Loading
موجودہ جمہوری نظام جو کہ ’’ایک آدمی ایک ووٹ‘‘ کی بنیاد پر قائم ہے، اس کی ابتدا تو 1776 میں امریکا کی آزادی کے اعلامیہ سے ہوئی، تاہم 13 ریاستوں پر مشتمل متحدہ ہائے امریکا کے آئین میں عوام کو یہ ضمانت دی گئی تھی کہ اگر عوام محسوس کریں کہ ان کیخلاف ناانصافی ہو رہی ہے تو وہ بغاوت کر کے حکومت کو گرانے یا ختم کرنے کا حق بھی رکھتے ہیں۔ یہ کوئی معمولی اعلان نہ تھا مگر اس اعلان کا اطلاق سیاہ فام غلاموں پر نہیں ہوتا تھا جس کی وجہ سے وہ اس سے استفادہ نہ کر سکے۔
1880 میں پہلی بار ’’ایک انسان ایک ووٹ‘‘ کا نعرہ برطانوی ٹریڈ یونین لیڈر جارج ہورویل (Geroge Horwell) نے لگایا جس کو آج ڈیڑھ صدی گزر چکی ہے جب کہ ہر سو سال بعد نظریہ تک متروک ہوجاتا ہے، تاہم اس سے قبل برطانوی دانشور اور معاشی ماہر جان اسٹیوارٹ مل 1800ء کی دہائی میں ’’ووٹ کی طاقت برابر‘‘ کا نعرہ دے چکے تھے۔
امریکا کی سپریم کورٹ کے 1962ء میں دیے فیصلے کی روشنی میں ایک انسان ایک ووٹ کا فیصلہ ہوا مگر امریکا میں اس کا اطلاق سیاہ فاموں پر 1965 میں امریکا کی آزادی کے 189 سال بعد ہوا۔ مرد و زن کو بلاتفریق ووٹ کا حق سب سے پہلے ’’پیرس کمیون‘‘ نے اپریل 1871ء کے بلدیاتی انتخابات میں دیا جہاں غیرملکیوں کو بھی نہ صرف ووٹ دینے بلکہ انتخابات میں حصہ لینے کی مکمل آزادی دی گئی تھی، جب کہ بطور ریاست ایک آدمی ایک ووٹ پر سب سے پہلے عملدرآمد نیوزی لینڈ میں 1893 ہوا۔
اب آتے ہیں، اپنے اصل مدعا پر کہ کیا موجودہ جمہوری نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے؟ تو فوری جواب تو ’’جی ہاں‘‘ ہے اور یہ سچ بھی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ’’ایک آدمی ایک ووٹ‘‘ پر کھڑا ہوا موجودہ جمہوری نظام جدید دور کے تقاضے پورے کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔ ہر الیکشن میں صرف دولتمند ہی الیکشن جیت کر حکومت بناتے اور مفادات حاصل کرتے ہیں جب کہ غریب طبقے بالخصوص محنت کش طبقے کو سیاسی حقوق حاصل نہیں اور نہ ہی ان کی کسی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے۔
دولت کی ریل پیل نے ’’ایک انسان ایک ووٹ‘‘ کے مقصد کو روند کر رکھ دیا ہے، جب کہ حالات کی ستم ظریفی دیکھیے کہ محکوم طبقے کو وہ حقوق اور مراعات آج تک نہ مل سکے ہیں جن کا وہ سالہا سال سے مطالبہ کرتا چلا آ رہا ہے۔
فرینچ ریوولیوشن 1779 میں شامل انریجز گروپ (Enrages) نے جب پہلی بار یہ مطالبہ کیا کہ اس انقلاب کا پھل غریبوں کو بھی ملنا چاہیے تو اسے کچل دیا گیا۔ تب عوام نے 18 مارچ 1871ء کو اپنے حقوق کے حصول کے لیے اس سے زیادہ توانا انقلاب ’’پیرس کمیون‘‘ برپا کیا۔ الیگزینڈر میخائیل باکونن نے اپنی شہرہ آفاق تھیسز میں لکھا کہ اگر ’’پیرس کمیون‘‘ برپا نہ ہوتا تو آج تک پورے کا پورا بایاں بازو اور ترقی پسند قوتیں سرمایہ داروں اور ان کے گماشتہ مصنفین کے ہاں ’’یوٹوپیا‘‘ کے طعنے سے باہر نکل ہی نہ پاتے۔
انسانی تاریخ میں جدوجہد کے مختلف ادوار کے دوران طاقتور سے نجات کے لیے کمزور کی جدوجہد کبھی ختم نہ ہوئی ہے اور نہ ہی اس کے ختم ہونے کا کوئی امکان باقی ہے۔ انسان اپنے جائز حق کے لیے آواز بلند کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا۔ امریکا میں ’’ایک آدمی ایک ووٹ‘‘ کی بنیاد پر گزشتہ دو عام انتخابات اور اس سے قبل ہونیوالے عام انتخابات پر دھاندلی اور مداخلت کے الزامات لگتے رہے ہیں۔
پاکستان سمیت پوری دنیا میں جہاں کہیں عام انتخابات ہوئے ہیں ان کے نتائج پر سوالیہ نشانات اور سرکاری مداخلت کے الزامات لگنا معمول بن چکا ہے، جب کہ عوام کا رد عمل بھی سب کے سامنے ہے۔ عام آدمی کا تو خیر الیکشن میں حصہ لینا ہی ناممکن ہے تاہم خود مالدار امیدوار ایک دوسرے پر دھاندلی کے الزامات لگاتے رہے ہیں۔
یہی نہیں کئی بار تو انتخابات کے مواقعے پر خون خرابہ بھی ہوا ہے اور کئی لوگ جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ اب تو یہ بات معمول بنتی جا رہی ہے اور پاکستان اور بھارت سمیت ہر جگہ انتخابات محض ایک ضرورت یا ڈھونگ سے زیادہ کوئی معنی نہیں رکھتے۔
الیکشن کے بعد مخالفین کیخلاف انتقامی کارروائیاں بھی ایک لازمی عنصر بن چکی ہیں، جب کہ موجودہ جمہوریت دنیا بھر میں کہیں پر بھی عوام کے مفادات کا تحفظ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ جن اسمبلیوں میں نوے فیصد نمائندے اپنے ذاتی مفادات کے لیے کام کرتے ہوں اور وہ صرف دس فیصد سرمایہ دار اور جاگیردار طبقے کے مفادات کے تابع ہوں، وہاں جمہوری اقدار کی حالت انتہائی مخدوش ہوتی اور وہاں بہتری کی امید کس طرح رکھنا بے سود ہوتی ہے۔
اس کی سب سے بڑی خرابی تو منتخب اسمبلیوں کی معیاد کا تعین (چار/ پانچ سال) کرنا ہے۔ اس مدت میں منتخب ارکان جو چاہیں کرتے رہیں، ان سے کوئی جوابدہی نہیں ہو سکتی۔ موجودہ جمہوریت کے مدمقابل ’’براہ راست جمہوریت‘‘ کا ایک تصور موجود ہے جس میں اراکین اسمبلی سے کسی بھی وقت پوچھا جا سکتا ہے اور ان کو جوابدہ بنایا گیا ہے۔
براہ راست جمہوریت میں غلط کاری کے الزامات ثابت ہونے پر کسی بھی رکن کو استعفیٰ دینا پڑتا ہے اور مواخذہ بھی کیا جاتا ہے، جب کہ سوئٹزرلینڈ میں تو عوام کو بھی قانون سازی کے عمل میں شامل کیا گیا ہے۔
جہاں اگر 50 ہزار لوگوں کے دستخطوں سے کوئی مطالبہ آتا ہے تواسمبلی اس کو قانون سازی کے لیے زیر غور لانے کی پابند ہے۔ کچھ ممالک اور ریاستوں میں عوام کو منتخب اراکین کے مواخذے کا بھی حق حاصل ہے۔
بیلا روس، بینن، تائیوان، امریکا کی 19 ریاستوں، کینیڈا کی ایک برٹش کولمبیا ریاست، ارجنٹینا کی کچھ ریاستوں میں عوام کو معیاد سے پہلے ہی کسی بھی منتخب رکن یا عہدیدار کو برخواست کرنے کا حق حاصل ہے۔ امریکا کی ریاست کیلیفورنیا میں 2023 میں گورنر گری ڈیوس کو ہٹاکر آرنلڈ شوازنگر کو لایا گیا تھا، جب کہ بولیویا، کولمبیا، ایکوڈور اور وینزویلا سمیت لاطینی امریکا کے کئی ممالک میں صدر کو یہ اختیار حاصل ہے جو کہ صدر غلط طور پر بھی استعمال کر سکتا ہے۔
پاکستان، بھارت اور برطانیہ سمیت امریکا کی بیشتر ریاستوں میں ایسا حق عوام کو حاصل نہیں ہے۔ اوپر بیان کیے گئے حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے تو موجودہ ’’ایک آدمی ایک ووٹ‘‘ والا جمہوری نظام بھی عام آدمی کی امنگوں پر پورا اترنے میں ناکام ہو چکا ہے۔
یہ نظام آج کی دور کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے۔ ایسے حالات میں یہ ضروری ہو گیا ہے کہ ایک ایسا نظام وضع کیا جائے جس میں فوری طور پر ہر انسان کو یکساں برابر حقوق حاصل ہوں۔ صرف دولت کی بنیاد پر کسی کو ووٹ دینے اور انتخابات میں حصہ لینے سے روکنا کس طرح کی جمہوریت ہے۔
ممکن ہے کہ یہ بات سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور طاقتور افراد کو کسی طرح اچھی نہ لگ رہی ہو، مگر حقیقت یہ ہے کہ جب تک ہر انسان کو اس کی تقدیر کا فیصلہ خود کرنے کا اختیار نہیں دیا جاتا، تب تک حقیقی جمہوریت کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ اب وقت آگیا ہے کہ جمہوریت سب کے لیے اور بلاتفریق ہونے پر عمل کو یقینی بنانا چاہیے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل