Monday, April 20, 2026
 

داخلی سیاسی استحکام کو مستحکم کرنا ہوگا

 



پاکستان کے جمہوری سیاسی استحکام کے تناظر میں ہماری داخلی سیاست میں کافی مسائل موجود ہیں۔ ان مسائل کی عملی نوعیت گہری بھی ہے اور پیچیدہ بھی۔ یہ مسئلہ کوئی نیا نہیں ہے بلکہ ہر جمہوری دور میں سیاسی محاذآرائی یا سیاسی ٹکراؤ نے ملک کی سیاست کو غیر مستحکم بھی کیا اور سیاسی عمل کے مقابلے میں غیر سیاسی نظام کو مضبوط بھی بنایا۔ یہ ہی وجہ ہے اس ملک کی سیاست ہمیشہ سے غیر یقینی اورکمزور بنیادوں پر موجود رہی ہے۔ آج بھی پاکستان کی سیاست نہ صرف کمزور بنیادوں پر موجود ہے بلکہ اب تو اس جمہوری نظام کو ہائبرڈ جمہوری نظام کا نیا نام دیا جارہا ہے۔بہت سے سکہ بند دانشور اور سیاسی حضرات اس ہائبرڈ نظام کا سیاسی جواز بھی پیش کرکے جمہوری نظام کو مزید کمزور بنیادوں پر رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ عالمی درجہ بندی میں ہمارے جمہوری نظام کی ساکھ بھی کمزور ہے اور اس نظام پر کئی طرح کے سنجیدہ نوعیت کے سوالات اٹھائے جاتے ہیں اور ہماری جمہوری درجہ بندی کو مختلف تناظر میں چیلنج کیا جاتا ہے۔اس وقت پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت عالمی،علاقائی اور داخلی سیاست کے تناظر میں اپنی سفارت کاری کی بنیاد پر خوب پذیرائی حاصل کر رہی ہے ۔ہمارے دشمن بھی یہ اعتراف کررہے ہیں کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت اپنے سفارتی کارڈ کی بنیاد پر بہت اچھا کھیلی اور اس کھیل سے پاکستان کا تشخص کافی مثبت ابھرا ہے۔ ہمارے مقابلے میں بھارت ایک بڑی طاقت ہونے کے باوجود عالمی سیاست میں وہ پذیرائی حاصل نہیں کرسکا جو ہم نے حاصل کی ہے ۔ اس پر یقیناً ہماری سیاسی اور عسکری قیادت دونوں مبارکباد کی مستحق ہیں اور ان کی تعریف بھی ہونی چاہیے۔اہم بات یہ ہے کہ عالمی سطح پر امریکا،اسرائیل اور ایران جنگ یا ایران اور سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے درمیان ہم نے اب تک جنگ بندی ،تنازعات کے خاتمے اور پرامن ماحول کے لیے جو کردار ادا کیا ہے وہ نہ صرف مثالی ہے بلکہ اس پر قومی سطح پر کوئی بڑی گہری تقسیم بھی دیکھنے کو نہیں ملی۔  حکومت ،حزب اختلاف،میڈیا اور سول سوسائٹی سب نے ملکی سیاسی اور عسکری قیادت کے ساتھ کھڑے ہوکر ایک ذمے دار ریاست اور معاشرے کی عکاسی کی ہے اور اس پر سب کی تعریف ہونا چاہیے،کیونکہ ہمارے یہاں جو سیاسی تقسیم ہے اس میں اس طرز کے اتفاق رائے کا پیدا ہونا معمولی بات نہیں۔حزب اختلاف کا اس ماحول میں اپنے تمام تر سیاسی اختلافات کو بھلا کر احتجاجی سرگرمیوں کو ختم کرنا بھی حکومت کے لیے مثبت اشارہ ہے اور اسے بھی ایک ذمے دارانہ کردار کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ اب یہ سیاسی مثبت ماحول آگے بڑھنا چاہیے۔ سیاست اور جمہوریت میں حکومت ،حزب اختلاف اور دیگر فریقوں کی سطح پر جو داخلی اختلافات ہیں یا جو ایک دوسرے کے خلاف ٹکراو یا سیاسی دشمنی کا ماحول ہے اسے ختم ہونا چاہیے۔حزب اختلاف کی سیاست عملی طور پرجمہوریت کے نظام کا حسن ہوتی ہے اور اس کے سیاسی وجود کو قبول کرکے ہی جمہوری راستے کو آگے کی طرف بڑھایا جاسکتا ہے۔اسی طرح حزب اختلاف کو طاقت کی بنیاد پر دیوار سے لگانے کی حکمت عملی بھی موثر نہیں ہوتی بلکہ اس سے اختلافات کی سیاسی نوعیت میں اور زیادہ بگاڑ پیدا ہوتا ہے ۔اس وقت ہماری سیاست کا المیہ یہ ہے کہ سیاسی اختلافات نے سیاسی دشمنی کا راستہ اختیار کرلیا ہے اور سیاسی مسائل کے حل کے لیے سیاسی راستوں کو عملی طور پر بند کردیا گیا ہے ۔حزب اختلاف کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی کا شور مچایا جا رہا ہے ۔ یہ سب کچھ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کا سیاسی اور جمہوری داخلی استحکام کمزور بنیادوں پر کھڑا ہے۔سیاست ہی نہیں عدلیہ،میڈیا اور سول سوسائٹی کی سطح پر بھی بہت سے چیلنجز ہیں مگر ان کو درست حکمت عملی کے تحت حل نہیں کیا جا رہا۔اس لیے یہ کہنا کہ پاکستان میں مکمل طور پر سیاسی استحکام ہے درست بات نہیں۔مسئلہ پی ٹی آئی تک محدود نہیں بلکہ سیکیورٹی اور سیاست کے تناظر میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے حالات بھی عملی طورپر مثبت نہیں اور وہاں کے سیاسی حالات وہاں سیکیورٹی جیسے مسائل کو پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ حکومت کے نظام سے بہت سے لوگ انفرادی اور اجتماعی طور پر نالاں ہیں جس میں گورننس کا بحران سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ ایک بات جو پاکستان کی سیاست میںغلط ہو رہی ہے وہ ایک طرف سیاسی مخالفین کے خلاف طاقت کا رجحان ہے جو سیاسی ماحول میں اور زیادہ تلخیاں پیدا کر رہا ہے۔اس سے پہلے سے موجود سیاسی تقسیم جہاں اور زیادہ گہری ہو رہی ہے وہیں ایک دوسرے کے خلاف تلخیاں بھی بڑھ رہی ہیں جو سیاسی استحکام کو پیدا کرنے میں بڑی رکاوٹ کے طور پر سامنے آرہی ہے۔سیاسی عدم استحکام معاشی اور سیکیورٹی کے عدم استحکام کو پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے ۔ ہماری معیشت اور سیکیورٹی کے مسائل کا براہ راست تعلق بھی ملک میں موجود سیاسی عدم استحکام سے ہی جڑا ہوا ہے۔اس لیے ہمیں سیاسی عدم استحکام یا سیاسی تلخیوں کی سیاست کو سیاسی تنہائی میں دیکھنے سے گریز کرنا چاہیے اور اس کے حل کے لیے ایک بڑے سیاسی فریم ورک میںاتفاق رائے سے اس کا حل تلاش کرنا چاہیے۔لیکن یہ کام اسی صورت میں ممکن ہوگا جب ہم سیاسی محاذ پر سب مل کرایک دوسرے کی سیاسی قبولیت کوممکن بنائیں اور اپنے سیاسی مخالفین کو سیاسی دشمن کی بنیاد پر دیکھنے کی پالیسی کو ترک کر دیں۔ سیاسی رواداری کے کلچرکو مستحکم کرنا ہوگا۔ گورننس سے جڑے مسائل کا حل بھی سیاسی استحکام کے بغیر ممکن نہیں ہے اور یہ ہی عمل ہماری حکومت کی سیاسی ترجیحات کا اہم حصہ ہونا چاہیے۔ یقیناً اس میں حکومت اور حزب اختلاف دونوں کو ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر جہاں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے وہاں اب ایک دوسرے کے لیے دل کشادہ کرکے ایک دوسرے کی قبولیت کو بھی ممکن بنانا ہوگا۔سیاسی دشمنیوں کی بنیاد پر سیاسی استحکام ممکن نہیں اور حزب اختلاف کو بھی سوچنا ہوگا کہ سیاست میں عملی طور پر آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کرنا اہم ہوتا ہے اور جو سیاسی ڈیڈ لاک ہے اسے توڑے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں ہوتا ۔لیکن کیونکہ حکومت کے پاس حزب اختلاف کے مقابلے میں زیادہ اختیارات ہوتے ہیں تو ان کی ذمے داری زیادہ ہوتی ہے کہ وہ سیاسی حکمت عملیوں کی بنیاد پر سیاسی لچک کا مظاہرہ کرکے درمیانی راستہ نکالے جو سب کو بحران کی صورتحال سے نکلنے میں مدد دے سکے ۔ لیکن اگر حکومت داخلی مسائل کو غیر اہم سمجھتی ہے یا اسے نظرانداز کرکے آگے بڑھنا چاہتی ہے تو اس سے مسائل حل نہیں ہوسکیں گے۔ممکن ہے کہ حکومت کو وقتی طور پر کامیابی مل سکے اور وہ سیاسی مسائل کو کچھ عرصہ کے لیے پس پشت ڈال سکے ۔لیکن یہ حکومت کا مستقل حل نہیں ہوگا اور جب ہماری پالیسی مسائل کو حل کرنے کی بجائے ٹال مٹول تک محدود رہے گی تو مستقبل کی بہتری کے امکانات بھی محدود ہوجائیں گے۔اس وقت جو بھی عالمی صورتحال ہمارے حق میں ہے اس کا ہمیں اپنی داخلی سیاست سے جڑے مسائل کو بنیاد بنا کر ایک بڑے فریم ورک میں حل تلاش کرنا چاہیے،مسئلہ کسی کی جیت اور ہار کا نہیں بلکہ ریاست اور پاکستان کے مفاد کا ہے کیونکہ ہم جن بڑے چیلنجز سے دوچار ہیں ان میں ہم مزید محاذ آرائی کی سیاست کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ہمیں سیاسی ضد اور انا کا راستہ چھوڑنا ہوگا اور سمجھنا ہوگا کہ سیاسی استحکام کا پیدا ہونا اس وقت ریاست کے بڑے مفاد میں ہے ۔لیکن اگر ہم اس کے مقابلے میں خوش فہمی کی سیاست میں زندہ رہنا اور سب اچھے کی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو عملا ہم اپنے پہلے سے موجود مسائل کو اور زیادہ خراب کرنے کا سبب بنیں گے۔اس لیے جو سفارت کاری کی بنیاد حکومت نے عالمی معاملات پر ڈالی ہے اسی طرز کی سفارت کاری کی ہمیں داخلی سیاست سے جڑے مسائل کے حل پر بھی دینی ہوگی ۔یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس وقت جو پاکستان میں سیاسی تقسیم ہے اس کا خاتمہ ہونا چاہیے اور ہم ان مسائل پر توجہ دیں جو اس وقت ہمارے اصل مسائل اور چیلنجز ہیں جن کا براہ راست تعلق ریاست کے مفاد سے ہے ۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل