Saturday, April 18, 2026
 

شعری مجموعہ ’’ایک لمحہ ہے تمہارے پاس‘‘

 



جی ہاں ’’ایک لمحہ ہے تمہارے پاس‘‘ اس کتاب کے تخلیق کار انور ظہیر رہبر ہیں وہ اچھے شاعر ہی نہیں بلکہ بہترین نثرنگار بھی ہیں۔ ان کے افسانے اور کالم پابندی سے اخبارات و جرائد میں شائع ہوکر قارئین و ناقدین سے داد وصول کرتے ہیں گزشتہ ہفتے انور ظہیر رہبر کا ایک کالم پڑھنے کا اتفاق ہوا ’’انسانی اعضا کی تبدیلی اور مصنوعی نعم البدل‘‘ دوسرے کالموں کی طرح مذکورہ کالم بھی بے حد معلوماتی تھا ،ان کی تحریروں کے قاری کو تشنگی ذرہ برابر نہیں ہوتی ہے اس کی خاص وجہ اپنے موضوع سے پورا انصاف کرتے ہیں اور بھرپور معلومات فراہم کرنے میں ان کا کوئی نعم البدل نہیں، یوں لگتا ہے جیسے دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہو۔ سفرنامہ نگاری میں بھی آپ کو مہارت حاصل ہے ’’سفر وسیلہ ظفر‘‘ والی بات تو ہے نہیں، بس اپنے شوق اور معلومات حاصل کرنے، دنیا کے نوادرات دیکھنے کا شوق ملکوں ملکوں کے سفر کے لیے آمادہ کرتا ہے اور پھر اس کی روداد کو تحریر کے قالب میں ڈھالتے ہیں اور یہ تحریریں اور تصاویر پرنٹ میڈیا اور فیس بک کی زینت بن جاتی ہیں۔ اخبارات و فیس بک کے دوست احباب استفادہ کرتے ہیں، تحریر سے لطف اٹھاتے اور حیرت انگیز عجائبات کو دیکھتے ہوئے یوں محسوس کرتے ہیں جیسے وہ بھی جادو کی نگری میں شامل ہو گئے ہوں۔ ایسی ایسی عمارتیں، تاریخی مقامات اور خوب صورت مناظر پل بھر میں سامنے آجاتے ہیں جیسے کسی نے طلسماتی چھڑی گھما دی ہو۔ یہ مبالغہ آرائی ہرگز نہیں ہے بلکہ حقیقت ہے سفرناموں کے پڑھنے کا مزہ ہی الگ ہے۔ انھوں نے تقریباً ہر صنف پر طبع آزمائی کی ہے۔ ناول لکھنا ابھی باقی ہے وہ بھی بہت جلد لکھ لیں گے باصلاحیت اور باکمال قلم کار ہیں مسلسل لکھ رہے ہیں اور بہت خوب لکھ رہے ہیں۔ان کے پہلے شعری مجموعے کی اشاعت 2000 میں ہوئی، عنوان تھا ’’تجھے دیکھتا رہوں‘‘، ’’عکس آواز‘‘ یہ افسانوں کا مجموعہ ہے سن اشاعت 2018۔ ان کی دو اہم کتابیں جوکہ نثرنگاری پر مشتمل ہیں دونوں کتابیں 2023 میں اشاعت کے مرحلے سے گزریں۔ ایک کالموں کا مجموعہ بعنوان ’’پردیسی کے قلم سے‘‘ ان کی زنبیل میں شامل ہے۔ ’’رنگ ِ برگ‘‘ اس کتاب میں جرمنی کے افسانہ نگاروں کے بارے میں معلومات بہم پہنچائی ہیں، افسانہ اور افسانہ نگاروں کی ایک کہکشاں سجا دی ہے۔ انور ظہیر رہبر کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ دوسرا افسانوں کا مجموعہ ’’سپنوں کے ساحل پر‘‘ حیدرآباد، بھارت کے ادبی افق پر جلوہ گر ہوا۔ دہلی بھارت سے ’’جھرمٹ‘‘ کے نام سے افسانہ نگاروں کے افسانوی مجموعے کا اشاریہ 2025 میں اور نظموں کا مجموعہ ’’ایک لمحہ ہے تمہارے پاس‘‘ تازہ کتاب ہے یہ دونوں کتابیں ایک ہی سال میں شائع ہوئیں جو قارئین کے ہاتھوں میں پہنچ چکی ہیں اور مزید یہ کہ مجھے اس پر لکھنے میں کچھ تاخیر ہوئی۔ ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا شعری مجموعے کے خالق اپنے مضمون پیش لفظ میں نظمیہ شاعری کو اظہار کا سب سے خوبصورت ذریعہ کہتے ہیں۔ انھوں نے بہت سلیس انداز میں نظم کی تعریف و تشریح کی ہے۔ جو قارئین شاعری اور اس کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے ہیں صرف پڑھنے کی حد تک محظوظ ہوتے ہیں تو ان کی معلومات میں یہ تحریر اضافے کا باعث ہوگی۔ماں جیسے رشتے کو اولاد کبھی نہیں بھول سکتی ہے کہ اس کا نعم البدل کوئی نہیں ہے۔ یہ رشتہ بڑا انمول اور محبت کی چاشنی سے آراستہ اور گھلا ملا ہے۔  قربانی و ایثار کا نام ’’ماں‘‘ ہے جو اپنی پوری زندگی اپنے بچوں کی پرورش اور بہتر مستقبل کے لیے گزار دیتی ہے اپنی ہر خوشی دان کر دیتی ہے کہ اولاد اس کا دل و جگر ہے۔ شاعر نے اپنی ماں کی جدائی میں ایک خوبصورت نظم ’’ماں‘‘ کے عنوان سے تخلیق کی ہے۔ فہرست کے اعتبار سے پہلے نمبر پر ہے، رشتوں میں بھی ماں کا ہی پہلا نمبر ہے۔ میری پیاری امی! بظاہر آپ ہماری زندگی سے دور چلی گئیں مگر ہمارے دلوں سے آپ کو کوئی دور نہیں کر سکتا، کبھی بھی نہیں۔ آپ وہاں نہیں ہیں جہاں آپ رہتی تھیں، لیکن آپ ہر اس جگہ ہیں جہاں ہم ہیں۔ انور ظہیر رہبر ہیں تو پاکستانی ہی لیکن عرصہ دراز سے اپنی فیملی کے ساتھ برلن، جرمنی میں مقیم ہیں۔ کتاب میں 106 نظمیں شاعر کے جذبات و احساسات کی عکاس ہیں جو دیکھا محسوس کیا وہی شاعری کا حصہ بنا، وہ انھوں نے من و عن بیان کر دیا ہے اسی وجہ سے ہر شعر دل پر اثر کرتا ہے۔ انور ظہیر رہبر کی شاعری محض لفاظی نہیں بلکہ انھوں نے زمانے کے دکھوں، مسائل اور تجربات و مشاہدات کی روشنی میں یہ خوبصورت اور بامعنی نظمیں تخلیق کی ہیں۔ ان کی شاعری میں جہاں موسم بہار کے رنگ مہکتے ہوئے نظر آتے ہیں وہاں زندگی کی بے ثباتی، آس و نراس کی کہانیاں بھی سانس لیتی ہیں اور سچے جذبے لفظوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ شاعر کے کلام میں پوری اور بھرپور زندگی اپنی کامیابی اور ناکامی کے ساتھ پیر پسار کر بیٹھی نظر آتی ہے کبھی ماتم کرتی، اپنی ناکام تمناؤں کا نوحہ سناتی ہے۔ ان کی ایک نظم ’’لوٹ آؤ‘‘ اگر ہم اس نظم کا مطالعہ کریں تو خوف کی دبیز چادر نے تخلیق کار کے جسم و جاں اور دل ناتواں کو اپنے حصار میں لے لیا ہے۔ ’’لوٹ آؤ‘‘ مایوسی کا استعارہ ہے، امید کے ٹوٹتے ہوئے تارے شاعر کو ناکامی اور اداسی کی اتھاہ وادیوں میں دھکیل رہے ہیں اس نظم سے چند اشعار۔ لوٹ آؤ۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ۔۔۔۔۔ وقت کی کالی گھٹائیں ان راستوں کو۔۔۔۔۔ جن پر ہم اکثر ملا کرتے تھے اندھیروں میں گم کر دیں۔۔۔۔۔ دنیا تو ظالم ہے لوگو۔۔۔۔ درد کے اس موسم میں۔۔۔۔ جگنو کی مدھم روشنی بھی۔۔۔۔۔ ہمیں ایک دوسرے سے چھین لے جائیں گے اور ہم اجنبی ہو جائیں گے لوٹ آؤ اسی قبیل کی ایک اور نظم ’’چوکھٹ‘‘ اس نظم میں بھی بے اعتباری اور ناکامی کی مرجھائی ہوئی کلیاں اپنی بے ثباتی کا نوحہ بیان کر رہی ہیں۔ شاعر نے ٹوٹے دل کے ساتھ اپنے جذبات کا اظہار بے حد اچھوتے انداز میں کیا ہے۔ نظم ’’فاصلے‘‘ میں شاعر نے اپنی روٹھی ہوئی محبت کو منانے کے لیے الفاظ کے پیچ و خم سے محبت کا پیغام اس طرح دیا ہے۔ سنو اے جاناں! دل کی محبت میں فاصلے زیادہ ہیں پاس اتنے رہ کر بھی دور بہت رہتی ہو قربتوں کے معنی کو بھول بھول جاتی ہو اتنا کیوں ستاتی ہو، مجھ کو کیوں رلاتی ہو سنو اے جاناں!192 صفحات پر بکھری ہوئی شاعری مختلف موضوعات اور حقائق کی روشنی سے مزین ہے۔ انور ظہیر رہبر کی تخلیق کردہ ہر نظم باطنی وخارجی حالات کی روداد دل نشیں انداز میں بیان کرتی ہے۔ نظم ’’موبائل فون‘‘ آج جو گھر گھر کے حالات ہیں اس کی منظر کشی اس طرح کی ہے کہ ساتھ رہتے ہوئے بھی گھر کے مکیں اپنے اپنے موبائل میں گم ہو کر دور بہت دور ہو جاتے ہیں۔ نظم ’’گلاب‘‘ نے بھی ایک مرثیہ کی صورت اختیار کر لی ہے، اس جیسی بے شمار نظمیں قاری کے دل میں جگہ بنا لیتی ہیں اور وہ شاعر کے دکھوں کو محسوس کرکے اداس ہو جاتا ہے اور یہی ایک کامیاب تخلیق کار کا کمال ہے۔ مبارکاں!  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل