Loading
واشنگٹن: امریکی حکومت نے ایک قانونی دستاویز میں انکشاف کیا ہے کہ ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک کی مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی گروک کو ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں استعمال کیا گیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے 15 جون کو جمع کرائی گئی ایک قانونی بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایلون مسک کی کمپنی کے ڈیٹا سینٹر کو توانائی فراہم کرنے والے گیس ٹربائنز کے خلاف دائر ماحولیاتی مقدمے کے جواب میں حکومت نے قومی سلامتی سے متعلق دلائل پیش کیے۔
امریکی محکمہ انصاف نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر مذکورہ ڈیٹا سینٹر کی بجلی بند کی گئی تو اس سے نہ صرف امریکی اقتصادی اور توانائی سلامتی متاثر ہوگی بلکہ مصنوعی ذہانت پر مبنی وہ نظام بھی متاثر ہوں گے جو امریکی فوجی آپریشنز میں استعمال ہو رہے ہیں۔
قانونی دستاویز میں پینٹاگون کے مصنوعی ذہانت کے سربراہ کیمرون اسٹینلے کا حلفیہ بیان بھی شامل کیا گیا، جس میں انہوں نے بتایا کہ گروک اس وقت امریکی فوج کے معروف پروجیکٹ میون میں استعمال ہو رہا ہے۔ یہ منصوبہ فوجی اہداف کی نشاندہی اور کارروائیوں میں مصنوعی ذہانت کی مدد فراہم کرتا ہے۔
حلفیہ بیان کے مطابق میون اسمارٹ سسٹمز نے آپریشن ایپک فیوری کے دوران امریکی افواج کو صرف 96 گھنٹوں میں تقریباً 2,000 مختلف اہداف پر 2,000 سے زائد ہتھیار استعمال کرنے میں مدد فراہم کی۔
رپورٹ کے مطابق پروجیکٹ میون ماضی میں ایک اور اے آئی ماڈل کلاڈ پر انحصار کرتا تھا، تاہم اب گروک کو بھی اس نظام کا حصہ بنایا جا چکا ہے۔
یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مصنوعی ذہانت کے فوجی استعمال، خودکار ہدف بندی اور جنگی فیصلوں میں اے آئی کے کردار پر دنیا بھر میں بحث جاری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید جنگوں میں مصنوعی ذہانت کا بڑھتا ہوا استعمال مستقبل کے عسکری منظرنامے کو یکسر تبدیل کر سکتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل