Tuesday, March 31, 2026
 

اسلام آباد میں معروف کاروباری شخصیت کا قتل، ملزمان خیبرپختوںخوا سے گرفتار

 



اسلام آباد پولیس نے معروف کاروباری شخصیت عامر اعوان کو دوران ڈکیتی قتل کرنے والے خیبرپختونخوا کے ڈکیت گینگ کو چارسدہ سے گرفتار کرلیا، منصور خان ڈکیت گینگ بین الصوبائی گینگ ہے جس میں افغان باشندے بھی شامل ہیں۔ ڈکیتوں کی گرفتاری کا اعلان وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی نے پریس کانفرنس میں کیا۔ طلال چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد میں پرسوں رات ایک افسوس ناک واقعہ پیش آیا، اسلام آباد کی کاروباری شخصیت عامر اعوان کو ڈکیتی کی واردات کے دوران قتل کیا گیا، اسلام آباد میں جرائم کا مسئلہ دوسرے صوبوں سے ہٹ کر ہے، اسلام آباد میں بین الاقوامی وفود، سفارتکار، غیر ملکی کاروباری شخصیات سمیت چاروں صوبوں سے شہری یہاں رہتے ہیں، اسلام آباد میں امن و امان برقرار رکھنا باقی صوبوں سے زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ طلال چوہدری نے کہا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد کے  امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے بنیادی فیصلے کیے، اسلام آباد میں سیف سٹی کیمروں کو مکمل فعال کیا گیا، اسلام آباد پولیس کو وسائل کی بے شمار کمی تھی اور نہ ہی فرانزک لیب تھی، بنیادی مسائل کو بیک وقت حل کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے گئے، پاکستان کا پہلا سیف سٹی ہو گا جہاں ٹریفک ، امن و امان سمیت اے آئی ٹیکنالوجی سے مدد لی جائے گی۔  آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی نے کہا کہ معروف تاجر کا قتل ملکی سطح  کی خبر بن گئی، وزیرداخلہ نے ہدایت کی کہ یہ اسلام آباد پولیس کیلئے ٹیسٹ کیس ہے، وزیرداخلہ نے کہا اسلام آباد پولیس اپنے آپ کو ثابت کرے، اس کیس کو حل کرنے کیلئے 17 ٹیمز بنائی گئیں، 6جگہوں کی جیوفینسنگ کروائی گئی، 137 کال ڈیٹیلز کا موازنہ کیا گیا، 257کیمروں کی فیڈ لی گئی اور ان کا فارنزک تجزیہ کرایا گیا۔ آئی جی نے کہا کہ اے آئی کو استعمال کرتے ہوئے یہ کیس حل کیا گیا، ہم نے 93 لوگوں سے تفتیش کی، اس کیس کو حل کرنے کے لیے ایک اسپیشل کنٹرول روم قائم کیا گیا،ملزمان کی گرفتاری کے لیے 31 چھاپے مارے گئے، پنڈی اسلام آباد اور چارسدہ و مردان میں ریڈ کی گئی، چارسدہ سے منصورخان ڈکیت گینگ پکڑا گیا۔ آئی جی نے کہا کہ یہ گینگ بلٹ پروف جیکٹس پہن کر ڈکیتیاں کرتا تھا، یہ بین الصوبائی گینگ ہے جو کے پی کے، اسلام آباد اور پنجاب میں وارداتیں کرتے تھے، ان کے پاس ایک کلاشنکوف اور دیگر اسلحہ تھا، اس گینگ میں دو افغان باشندے بھی شامل تھے۔ 

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل