Wednesday, April 01, 2026
 

اسرائیل کا خفیہ ہتھیار بے نقاب، اے آئی کے ذریعے ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کا بڑا انکشاف

 



امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیل ایران کے خلاف کارروائیوں میں جدید مصنوعی ذہانت پر مبنی خفیہ نظام استعمال کر رہا ہے، جس کے ذریعے ایرانی اعلیٰ عہدیداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس اداروں نے ایک جدید اے آئی پلیٹ فارم تیار کیا ہے جو بڑے پیمانے پر جمع کیے گئے ڈیٹا کا تجزیہ کر کے اہم اہداف کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس نظام کو اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد اور فوج کے ایلیٹ سائبر یونٹ 8200 کی مشترکہ کاوش قرار دیا جا رہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران اسرائیل نے ایران کے ڈیجیٹل نظام میں گہرائی تک رسائی حاصل کی اور حساس معلومات اکٹھی کیں۔ ان معلومات میں سکیورٹی اداروں، ٹریفک کیمروں، ادائیگی کے نظام اور سرکاری ڈیٹا بیس شامل ہیں، جنہیں بعد میں اے آئی سسٹم کے ذریعے تجزیہ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس جدید نظام کی بنیاد تقریباً پانچ سال قبل رکھی گئی تھی، جب ایران اور اسرائیل کے درمیان سائبر حملوں کا تبادلہ جاری تھا۔ اسی دوران اسرائیل نے خفیہ طور پر ایران کے اہم انفراسٹرکچر میں دراندازی کر لی۔ مزید کہا گیا ہے کہ ایرانی حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ کنٹرول کے سخت اقدامات بھی بالواسطہ طور پر اس جاسوسی کو ممکن بنانے میں معاون ثابت ہوئے، جس کے نتیجے میں ایک مرکزی ڈیجیٹل نظام قائم ہوا جس تک رسائی حاصل کرنا نسبتاً آسان ہوگیا۔ اس اے آئی پلیٹ فارم کی مدد سے اسرائیلی فوج کو یہ صلاحیت حاصل ہو گئی ہے کہ وہ فوری طور پر اہداف کی نشاندہی کر کے حملے کرے، حتیٰ کہ دوران پرواز میزائلوں کا رخ بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نظام کے ذریعے اب تک 250 سے زائد ایرانی اعلیٰ عہدیداروں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل