Loading
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل لبنان پر حملے جاری رکھتا ہے تو وہ امریکا کے ساتھ طے شدہ جنگ بندی معاہدے سے دستبردار ہو سکتا ہے۔
اس بات کا انکشاف ایران کی نیم سرکاری خبر ایجنسی تسنیم نے اپنی ایک رپورٹ میں ایک اعلیٰ عہدیدار کے حوالے سے کیا۔
ایرانی عہدیدار نے ’’تسنیم نیوز‘‘ کو بتایا کہ صیہونی حکومت کے لبنان پر جاری حملوں کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور ایران اسرائیلی خلاف ورزیوں کے تسلسل کا جائزہ بھی لے رہی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ جس کے باعث ایران غور کر رہا ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان پر حملے جاری رکھے تو امریکا کے ساتھ طے پانے والے جنگ بندی معاہدے سے علیحدگی اختیار کی جائے۔
ایرانی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کے ساتھ طے پانے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی منصوبے میں لبنان میں حزب اللہ سمیت تمام محاذوں پر جنگ روکنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔
تاہم اسرائیل نے جنگ بندی کے پہلے ہی روز یعنی آج لبنان میں اسرائیلی فوج نے بیروت، بقا وادی اور جنوبی لبنان میں صرف 10 منٹ میں 100 سے زائد مقامات پر حملے کرنے کی تصدیق کی۔
ایران کی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق اسرائیلی خلاف ورزی کے جواب میں ایران نے آبِنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی آمد و رفت روک دی ہے۔
جس کی اطلاع ایرانی خبر ایجنسی فارس نے دی۔ فارس کے مطابق، جنگ بندی کے نفاذ کے بعد آج صبح دو تیل کے ٹینکر کو گذرنے کی اجازت دی گئی تھی، لیکن اسرائیل کے حملوں کے ساتھ ہی ہرمز کی آمد و رفت روک دی گئی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل