Friday, April 17, 2026
 

یورینیئم ہمیں اپنی سرزمین کیطرح مقدس ہے، کہیں منتقل نہیں ہوگا؛ ایران کا ٹرمپ کو جواب

 



ایران نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے افروزدہ یورینیئم کی امریکا منتقلی پر آمادہ ہونے کے دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اپنی پوسٹ میں واضح الفاظ میں کہا کہ ایسا کوئی معاہدہ نہ ہوا ہے اور نہ ہی اس پر کوئی بات چیت جاری ہے۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ افزودہ یورینیم ہمارے لیے ایرانی سرزمین جتنا مقدس ہے اور اسے کسی بھی حالت میں کہیں منتقل نہیں کیا جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی صدر کی جانب سے کیے گئے دعوے حقیقت کے برعکس ہیں اور ایران اپنے جوہری اثاثوں پر مکمل خودمختاری رکھتا ہے۔ خیال رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران ہمارے ساتھ مل کر اپنے افزودہ یورینیئم یعنی nuclear dust کو نکال کر امریکا منتقل کرنے پر آمادہ ہوگیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ دونوں ممالک اس معاملے پر تعاون کریں گے اور یہ عمل جلد شروع ہو سکتا ہے۔ تاہم ایرانی حکام نے فوری طور پر ان بیانات کو مسترد کر دیا اور کہا کہ ایسا کوئی معاہدہ طے نہیں پایا۔   ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے بھی امریکی صدر کے دعوؤں کو مسترد کردیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بات چیت کے دوران کسی بھی موقع پر نہ تو امریکا کو یورینیئم دینے کا کوئی معاہدہ ہوا اور نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر بحث لائی گئی ہے۔ ایرانی حکام نے بھی آبنائے ہرمز کو لبنان اور اسرائیل جنگ بندی کے تناظر میں کھولنے کو محدود پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ابھی کوئی بڑا بریک تھرو نہیں ہوا ہے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل