Friday, April 17, 2026
 

تفریح کے نام پر اخلاقیات سے گرا مواد

 



    مارننگ شوز کی چکا چوند اور ڈراموں میں دکھائے جانے والے بکھرتے رشتوں کے درمیان، ہم اپنی اصل پہچان اور خاندانی سکون کھوتے جا رہے ہیں۔ آج کل جب ہم ٹی وی آن کرتے ہیں تو اکثر ایسا لگتا ہے کہ ہم کوئی فیملی شو نہیں دیکھ رہے بلکہ کسی کی نجی زندگی کے بیڈروم میں جھانک رہے ہیں۔ ابھی حال ہی میں ایک لائیو شو کے دوران جو کچھ ہوا، اس نے ایک بار پھر ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ کیا ہمارے میڈیا ہاؤسز نے ریٹنگ کے لیے تمام اخلاقی حدیں پار کرلی ہیں؟ ایک لائیو شو کے دوران شوہر کا اچانک آ کر بیوی کو گود میں اٹھا لینا اور اسے فخر کے ساتھ لائیو دکھانا، کیا واقعی یہ وہ تفریح ہے جس کی ہمیں ضرورت ہے؟ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کی بنیادیں اسلامی اصولوں اور مشرقی روایات پر کھڑی ہیں، جہاں میاں بیوی کے رشتے کو ایک مقدس اور پردہ دار رشتہ سمجھا جاتا ہے۔ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں، وہاں حیا کا ایک خاص مقام ہے اور یہی حیا ہمیں دوسرے معاشروں سے ممتاز کرتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے کہ: حیا ایمان کا ایک بڑا حصہ ہے۔ جب ٹی وی جیسے طاقتور ذریعے پر اس طرح کے مناظر دکھائے جاتے ہیں، تو یہ صرف ایک فرد کا عمل نہیں رہتا بلکہ یہ پورے معاشرے کے لیے ایک نیا ’نارمل‘ بن جاتا ہے اور ہماری ایمانی بنیادوں یعنی حیا کو کمزور کرتا ہے۔ ہم ماضی میں اکثر انڈین میڈیا اور ان کی فلموں پر تنقید کرتے تھے کہ وہاں لباس کی بہت زیادہ بے ہودگی ہے اور وہ اپنی ثقافت کو بھول کر مغرب کی اندھی تقلید کر رہے ہیں۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج ہمارا اپنا میڈیا بھی اسی ڈگر پر چل نکلا ہے۔ اگر ہم آج کی پاکستانی فلموں یا ڈراموں کو دیکھیں تو لباس کے معاملے میں ہم شاید ان سے بھی دو ہاتھ آگے نکل چکے ہیں۔ وہی واہیات لباس اور وہی ناچ گانا جس پر ہم کبھی دوسروں کو برا کہتے تھے، اب ہمارے اپنے گھروں میں ٹی وی اسکرینز کے ذریعے داخل ہو چکا ہے۔ اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات وہ ’’ڈبل میننگ‘‘ یعنی دہرے مفہوم والی گفتگو ہے، جو آج کل کے شوز کا حصہ بن چکی ہے۔ ایسی باتیں جو کبھی چھپائی جاتی تھیں یا جن کا ذکر محفلوں میں معیوب سمجھا جاتا تھا، اب انہیں مزاح کے نام پر کھلے عام بولا جاتا ہے۔ ایک سمجھدار بندہ آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ ان جملوں کے پیچھے کیا گندگی چھپی ہے، لیکن اسے تفریح بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔ اگر ہم پیچھے مڑ کر دیکھیں تو نوے کی دہائی کی پنجابی فلموں میں جو بے ہودگی اور واہیات گفتگو شروع ہوئی تھی، اس نے ہماری فلم انڈسٹری کا بیڑا غرق کردیا تھا۔ وہ ایسی فلمیں تھیں جنہیں آپ کبھی بھی اپنے گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر نہیں دیکھ سکتے تھے۔ آج وہی گندگی ایک نئے اور پڑھے لکھے روپ میں ہمارے ٹی وی ڈراموں اور لائیو شوز میں سرائیت کر رہی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے وہ کھلم کھلا ہوتا تھا اور اب اسے ’جدت‘ اور ’آزادیِ اظہار‘ کا لبادہ پہنا دیا گیا ہے۔ مارننگ شوز کی حالت تو یہ ہو چکی ہے کہ وہاں صبح سویرے علم، تربیت یا کسی مثبت گفتگو کے بجائے ناچ گانا شروع ہو جاتا ہے۔ شادی بیاہ کی رسومات کو اس طرح گلیمرائز کیا جاتا ہے جیسے زندگی کا مقصد صرف ڈھول دھماکا ہی ہے۔ ان شوز میں دکھایا جانے والا بے جا اسراف اور غیر اخلاقی حرکات عام گھرانوں کی خواتین کے ذہنوں کو بری طرح متاثر کررہی ہیں، جو آخر کار گھروں میں ناچاقی اور لڑائی جھگڑوں کا باعث بنتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمارے ڈراموں میں طلاق کو ایک معمولی بات بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔ بات بات پر طلاق کا ذکر اور پھر اسے ایک فیشن کے طور پر دکھانا ہمارے خاندانی نظام کی جڑیں کھوکھلی کر رہا ہے۔ اسلام میں طلاق کو جائز تو قرار دیا گیا ہے لیکن اسے اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ ترین عمل مانا گیا ہے۔ حدیثِ مبارکہ کا مفہوم ہے کہ ’’اللہ کے نزدیک تمام حلال چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز طلاق ہے‘‘۔ ایک اور جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’نکاح کرو اور طلاق نہ دو، کیونکہ طلاق سے اللہ کا عرش کانپ جاتا ہے‘‘۔ لیکن ہمارے ڈرامہ نگار شاید اس سنگینی سے واقف نہیں ہیں، وہ ریٹنگ کے چکر میں طلاق کو اتنی آسانی سے دکھاتے ہیں کہ دیکھنے والے اسے ایک عام سی حل طلب بات سمجھنے لگے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل کی شادیاں اتنی جلدی ناکامی کا شکار کیوں ہو رہی ہیں۔ جب نوجوان جوڑے ٹی وی پر دیکھتے ہیں کہ ذرا سی بات پر رشتہ توڑنا کتنا ’کول‘ یا جدید عمل ہے، تو وہ بھی صبر اور برداشت کا دامن چھوڑ دیتے ہیں۔ یہاں حکومت کا کردار انتہائی اہم ہے۔ پچھلے دنوں بے حیائی اور غیر اخلاقی مواد کے خلاف حکومت نے جو کچھ ایکشن لیے تھے، وہ یقیناً قابلِ ستائش تھے اور عوام نے انہیں سراہا تھا۔ لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ ایکشن کبھی کبھار کے بجائے مستقل بنیادوں پر ہوں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ایسے پروگرامز اور ڈراموں پر فوری ایکشن لیا جائے اور ان پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں تاکہ آئندہ کسی کو ایسی حرکت کرنے کی ہمت نہ ہو۔ اگر ریگولیٹری ادارے اپنا کام ٹھیک سے کریں تو کسی چینل کی جرأت نہیں ہوگی کہ وہ عوامی پلیٹ فارم پر ایسی بیہودگی دکھائے۔ ہمیں بحیثیت مسلمان یہ بات کبھی نہیں بھولنی چاہیے کہ ہم نے ایک دن مرنا ہے اور اپنے ہر عمل کا حساب دینا ہے۔ میڈیا پر بیٹھ کر جو لوگ آج شہرت اور پیسے کے لیے گندگی پھیلا رہے ہیں، کیا انہوں نے کبھی سوچا ہے کہ وہ کتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے اخلاق تباہ کرنے کا گناہ اپنے سر لے رہے ہیں؟ ٹی وی ایک ایسی چیز ہے جو ہر گھر تک رسائی رکھتی ہے، جہاں بچے اور بوڑھے سب ساتھ بیٹھے ہوتے ہیں۔ آپ گند کو نظر انداز کر کے اسے ختم نہیں کر سکتے، بلکہ آپ کو گند صاف کرنا پڑتا ہے۔ اگر ہم نے آج ان چیزوں پر آواز نہ اٹھائی تو کل کو اس سے بھی زیادہ بولڈ اور نازیبا چیزیں ہمارے ڈرائنگ رومز کا حصہ بن جائیں گی۔ ایک ذمے دار شہری ہونے کے ناتے ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ کیا ہم اپنے ملک کو ایک ایسی دلدل کی طرف لے جا رہے ہیں جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں؟ آج کے دور میں صحافت اور میڈیا کا مقصد صرف معلومات پہنچانا نہیں رہا بلکہ یہ ایک کاروبار بن چکا ہے۔ اس کاروبار میں سب سے زیادہ نقصان ہماری اخلاقیات کا ہو رہا ہے۔ جب ایک عام آدمی ایسے مناظر دیکھتا ہے تو اس کے ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر یہ لوگ ایسا کر سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں؟ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ لبرل ازم اور ماڈرن ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہم اپنی جڑیں ہی کاٹ دیں۔ ترقی کا مطلب سوچ کی وسعت ہونا چاہیے، نہ کہ لباس یا حرکات و سکنات میں حدوں کو توڑنا۔ پاکستان کی پہچان اس کا مذہب اور اس کی روایات ہیں، اور میڈیا کو ان کا محافظ ہونا چاہیے۔ سوشل میڈیا اور ٹی وی میڈیا پر جو بے لگام آزادی نظر آتی ہے، اسے اخلاقیات کے دائرے میں لانا اب وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔ یہ بات ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں۔ کیا ہم ایک ایسا معاشرہ بننا چاہتے ہیں جہاں شرم و حیا اور رشتوں کے احترام نام کی کوئی چیز باقی نہ رہے؟ اگر ہم نے آج خاموشی اختیار کر لی، تو کل ہمارے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں بچے گا۔ نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل