کے حل کی تلاش کا عمل بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ امریکا پر یہ دباؤ کہ وہ ایران کے خلاف حتمی کارروائی کرے، خود نئے مسائل یا ٹکراؤ کے اضافے کی نشاندہی کرتی ہے۔ خلیجی تعاون کونسل نے ایران امریکا مذاکرات میں خلیجی ممالک کی شمولیت پر زور دیا ہے۔
امریکا کے صدر کے بقول ہم نے اس جنگ میں اپنے اہداف کو حاصل کرلیا ہے اور جلد ہی ہم ایک معاہدہ کے تحت اس جنگ سے نکل جائیں گے۔لیکن جس انداز میں یہ جنگ آگے بڑھ رہی ہے اور جس طرح سے اس جنگ نے دوسرے ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے تو یہ خطرات بڑھ رہے ہیں کہ جنگ کا دائرہ کار بھی بڑھ سکتا ہے اور اس میں مختلف ممالک کے درمیان پراکسی جنگ کے مسائل بھی دیکھنے کو مل سکتے ہیں ۔
ایک سوال یہ بھی ہے کہ پاکستان،ترکی اور مصر جو جنگ کے خاتمے کے لیے کوششیں کرتے نظر آرہے ہیں اگر وہ اس عمل میں کامیاب ہوتے ہیں تو ان ملکوں کی سیاسی پزیرائی ضرور ہوگی لیکن اگر یہ جنگ بڑھتی ہے اور جنگ بندی کے امکانات محدود ہوجاتے ہیں تو پھر سب کی بھی مشکلات بڑھ سکتی ہیں ۔پاکستان کی موجودہ پالیسی توازن پر مبنی ہے اور اب تک ہماری یہ ہی کوشش ہے کہ کسی بھی طریقے سے جنگ بندی پر تصفیہ ہو اور جو ایران،سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں ایک دوسرے کی سطح پر بداعتمادی بڑھ رہی ہے وہ ختم ہو۔لیکن ایک بات سمجھنی ہوگی کہ اگر یہ جنگ مزید آگے بڑھتی ہے اور خلیجی ممالک کے داخلی مسائل بھی بڑھتے ہیں تو ہم پر بھی ایک خاص پوزیشن لینے کے لیے دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
اسی کو بنیاد بنا کر جو سعودی ،ترکیہ،مصر اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان اہم بیٹھک اسلام آباد میں ہوئی ہے۔ یہ ملاقات اور اس کے نتیجے میں مزید سفارت کاری کی کوشش اس جنگ کے ختم ہونے یا نہ ہونے کے کچھ اشاروں کو سامنے لاسکے گی۔کیونکہ پاکستان سمیت ان ممالک کی سہولت کاری کی اپنی اہمیت ہے لیکن فیصلہ کی اصل طاقت امریکا،اسرائیل اور ایران کے پاس ہی ہوگی کہ وہ کس حد تک ایک دوسرے کے لیے سیاسی لچک دکھاتے ہیں ۔
امریکا کے صدر اس برتری سے جنگ بندی کی طرف جانا چاہتے ہیں کہ وہ اس جنگ سے سرخرو ہوئے ہیں ۔کیونکہ امریکا کی داخلی سیاست میں ٹرمپ پر بہت زیادہ تنقید بڑھ رہی ہے اور ان کے خلاف لوگ بھی سڑکوں پر احتجاج کررہے ہیں کہ ہمیں ٹرمپ کی صورت میں بادشاہت منظور نہیں اور وہ جنگ بندی کریں۔ لیکن کیونکہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس جنگ کو ایک ایسی جگہ پر لے کر آگئے ہیں کہ ان کے لیے بغیر کامیابی کے پلٹنا کسی بھی طور پر ممکن نہیں۔اسی لیے کہا جارہا ہے کہ ٹرمپ کے پاس دو ہی آپشن ہیں اول وہ ایران کے ساتھ کمزور معاہدہ کریں، جنگ سے باہر نکلنے کو ترجیح دیں یا دوئم، فوجی کارروائی میں مزید شدت پیدا کرکے طویل جنگ کا خطرہ مول لیں ۔یہ جو کہا جا رہا ہے کہ پاکستان ایران کو امریکا کیے ساتھ سنجیدہ مذاکرات پر لاسکتا ہے ،درست بات ہے ۔لیکن اصل سوال یہ ہے کیا امریکا ایران کے بارے میں اپنے موقف میں سیاسی لچک دکھا سکے گا۔اسی طرح امریکا اور موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ضمانت کون دے گا کیونکہ وہ سیاسی یوٹرن بہت لیتے ہیں اور ایران کی قیادت بھی ان پر بہت زیادہ اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں۔اس لیے مذاکرات میں امریکا کی ضمانت کونسا ملک دے گا اس پر سوالیہ نشان ہے۔
ایران یہ بھی سمجھتا ہے کہ امریکا اور اسرائیل اسے اس خطہ میں تنہا کرنا چاہتا ہے۔ ایران کے بقول امریکا مذاکرات کے نام پر ایران پر ایک بڑے حملے کی تیاری کررہا ہے ۔پاکستان کا کیونکہ سعودی عرب کے ساتھ ایک دفاعی معاہدہ بھی ہے تو اس پر تو پاکستان کی ذمے داری اور زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ وہ سعودی عرب اور ایران تنازعہ میں شدت کو کم کرے۔اگرچہ مذاکرات کی باتیں اپنی جگہ مگر آج بھی جنگ پر مبنی کارروائیاں شدت کے ساتھ جاری ہیں جو یقینی طور پر مذاکرات کے عمل کو پیچھے دھکیلنے کا سبب بن سکتی ہیں ،خود ایران کے بقول امریکا ہمیں مذاکرات کے کھیل میں الجھا کر ہمارے خلاف ایک بڑی جنگی کارروائی کی تیاری کررہا ہے اور امریکا ایک ناقابل بھروسہ ملک ہے اور اس کے کھیل کا مقصد اس خطہ میں اسرائیل کی بالادستی کا جنون ہے۔اس جنگ کے جنون نے پوری دنیا کو ایک بڑے معاشی سطح کے بحران میں بھی دھکیل دیا ہے اور خود پاکستان جیسے ممالک جو پہلے ہی کمزور معیشت پر مبنی ممالک ہیں اس کو اس جنگ کی معاشی اعتبار سے ایک بڑی بھاری قیمت ادا کرنا پڑرہی ہے ۔
ابھی تک حکومت نے بہت سے معاملات پر براہ راست بوجھ ڈالنے کی پالیسی اختیار کی ہے مگر یہ جنگ اگر لمبی ہوتی ہے تو پھر حکومتوں کے پاس بھی کوئی آپشن نہیں بچے گا کہ وہ اس جنگ کا بوجھ عوام پر بھی ڈالیں۔مثال کے طور پر اس وقت وفاقی حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ نہیں کیا مگر صوبائی حکومتیں چاہتی ہیں عوام پر بوجھ ڈالا جائے اور ہم سے سبسڈی کے نام پر کٹوتی نہ کی جائے ۔اس لیے اس جنگ کا بند ہونا ہی عالمی اور دیگر ممالک کی سیاست اور معیشت کے مفاد میں ہے ۔لیکن یہ کام اسی صورت میں ممکن ہوگا جب بڑے ممالک اپنی موجودہ جنگی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں اور طاقت کے انداز سے یا جنگ سے کنارہ کشی اختیار کرکے بات چیت کے راستہ کو اپنی سیاسی حکمت عملی کا حصہ بنایا جائے۔
امریکا اور اسرائیل نے جس انداز سے جنگی حکمت عملی اختیار کرکے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے وہ ظاہرکرتا ہے کہ اس پر جو طاقت کی حکمرانی کا بھوت سوار ہے اور دنیا کے مختلف ملکوں کی خودمختاری کو بھی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ ہمیں بھی امریکا کی اس جنگ کی پالیسی سے خبردار رہنا ہوگا ۔
جب ایک ایسے موقع پر امریکا اور ایران کی سطح پر اچھے بھلے مذاکرات ہورہے تھے تو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کرکے جنگ پر مبنی حکمت عملی اختیار کی ہے اور وہ عملًا ایران کے خلاف جنگی حکمت عملی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا چاہتے تھے اور آج بھی کررہے ہیں۔پاکستان جس نے اس وقت عالمی اور علاقائی یا خلیجی سطح پر سفارت کاری میں اپنی اہمیت بڑھائی ہے تو اسے خود کو ایک ایسے کردار میں لے کر آگے بڑھنا ہے جہاں اس کی پالیسی میں توازن بھی ہو اور وہ کسی کا فریق بننے کی بجائے جس حد تک تعلقات کے بگاڑ میں اپنا مثبت کردار ادا کرسکتا ہے وہ کرے۔اسی بنیاد پر پاکستان اس جنگ میں بلاوجہ الجھے بغیر اپنے داخلی، سیاسی ،معاشی اور سیکیورٹی کے استحکام کو بھی ممکن بنا سکے گا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل