Thursday, May 07, 2026
 

بڑا ہے صرف پاکستان

 



اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ کوئی بھی سیاستدان ریاست یا پارلیمان سے بڑا نہیں۔ میاں نواز شریف عظیم ہوں گے لیکن آئین سے اوپر کوئی بھی نہیں ہے اور نہ ہی ہو سکتا ہے۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پختون رہنما محمود خان ملک گیر سیاست کرتے رہے اور نواز شریف فیملی کے بھی قریب رہے مگر اب وہ مسلم لیگ (ن) کی موجودہ حکومت کے مخالف ہیں جس کی وجہ سے بانی پی ٹی آئی نے انھیں قومی اسمبلی میں اپوزیشن کا عہدہ دے کر اپنے قریب کر لیا جب کہ اپنی حکومت میں بانی کہا کرتے تھے کہ محمود خان نے 2013 میں نواز شریف کی حکومت میں اپنے بھائی کو گورنر بلوچستان بنوایا اور اپنے سارے خاندان کو سیاسی فائدے دلوائے تھے جس پر دیگر اپوزیشن رہنما بھی تنقید کیا کرتے تھے ۔ محمود خان اچکزئی نے اپنے حالیہ بیان کہ کوئی بھی سیاستدان ریاست یا پارلیمان سے بڑا نہیں، درست کہا ہے اور یہ بھی کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو گھر سے یا باہر سے کوئی بھی مائنس کرنے کی کوشش کرے گا تو کامیاب نہیں ہونے دیں گے کیونکہ ماضی میں جنرل پرویز مشرف نے دو سابقہ وزرائے اعظم بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کو ملک کی سیاست سے مائنس کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی جو ناکام رہی تھی۔ جنرل مشرف کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ اقتدار میں آئے جن کی دونوں حکومتوں کی مخالفت میں بانی پی ٹی آئی پیش پیش رہے تھے۔ بانی نے جنرل پرویز کی کوششوں کا ساتھ دیا تھا کہ کسی طرح نواز شریف اور بے نظیر بھٹو اپنی پارٹیوں یا سیاست سے مائنس ہو جائیں۔ انھوں نے 2018 میں اقتدار میں آ کر اپنے منشور پر عمل یا ملک و قوم کی خدمت کرنے کی بجائے اپنا سارا زور اپنے دونوں اہم سیاسی رہنماؤں خصوصاً میاں نواز شریف کو مائنس کرنے میں لگایا تھا اور عدلیہ کے ذریعے نواز شریف کو نااہل بھی کروا دیا تھا اور بے نظیر کی شہادت کے بعد ان کا ٹارگٹ آصف زرداری اور نواز شریف ہی نہیں ان کی فیملیاں اور پارٹیاں تھیں اور ان سب اپنے مخالفین کو بانی نے اپنے اقتدار میں آ کر گرفتار کرایا اور ان پر ایسے کئی مقدمے بنوائے تھے جو بانی پر جیسے پی ڈی ایم حکومت اور موجودہ حکومت نے بنوا رکھے ہیں۔ اقتدار کے بعد بانی کو سزائیں بھی ہو چکیں اور وہ نااہل بھی ہو چکے اور جیل میں ہیں۔ بقول محمود خان بانی پی ٹی آئی کو مائنس نہیں ہونے دیں گے۔ جب نواز شریف کو مائنس کرنے کی کوشش ہو رہی تھی اس وقت بھی محمود خان کسی ایسے اقدام کے خلاف تھے جیسے وہ اب بھی ہیں مگر وہ اس بار پی ٹی آئی کی طرف سے اپوزیشن لیڈر کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں۔ قیام پاکستان سے قبل محمود خان کا تعلق افغانستان سے تھا اور وہ پاکستان میں سیاست کرتے ہوئے افغانستان سے بھی اظہار محبت کرتے تھے۔ اقتدار سے اپنی برطرفی کے بعد بانی پی ٹی آئی نے بھی یہاں تک کہہ دیا تھا کہ مجھے ہٹانے سے بہتر تھا کہ پاکستان پر ایٹم بم مار دیا جاتا۔ اپوزیشن میں رہتے ہوئے پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی سے استعفے بھی دیے اور بانی نے پنجاب و کے پی کی اپنی ہی اسمبلیاں تڑوا کر اپنی حکومتیں بھی ختم کرائی تھیں تاکہ دباؤ ڈالا جائے مگر قومی اسمبلی نے مدت مکمل کی تھی اور ریاست نے بانی کی شدید مخالفت اور لانگ مارچ کے باوجود معیار کی بنیاد پر اپنے تمام فیصلوں پر عملدر آمد کرایا تھا۔ محمود اچکزئی نے سو فی صد درست کہا ہے کہ کوئی سیاستدان عظیم ہے نہ ریاست و پارلیمان سے بڑا بلکہ بڑا صرف پاکستان ہے کئی بڑے بن کر آئے اور چلے گئے اور قائم صرف پاکستان ہے جو سیاستدانوں سے بڑا ہے کوئی ملک سے بڑا ہے اور نہ ہی ناگزیر ہے۔  پارلیمان کی ہمارے ملک میں جو حیثیت ہے اس کا تو سب کو پتا ہے۔ پارلیمان کی بڑائی کی باتیں اپوزیشن میں رہ کر کی جاتی ہیں اور جب اپوزیشن حکومت میں آ جاتی ہے تو وہ پارلیمان کی بے توقیری کرنے لگ جاتی ہے اور ملکی مفاد کے فیصلے پارلیمان سے بالا بالا کر لیے جاتے ہیں اور پارلیمنٹ سے باہر کیے جانے والے فیصلوں کی توثیق اس طرح کرائی جاتی ہے کہ ارکان کو اس پر بولنے کا موقعہ ہی نہیں دیا جاتا جس پر اپوزیشن بات نہ کرنے کا موقعہ نہ دیے جانے پر احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ کر جاتی ہے اور حکومت اپنے ارکان سے جلدی میں فیصلوں کی منظوری حاصل کرلیتی ہے کیونکہ اکثر سرکاری ارکان کسی اعتراض کے بغیر حکومتی فیصلے کی منظوری دے دیتے ہیں۔ ریاست کے پاس طاقت ہوتی ہے اسی لیے حکومت بھی خود کو طاقتور سمجھ کر اپوزیشن کو کچلنے میں لگ جاتی ہے اور پی ٹی آئی حکومت میں اس کی دو مخالف پارٹیوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے ساتھ جو انتقامی کارروائیاں ہوئیں ،اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ جس کسی نے بھی سیاست پاکستان میں کرنی ہے اس کا فرض اولین ہونا چاہیے کہ وہ اپنے ملک کو سب پر ترجیح دے کیونکہ سب کے لیے سب سے بڑا پاکستان ہے اور پاکستان کا مفاد ہر کسی کی سیاست سے زیادہ اہم ہے اس لیے مخالفت اور مفادات کی بجائے ملک سے پہلے محبت ہونی چاہیے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل