Thursday, April 02, 2026
 

آئی ایم ایف سے پیٹرول کی قیمتیں بڑھانے کا وعدہ، مہنگائی 17 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

 



 پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ پٹرولیم قیمتیں بڑھانے کا وعدہ کر لیا، بجٹ میں مالیاتی گنجائش نہ ہو نے پرقیمتوں میں اضافہ کر دیا جائیگا،دوسری طرف تیل، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی گزشتہ ماہ میں ڈیڑھ سال کی بلند ترین سطح 7.3 فیصد تک پہنچ گئی۔ ذرائع نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ کو آگاہ کیا کہ پٹرول اور ڈیزل پر دی جانے والی سبسڈی عارضی ہے اور یہ تب تک جاری رہے گی جب تک بجٹ میں مالیاتی گنجائش کی نشاندہی نہیں ہو جاتی، ایندھن کی قیمتوں کو برقرار رکھنے کے لیے مزید 200ارب کی مالیاتی گنجائش نکالنے کیلیے صوبوں سے بات چیت کی جا رہی ہے۔ حکام نے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا کہ بجٹ میں زیادہ سبسڈی سے بچنے کے لیے ایندھن کی قیمتوں میں باقاعدگی سے نظرثانی کی اجازت جاری رہے گی جب تک کہ اضافی گنجائش نہیں نکلتی، حکومت نے سرکاری گاڑیوں کے فیول الاؤنسز میں کمی اور پچھلی سہ ماہی کے غیر تنخواہی اخراجات میں 20 فیصد کمی سے 27 ارب روپے بچائے ہیں وفاقی ترقیاتی بجٹ سے مزید 100 ارب روپے کم کر دیئے گئے ہیں۔ تاہم حکومت کے اندر لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ طلب کو کم کرنے کے اقدام کے طور پر اس جمعہ کو قیمتوں میں کچھ اضافہ کیا جانا چاہیے۔ ذرائع کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں 20 فیصد اضافے کے باوجود گزشتہ ماہ کھپت میں کوئی کمی نہیں ہوئی کیونکہ نہ تو عوام اور نہ ہی حکومت نے خود نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا۔ آئی ایم ایف نے توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو دور کرنے کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مستحقین کیلئے سہ ماہی وظیفے کو اگلے سال جنوری سے 35 فیصد بڑھا کر 19,500 روپے کرنے کی نئی شرط بھی عائد کر دی ہے تاہم امداد میں 5ہزار روپے کا سہ ماہی اضافہ درمیانی آمدنی والے گروپوں پر اثرات کو پورا نہیں کر سکتا۔ بی آئی ایس پی امداد سے جون تک مستفید ہونے والوں کی تعداد بھی دو لاکھ سے بڑھ کر 10.2 ملین تک پہنچ جائیگی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان جنوری 2027 سے غیر مشروط کیش ٹرانسفر کی رقم 14,500 روپے سے بڑھا کر 19,500 روپے کرنے کے لیے مفاہمت ہو گئی ہے جو عالمی مالیاتی ادارے کی نئی شرط ہے،یہ اضافہ مہنگائی کے اثرات کو دور کرنے کے لیے کافی ہو گااور کم آمدنی والے طبقے کی جانب سے استعمال کی جانے والی بنیادی خوراک کی قیمت کے 15 فیصد کے قریب لے جایا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ مشروط منتقلی کے حصے کے طور پر، صحت اور تعلیم کی اسکیموں کے تحت تقریباً 7لاکھ مزید مستفید کنندگان کو شامل کیا جائے گا اور مزید 2لاکھ کو بی آئی ایس پی کے ذریعے چلائے جانے والے نیوٹریشن پروگراموں میں شامل کیا جائے گا۔ حکومتی ذرائع نے بتایا کہ 1.2 بلین ڈالر کے قرض کی اقساط کی سیٹلمنٹ کے لیے اسٹاف لیول سطح پر مشروط معاہدے تک پہنچنے سے پہلے آئی ایم ایف کو قیمتیں بڑھانے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ اس سلسلے میں ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی عدالتی مقدمات سے 322 ارب روپے ریونیو کمانے کی صلاحیت سے مشروط ہے۔ واضح رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے فوراً بعد ایندھن کی قیمتوں میں ابتدائی طور پر 20 فیصد اضافہ کر کر کے قیمتیں برقرار رکھی ہیں تاہم حکومت اب بھی پٹرول پر غیر معقول حد تک زیادہ ٹیکس لگا رہی ہے جو اس سبسڈی سے کہیں زیادہ ہیں جو حکومت مصنوعات پر دے رہی تھی۔ دوسری جانب ادارہ شماریات کی گذشتہ روزکی رپورٹ کے مطابق مارچ میں مہنگائی بڑھ کر 7.3 فیصد ہو گئی جو گزشتہ 17ماہ کی بلند ترین سطح تھی تاہم یہ اب بھی حکومت کی توقعات سے کم اور سالانہ ہدف کی حد کے اندر تھی۔ گزشتہ ماہ خوراک کی قیمتوں کی بڑھنے کی شرح مزید کم ہوئی لیکن شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں غیر خوراکی قیمتوں میں اضافہ ہوا، گیس کی قیمتوں میں 23 فیصد اضافہ ہوا، گزشتہ ماہ پٹرول میں 18 فیصد اور بجلی کی قیمتوں میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 14 فیصد اضافہ ہوا۔ غیر غذائی اور دیگر اشیاکی قیتمیں بھی گزشتہ ماہ بڑھ کر شہری علاقوں میں 7.4 فیصد اور دیہی علاقوں میں 8.4 فیصد تک پہنچ گئی۔پاکستان نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ شرح سود میں اضافے کے لیے تیار ہے بشرطیکہ سالانہ افراط زر کی شرح 7.5 فیصد کے ہدف سے بڑھ جائے۔ تاہم کوئی بھی عارضی تبدیلی شرح سود میں اضافے کی بنیاد نہیں بننا چاہیے ، اس سے معیشت مزید سست ہو سکتی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل