Friday, April 03, 2026
 

ویتنام کے بعد سب سے زیادہ پیٹرولیم نرخوں میں اضافہ ہوا پاکستان میں ہوا، بیرسٹر گوہر

 



چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ ویتنام کے بعد پاکستان میں سب سے زیادہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور ہم نے نائجیریا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ یہ بات انہوں ںے تیمور سلیم جھگڑا اور اخونزادہ حسین یوسف زئی کے ساتھ خیبرپختونخوا ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آج ہمارا ون پوائنٹ ایجنڈا ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے عام پاکستانی اور غریب کاشت کار شدید متاثر ہوتا ہے، حکومت نے غیر ضروری طور پر شدید اضافہ کیا، 96 ممالک میں پیٹرولیم نرخوں میں اضافہ ہوا لیکن دنیا میں ویتنام کے بعد پاکستان میں سب سے زیادہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور ہم نے نائجیریا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا، حکومت آئی ایم ایف سے ڈیل کرنے میں ناکام ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مینجمنٹ نہیں کرسکی، حکومت کی پلاننگ میں فقدان تھا شاہ خرچیوں کی وجہ سے پیٹرولیم لیوی کو کم نہیں کیا جارہا، حکومت نے عوام کے ساتھ دھوکا کیا ہے، کے پی میں چودہ لاکھ بائیک ہیں اور ملک بھر میں ٹو پوائنٹ فائیو ملین سے زیادہ بائیکس ہیں، حکومت نے کرپشن کا ایک نیا دروازہ کھولا ہے، ہم عالمی دنیا سے اپیل کرتے ہیں کہ اس جنگ کو روکا جائے۔ تیمور سلیم جھگڑا تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ یہ سمجھ نہیں آتی جب پیٹرول کی قیمت کم ہوتی ہے تو وزیراعظم خود عوام کو بتاتے ہیں اور جب بڑھتی ہے تو وزرا کو آگے کر دیتے ہیں، ایک دن میں پیٹرول کی قیمت 137 روپے بڑھی ہے، مارچ اپریل 2022ء میں پیٹرول کی قیمت 139 روپے تھی اور آج ایک دن میں اتنی قیمت بڑھی ہے، اب وہ والے ڈائیلاگز چاہئیں جو یہ لوگ ہمارے دور میں بولتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اپنے دور میں صرف یہی ہدایات کی تھیں کہ ہر اقدام سے عوام کو ریلیف دیں، اس وقت بھی بیورو کریسی کہتی تھی کہ سر یہ ہو جائے گا وہ ہو جائے گا یہ لوگ عوام کا سامنا نہیں کرسکتے، وزیراعظم لوگوں کے سامنے نہیں جاسکتے، ہندوستان میں پیٹرول کی قیمتیں پاکستان سے کم ہیں حکومت نے غیر ضروری طور پر قیمتوں میں اضافہ کیا حکومت چاہتی تو محدود اضافہ کرسکتی تھی، سبسڈی کے نام پر فراڈ کیا جارہا ہے، یہ آٹے میں نمک کے برابر ہے، پیٹرول بڑھانے سے ہر چیز کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔ تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ ترکیہ، تھائی لینڈ، چین حتیٰ کہ افغانستان میں بھی پیٹرول پاکستان سے سستا ہے، یہ صرف قیمت میں اضافہ نہیں کر رہے ہیں بلکہ یہ اس کی مد میں لیوی بھی بڑھا رہے ہیں، انہوں نے کسٹم ڈیوٹی بھی بڑھائی ہے، کلائمیٹ لیوی بھی انہوں نے ختم نہیں کی، ہائی آکٹین پیٹرول جو صاف پیٹرول ہوتا ہے اس میں بھی کلائمیٹ لیوی لی جارہی ہے، سبسڈی کے نام پر فراڈ کیا جارہا ہے، یہ آٹے میں نمک کے برابر ہے، پیٹرول بڑھانے سے ہر چیز کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔ انہوں ںے کہا کہ اکانومی ٹھیک کرنی ہے تو سب سے پہلے خریدا ہوا جہاز بیچیں، گریڈ بیس اور اکیس اور دیگر بیوروکریسی کا مفت پٹرول ختم کریں، جب یہ بیورو کریسی جیب سے پٹرول ڈلوائے گی تو دیکھیں گے یہ کن اصلاحات کی تجویز دیتے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل