Loading
آبنائے ہرمز کو کھولنے کے ایک دن بعد ہی ایران نے امریکا کی جانب سے ناکہ بندی ختم نہ کرنے کے ردعمل میں دوبارہ بند کردی اور اب ایک اہم اعلان سامنے آیا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ آبنائے ہرمز سے محدود تعداد میں تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔
ان کے بقول آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو اب نئی شرائط کے تحت ترجیح دی جائے گی جس کے تحت سیکیورٹی اور سیفٹی اخراجات ادا کرنے والے جہازوں کو پہلے گزرنے کی اجازت ملے گی۔
انھوں نے مزید کہا کہ جو جہاز نئے پروٹوکولز پر عمل کریں گے اور سیکیورٹی اخراجات (ٹیکس) ادا کریں گے انھیں ترجیح دی جائے گی اور جو ادائیگی نہیں کریں گے ان کے گزرنے کو مؤخر کر دیا جائے گا۔
خیال رہے کہ آج پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول دوبارہ سنبھال لیا اور سخت چیکنگ بھی کی جب کہ بحری جہازوں کو پیغامات بھیجے گئے کہ آبی گزرگاہ دوبارہ سے بند کردی گئی ہے۔
اسی دوران پاسداران انقلاب کی گشت پر مامور گن بوٹس کا آمنا سامنا کچھ ایسے جہازوں سے ہوا جنھوں نے ان ہدایات پر عمل نہیں کیا تھا۔ کم از کم 4 جہازوں کو ہوائی فائرنگ کرکے واپس جانے پر مجبور کیا گیا۔
ان میں سے دو تیل بردار جہازوں پر بھارتی پرچم لہرا رہا تھا۔ بھارتی وزارت خارجہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ ان کے دو آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز پر روکنے پر نئی دہلی میں تعینات ایرانی سفیر کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کروایا گیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل