Saturday, April 18, 2026
 

امریکا کے ساتھ مزید براہِ راست مذاکرات کے لیے تیار نہیں، ایرانی نائب وزیر خارجہ

 



ایران نے امریکا پر بے جا مطالبات کے لیے دباؤ ڈالنے کا الزام عائد کرتے ہوئے دوسرے دور کے براہ راست مذاکرات سے انکار کر دیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے بتایا کہ امریکا اہم معاملات پر اپنے بے جا مطالبات سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ کے بقول یہی وجہ ہے کہ ہم اس وقت امریکا کے ساتھ دوسرے دور کے براہ راست مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہیں۔ نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا کو ایران کے بنیادی خدشات کو سمجھنے اور انھیں حل کرنے کی ضرورت ہے جن میں سے ایک ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنا ہے۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ نے صدر ٹرمپ کے بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے افزودہ یورینیئم امریکا کو دینے پر بھی تیار نہیں۔ یہ ناقابلِ قبول شرط ہے۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ نے یہ بھی بتایا کہ فریقین (امریکا اور ایران) کے درمیان بالواسطہ رابطہ برقرار ہے لیکن ہماری خواہش ہے کہ براہِ راست مذاکرات سے پہلے فریم ورک معاہدہ طے پا جائے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس امید کا اظہار کیا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا کوئی مثبت نتیجہ جلد سامنے آئے گا۔   

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل