Thursday, June 11, 2026
 

امریکی فوج نے ایرانی تیل لے جانے والے تیسرے جہاز پر بھی حملہ کرکے انجن ناکارہ بنا دیا

 



امریکی فوج نے ایرانی بحریہ کی ناکہ بندی کے دوران خلیج عمان میں ایک اور آئل ٹینکر پر حملہ کرکے اسے سمندر میں لنگر انداز ہونے پر مجبور کردیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ بحیرۂ عمان میں ایران کی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی کو توڑنے کی کوشش کرنے والے ایک اور تجارتی آئل ٹینکر کو نشانہ بنا کر چلنے سے قاصر بنادیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ رواں ہفتے تیسرا ایسا آئل ٹینکر ہے جسے نشانہ بنایا گیا جبکہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی شروع ہونے کے بعد نواں جہاز ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ گنی بساؤ کے پرچم بردار آئل ٹینکر ’’ ایم ٹی جالویر‘‘ ایران سے تیل لے کر بحیرۂ عمان کے راستے سفر کر رہا تھا اور اس دوران امریکی فوج کی ہدایات کو مسلسل نظرانداز کر رہا تھا۔ ترجمان امریکی فوج نے بتایا کہ مذکورہ آئل ٹینکر کے عملے کو متعدد بار خبردار کیا گیا تاہم کوئی مثبت جواب نہ ملنے پر اس کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا اور ایک امریکی طیارے نے ٹینکر کے انجن روم پر دو ہیل فائر میزائل داغے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ اس حملے کے نتیجے میں آئل ٹینکر کی نقل و حرکت متاثر ہوئی اور اسے سمندر میں تیرنے کے لیے ناکارہ بنا دیا گیا۔ اس کارروائی کا مقصد بھی جہاز کو تباہ کرنا نہیں بلکہ اسے ایران سے تیل کی ترسیل جاری رکھنے سے روکنا تھا۔ امریکی فوج نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف عائد بحری ناکہ بندی پر سختی سے عمل درآمد جاری ہے اور جو بھی جہاز ایرانی تیل کی ترسیل کے لیے پابندیوں کی خلاف ورزی کرے گا اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ دوسری جانب ایران نے امریکی اقدامات کو بین الاقوامی قوانین اور آزاد بحری تجارت کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر ڈیڈ لاک ہوگیا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکی فوج نے خلیج عمان میں ایرانی تیل لے جانے والے ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا تھا جس میں 3 بھارتی ملاح مارے گئے تھے جب کہ 21 کو عمانی کوسٹ گارڈ نے بحفاظت نکالا۔    

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل