Sunday, April 12, 2026
 

سونگھنے کی حس میں کمی کس بیماری کی علامت ہو سکتی ہے؟

 



ایک تازہ ترین تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ سونگھنے کی حس میں کمی، الزائمر بیماری کی ابتدائی اور اہم ترین علامات میں سے ایک ہو سکتی ہے اور حیران کن طور پر یہ یادداشت کے واضح مسائل سے بھی پہلے ظاہر ہو سکتی ہے۔ جرمنی کے تحقیقی ادارے ڈی زیڈ این ای اورلُڈوگ میکس میلینس یونیورسٹی میونخ (ایل ایم یو) کے سائنس دانوں کی نئی تحقیق نے اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ اس تحقیق کے مطابق دماغ کا مدافعتی نظام اس عمل میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ کبھی کبھار غلطی سے انہی اعصابی ریشوں (nerve fibers) پر حملہ کر دیتا ہے جو سونگھنے کی حس کے لیے نہایت ضروری ہوتے ہیں۔ نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں چوہوں اور انسانوں دونوں سے حاصل ہونے والے شواہد شامل ہیں جیسے دماغی بافتوں کا تجزیہ اور پی ای ٹی اسکیننگ۔ یہ نتائج نہ صرف بیماری کی ابتدائی تشخیص کو بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ بروقت علاج کے نئے دروازے بھی کھول سکتے ہیں۔ محققین کے مطابق سونگھنے سے متعلق مسائل اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب دماغ کے مدافعتی خلیے، جنہیں ’مائیکروگلیا‘ کہا جاتا ہے، دو اہم حصوں کے درمیان رابطے ختم کرنا شروع کر دیتے ہیں: اولفیکٹری بلب اور لوکس سیرو لیئس۔ اولفیکٹری بلب، جو دماغ کے اگلے حصے (forebrain) میں واقع ہوتا ہے، ناک میں موجود خوشبو محسوس کرنے والے ریسیپٹرز سے آنے والے سگنلز کو پراسیس کرتا ہے۔ جبکہ لوکس سیرو لیئس، جو برین اسٹیم میں پایا جاتا ہے، لمبے اعصابی ریشوں کے ذریعے اس عمل کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل