Loading
پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں پہلی بار روبوٹک سرجری کا آغاز کردیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق اس طریقہ علاج کے بعد مریضوں کو اب بعض بیماریوں میں دوسرے شہروں کو نہیں جانا پڑے گا۔ پہلی روبوٹک سرجریز ورکشاپ ایل آر ایچ کے یوروآلوجی یونٹ اور یوکے سے تعلق رکھنے والے سینئرڈاکٹروں کے باہمی اشتراک سےکی گئی ہے۔
ہسپتال کے ترجمان محمد عاصم کے مطابق روبوٹکس سرجری ایک جدید طریقہ علاج ہے۔جس میں سرجری ڈاکٹرز ہی کرتے ہیں تاہم انہیں ایک جدید روبورٹک سسٹم کی مدد حاصل ہوتی ہے.
اس سسٹم کے ذریعے انتہائی باریک آلات اور ہائی ڈیفینیشن کیمرے استعمال کئے جاتے ہیں جو جسم کے اندرونی حصوں کو واضح انداز میں دکھاتے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی سے لیس اس نظام کے لئے ڈاکٹرز کو خصوصی تربیت دی جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی مدد سے پیچیدہ آپریشنز زیادہ درست انداز سے کئے جانا ممکن ہوتے ہیں اور انسانی غلطیوں کا احتمال کم ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ جدید طریقہ علاج کا مقصد خصوصاً بڑے آپریشن کو نہ صرف آسان تر بنانا ہے بلکہ اس کے نتائج پرانے طریقہ علاج سے بہت بہتر ہوتے ہیں۔
اس طریقہ علاج میں کم زخم ، کم خون کا ضیاع، انفیکشن کے کم امکانات اور مریضوں کی تیزی سے بحالی ہوتی ہے۔ ایل آر ایچ کی یورولوجی یونٹ کی ہیڈ ڈاکٹر عذرا غنی اور ان کی ٹیم کے مطابق روبوٹکس سرجری ورکشاپ بڑی کامیابی ہے جس میں ایل آر ایچ انتظامیہ کی بھرپور سپورٹ حاصل رہی ہے۔
برطانیہ سے تعلق رکھنے والے سینیٹر ڈاکٹر پروفیسر ڈاکٹر متین اور ایل آر ایچ یورولوجی یونٹ کی ہیڈ ڈاکٹر عزرا غنی اور ان کی ٹیم نے کامیاب روبوٹکس آپریشن کئے۔ روبوٹکس سرجری کو آپریشن تھیٹر سے آڈیٹوریم میں براہ راست بڑی سکرین پر دکھایا گیا۔ ایل آر ایچ کے ڈین، ہسپتال ڈائریکٹر اور میڈیکل ڈائریکٹر نے تمام شرکاء اور ڈاکٹروں کو کامیاب ورکشاپ پر مبارکباد دی اور مستقبل میں ہر قسم کے تعاون کا عندیہ بھی دیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل