Loading
پیرس: یورپی پارلیمنٹ کی رکن ریما حسن کو فرانس میں پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔
فرانسیسی میڈیا کے مطابق ان پر ’دہشت گردی کی حمایت‘ کے شبہ میں کارروائی کی گئی ہے۔
سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے والوں کو دبانے کی کوشش ہے۔
فرانسیسی اخبار کے مطابق ریما حسن کی حراست ایک سوشل میڈیا پوسٹ کی وجہ سے ہوئی، جس میں انہوں نے 1972 میں اسرائیل کے بن گوریون انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں شریک کوزو اوکاموتو کا ذکر کیا تھا۔ انہوں نے بعد میں یہ پوسٹ حذف کر دی تھی۔
ریما حسن ایک فرانسیسی-فلسطینی وکیل اور فعال رکن ہیں، جو 2024 میں یورپی پارلیمنٹ کی رکن منتخب ہوئیں۔
وہ غزہ میں اسرائیلی حملوں کی کھل کر مخالفت کرتی رہی ہیں اور اکتوبر 2025 میں غزہ کی جانب روانہ ایک فلوٹیلا میں بھی شریک ہوئی تھیں جسے اسرائیلی فورسز نے بین الاقوامی پانیوں میں روکا تھا۔
ان کی گرفتاری پر ان کی سیاسی پارٹی کے اراکین نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ پارٹی کی رکن صوفیہ چیکرو نے کہا کہ فرانس میں پولیس اور عدلیہ فلسطین کے حامیوں کو دھمکانے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل