Tuesday, May 05, 2026
 

خوارج کے ہاتھوں مولانا ادریس کی شہادت پہلا واقعہ نہیں، ماضی میں بھی متعدد علماء نشانہ بن چکے ہیں

 



شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کی شہادت پہلا واقعہ نہیں اس سے قبل بھی فتنہ الخوارج علمائے کرام کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔ معروف عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کو آج  چارسدہ کےعلاقے اتمانزئی میں خوارج نے اس وقت بزدلانہ حملہ کرکے شہید کیا جب وہ اپنے مدرسے کی جانب جارہے تھے۔ عوام کی جانب سے مولانا شیخ محمد ادریس کے اس بہیمانہ قتل پر شدید غم وغصے کااظہار کیا جارہا ہے، عوامی حلقوں میں صوبائی حکومت کی جانب سے امن و امان کی صورتحال کی ناکامی پر کڑی تنقید کی جارہی ہے۔ 21 جولائی 2025 کو چارسدہ تھانہ تنگی حدود میں فتنہ الخوارج نے فائرنگ کرکے معروف مذہبی رہنما پیر ابراہیم کو شہید کیا تھا۔ 10 جولائی 2025 کو باجوڑ کے علاقے شندئی موڑ میں عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما مولانا خان زیب کو بھی فتنہ الخوارج نے شہید کردیا تھا۔ 14 مارچ 2025 کو جنوبی وزیرستان میں ایک مسجد پر خودکش حملے کے نتیجے میں جے یو آئی کے ضلعی امیر مولانا عبداللہ ندیم زخمی ہوئے تھے۔ 28 فروری کو اکوڑہ خٹک میں دارلعلوم حقانیہ کی مسجد کو نشانہ بنایا گیا جس میں جے یو آئی رہنما مولانا حامد الحق حقانی شہید ہوئے۔ ماہرین کے مطابق سیکیورٹی فورسز کا مقابلہ کرنے میں ناکامی کے بعد فتنہ الخوارج  معصوم شہریوں کونشانہ بنانے لگے ہیں، فتنہ الخوارج  اپنے افغان طالبان اور ہندو آقاؤں کی ایما پر سافٹ ٹارگٹس کو نشانہ بنا رہے ہیں۔  ماہرین نے کہا کہ سیکیورٹی ادارے فتنہ الخوارج کی ان مذموم کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے، علمائے کرام پر فتنہ الخوارج کے پے در پے حملے ان کے غیراسلامی اور انسانیت کا دشمنِ  ہونے کے واضح ثبوت ہیں۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل