Wednesday, June 10, 2026
 

وزیراعظم نے این ایف سی ایوارڈ اپڈیٹ کرنے کی یقین دہانی کرادی ہے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

 



وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) اپڈیٹ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، جس کے تحت ضم اضلاع کو بھی شامل کیا جائے گا جو صوبے کے عوام کے لیے ایک خوش خبری ہے۔ نیشنل اکنامک کونسل کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ اجلاس میں خیبر پختونخوا کے عوام کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کیا گیا اور صوبے کے آئینی، مالی اور ترقیاتی حقوق کے تحفظ کے لیے واضح مؤقف اختیار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ 180 دن کے اندر این ایف سی ایوارڈ کو اپڈیٹ کرنے کے لیے باقاعدہ اجلاس منعقد کیے جائیں گے، تاہم اگر مقررہ مدت میں اتفاق رائے نہ ہو سکا تو صدر مملکت کو سمری بھجوا کر صدارتی آرڈر کے ذریعے این ایف سی ایوارڈ اپڈیٹ کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ نئے این ایف سی ایوارڈ میں ضم شدہ اضلاع کا مالی حصہ شامل کیا جائے گا جو خیبر پختونخوا کے عوام خصوصاً ضم شدہ علاقوں کے لیے ایک بڑی خوش خبری ہے۔ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع کے تیز رفتار عمل درآمد پروگرام (اے آئی پی) میں مجوزہ کٹوتی مذاکرات کے بعد کافی حد تک بہتر ہوئی ہے تاہم صوبائی حکومت نے مزید بہتری کے لیے بھی بھرپور مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ضم شدہ اضلاع کے سالانہ ترقیاتی پروگرام اور اے آئی پی میں مزید بہتری لائی جائے گی تاکہ وہاں کے عوام کو ترقیاتی ثمرات بروقت پہنچ سکیں۔ وزیراعلیٰ نے آئین کے آرٹیکل 151 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اشیائے ضروریہ کی آزادانہ نقل و حمل یقینی بنانا وفاق کی آئینی ذمہ داری ہے، تاہم اگر اس آرٹیکل پر عمل درآمد ممکن نہیں تو پھر آئین کے اس شق کو ختم کر کے صوبوں کو اپنی پالیسی اختیار کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاسکو کے ساتھ طے شدہ معاہدے کے تحت ایک لاکھ 75 ہزار ٹن گندم مقررہ نرخ پر خیبرپختونخوا کو فراہم کی جائے گی اور وفاقی حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ گندم کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ محمد سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت ملک بھر میں امن و امان کے قیام کے لیے سب سے زیادہ سرمایہ کاری کر رہی ہے اور 5 اکتوبر 2025 سے اب تک پولیس، محکمہ انسداد دہشت گردی اور اسپیشل برانچ کی استعداد کار بڑھانے پر 30 ارب روپے سے زائد خرچ کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس، سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے تاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاق کے ساتھ ورکنگ ریلیشن صوبے اور عوام کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے آگے بڑھائے جائیں گے، این ای سی اور این ایف سی اجلاسں میں شرکت صوبے کے حقوق اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تعلیم، صحت اور امن و امان صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات ہیں، احساس پروگرام، شیلٹر ہومز، زمنگ کور اور کوئی بھوکا نہ سوئے جیسے فلاحی منصوبے بھی کامیابی کے ساتھ جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صحت کارڈ چیئرمین عمران خان کا انقلابی منصوبہ ہے جس کے ذریعے خیبر پختونخوا کے ہر شہری کو مفت علاج کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبر پختونخوا پاکستان کے مجموعی جنگلات میں تقریباً 45 فیصد حصہ ڈال رہا ہے، صوبے کے کل رقبے کا 26.7 فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگلات کے مزید فروغ کے لیے خصوصی فنڈ مختص کیا جائے گا اور نجی اراضی پر اگائے گئے درختوں کو کاٹنے کے بجائے صوبائی حکومت خود خریدے گی اور مالکان کو ادائیگی کرے گی تاکہ شجرکاری کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔ سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ بنجر اراضی پر شجرکاری کرنے والے افراد کو حکومت ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی تاکہ صوبے میں جنگلات کے رقبے میں مزید اضافہ کیا جا سکے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل