Monday, April 20, 2026
 

کراچی میں لاوارث حالت میں ملنے والی 2 بچیوں میں سے 1 لڑکی انتقال کرگئی

 



شہر قائد کے علاقے بوٹ بیسن سے لاوارث حالت میں ملنے والی نوعمر لڑکی سول اسپتال میں دوران علاج چل بسی تاہم پوسٹ مارٹم کے دوران زیادتی کے شواہد نہیں ملے۔ تفصیلات کے مطابق شیریں جناح کالونی کے قریب سے جمعے کو 9 سالہ جیرش اور 13 سالہ مقدس (سگی بہنیں) بوٹ بیسن پولیس کو لاوارث حالت میں ملی تھیں جس میں بڑی بہن 13 سالہ مقدس کی طبیعت ناساز تھی جس پر اُسے سول اسپتال منتقل کیا گیا۔ اسپتال منتقلی کے بعد 13 سالہ مقدس پیر کو دوران علاج دم توڑ گئی۔  پولیس کو لاوارث حالت میں ملنے والی دونوں بہنیں مبینہ طور پر اپنی آنٹی کے ہمراہ صادق آباد سے کراچی آئی تھیں۔ پولیس کے مطابق ابتدائی طور پر بچی کی طبیعت شوگر لیول بڑھ جانے کی وجہ سے خراب ہونے کا بتایا گیا تھا تاہم بچی کے دم توڑنے کے بعد اس کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرانے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ چھوٹی بہن 9 سالہ جیرش ایدھی ہیڈ آفس سے پولیس کی نگرانی میں ان کی والدہ کے سپرد کر دی گئی۔ بچیوں کی ماں کا کہنا تھا کہ وہ نہیں جانتی کہ بچیاں کس کے ساتھ کراچی آئیں تھیں ہم تو بچیوں کو صادق آباد میں تلاش کرتے رہے لیکن ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا، بچی کی وجہ موت شوگر کی زیادتی ہوسکتی ہے۔ جیرش کا کہنا ہے کہ کوئی خاتون انھیں لے کر آئی تھی اور اس نے کوئی نشہ آور چیز کھلانے کی کوشش بھی کی۔ دریں اثنا پولیس سرجن کراچی ڈاکٹر سمیعہ کے مطابق 13 سالہ مقدس کا پوسٹ مارٹم مکمل کرنے کے بعد موت کی وجہ دیگر رپورٹس آنے تک محفوظ کرلی گئی ہے، بچی کے جسم پر تشدد کے نشانات موجود نہیں اور نہ ہی پوسٹ مارٹم کے دوران بچی سے جنسی زیادتی کے شواہد ملے ہیں۔ پولیس سرجن کے مطابق بچی کی لاش سے کیمیکل معائنے اور ہسٹوپیتھالوجی کیلئے نمونے حاصل کیے گئے ہیں ، سیرو لوجی اور ڈی این اے سیمپلنگ و کراس میچنگ کی جانچ جاری ہے جبکہ متوفیہ ٹائپ ون ذیابیطس کی مریضہ بھی تھی ، بچی کی لاش سے حاصل کردہ تمام نمونے حاصل کر کے لیبارٹری بھجوا دئیے گئے ہیں۔ ایدھی حکام کے مطابق 13 سالہ مقدس کی لاش پوسٹ مارٹم کے بعد سہراب گوٹھ ایدھی سرد خانے منتقل کی گئی جہاں سے متوفیہ کے ورثا میت وصول کر کے تدفین کے لیے آبائی علاقے صادق آباد کے لیے روانہ ہوگئے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل