Loading
وزیراعلی مریم نواز شریف کی ہدایت پر لیڈی ولنگڈن اسپتال میں مبینہ ویڈیو پر محکمہ صحت نے بڑا ایکشن لے لیا۔
ذمہ دار سینیئر انتظامی افسران کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹروں کے خلاف پی ایم ڈی سی کو بھی خط لکھ دیا گیا۔
لیڈی ولنگڈن ویڈیو کیس میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹنگ کونسل کو پانچ ڈاکٹروں کے خلاف انضباطی کارروائی کے لیے باضابطہ لیٹر بھی جاری کر دیا گیا۔ دوران آپریشن مریضہ کی ویڈیو بنانے پر ڈاکٹر طیبہ، ڈاکٹر ماہم، ڈاکٹر زینب، ڈاکٹر عائشہ اور ڈاکٹر عیسیٰ کے خلاف کارروائی کی ہدایت بھی کی گئی۔
محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کی طرف سے سابق ایم ایس، سینیئر کنسلٹنٹ، سینیئر رجسٹرار، سینیئر میڈیکل آفیسر اور ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کو باضابطہ شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا۔
سابق ایم ایس ڈاکٹر فرح، ایچ او ڈی ڈاکٹر عظمیٰ ،سینیئر کنسلٹنٹ اینتھٹزیا، ڈاکٹر منیر، سینیئر رجسٹرار ڈاکٹر روطابہ، سینیئر رجسٹرار ڈاکٹر منزہ، سینیئر ویمن میڈیکل آفیسر ڈاکٹر درہ ارم کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی کا آغاز کر دیا گیا۔
ایم ایس، ایچ او ڈی اور دیگر سینیئر ڈاکٹرز فرائض میں غفلت اور کوتاہی کے مرتکب قرار دیے گئے جبکہ انتظامی کمزوری، نااہلی اور کنٹرول کے الزامات عائد کیے گئے۔
سیکریٹری محکمہ صحت عظمت محمود نے 7 دن کے اندر تحریری جواب طلب کر لیا۔
سیکرٹری قانون آصف بلال لودھی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر ہیئرنگ آفیسر مقرر کیے گئے ہیں۔ لیڈی ولنگڈن کیس میں ملوث ڈاکٹر اور سینیئر حکام کو 7دن کے اندر ذاتی طورپر پیش ہونے یا تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ایم ایس اور ایچ او ڈی سمیت سابق ڈبلیو ایم ڈاکٹر اقرا حفیظ، چارج نرس ڈاکٹر اقرا زاہد، چارج نرس فوزیہ رشید اور اسٹاف حسیب الرؤف کو بھی شوکاز نوٹس جاری کیا گیا۔
سیکرٹری بلدیات میاں شکیل احمد ہیئرنگ آفیسر مقرر کیے گئے، 7 دن میں پیش ہونے یا تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کر دی گئی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل