Tuesday, June 16, 2026
 

خواتین آج بھی عدم تحفظ کا شکار

 



گزشتہ دنوں کوئٹہ میں لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب پھینکے جانے, جھنگ میں طالبہ کا گینگ ریپ اور قتل، اور ایک محنت کش خاتون کے ساتھ گینگ ریپ کے واقعات نے ایک مرتبہ پھر معاشرے میں خواتین کے عدم تحفظ کے موضوع کو نمایاں کر دیا ہے۔ مذکورہ تینوں واقعات میں نوجوان لڑکیوں سمیت ایک شادی شدہ خاتون کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ وہ واقعات ہیں جو منظر عام پر آ چکے ہیں۔ نہ جانے خواتین کے ساتھ زیادتی کے کتنے واقعات ایسے ہوں گے جو رپورٹ ہی نہیں ہوتے، جن کو بدنامی کے ڈر، طاقتوروں کے خوف اور خواتین کے خلاف ظالمانہ رسم و رواج کی وجہ سے دبا دیا جاتا ہے۔ کوئٹہ میں ہونے والے واقعے میں ایک لفٹ آپریٹر نے لیڈی ڈاکٹر کے چہرے پر تیزاب پھینک کر اسے زندگی بھر کےلیے ایک بھرپور زندگی سے محروم کردیا۔ دوسرے واقعے میں ایک طالبہ کو تین مجرموں نے اغوا کیا اور گینگ ریپ کرکے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ملک کے آئین میں خواتین کے تحفظ کےلیے قانون سازی ہوچکی ہے۔ خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کےلیے قوانین متعارف کروائے جاچکے ہیں۔ ان کی دادرسی کےلیے مختلف ادارے بنائے جاچکے ہیں۔ خواتین کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ آپ کسی بھی قسم کے واقعے کی صورت میں فوری طور پر رپورٹ کریں تاکہ کل کو کسی بڑے سانحے کا شکار نہ ہوں۔ خواتین کی داد رسی کےلیے تھانوں میں خواتین اہلکار بھی موجود ہیں اور کسی حد تک تھانہ کلچر کے درشت رویوں میں بھی کمی آئی ہے۔ جس سے عوام اپنے مسائل کی دادرسی کےلیے پولیس تھانے میں جانے میں کوئی ڈر اور خوف محسوس نہیں کرتے۔ لیکن اس کے باوجود خواتین کے ساتھ واقعات میں کمی آنے کے بجائے یہ تعداد بڑھتی ہی جا رہی ہے، جو کہ ایک سوالیہ نشان ہے۔ اس ضمن میں جب سوال اٹھایا جاتا ہے تو مختلف ملکوں میں خواتین کے ساتھ ہونے والے واقعات کی گردان شروع کی جاتی ہے اور شروع ہمارے پڑوسی ملک سے کی جاتی ہے کہ وہاں خواتین کی صورتحاال بالکل بھی اچھی نہیں ہے اور مغرب میں تو خواتین بالکل ہی بے یارو مدد گار ہیں۔ اس لیے ہمارے ملک میں رہنے والی خواتین قدرے محفوظ ہیں۔ خواتین پر تیزاب پھینکنے کا واقعہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، لیکن خدا سے دعا ہے کہ یہ آخری واقعہ ضرور ہو۔ اس میں بہت سے سوال اٹھائے جارہے ہیں کہ متاثرہ لیڈی ڈاکٹر پر پھینکا جانے والا تیزاب ملزم کو آسانی سے کیسے دستیاب ؟ اگر اس لیڈی ڈاکٹر کو وہ لفٹ آپریٹر تنگ کررہا تھا تو اسپتال کی انتظامیہ نے اس پر ایکشن کیوں نہیں لیا؟ اگر اس لفٹ آپریٹر کے ساتھی عملے کو اگر کسی بات کا علم تھا تو انہوں نے اپنے سپروائزر اور انتظامیہ کو آگاہ کیوں نہیں کیا؟ یہ تمام ایسے سوال ہیں جو کسی بھی واقعے کے بعد دہرائے جاتے ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا۔ اس کو قانون کی کمزوری سمجھیں، معاشرے میں انسانوں کی بے حسی سمجھیں یا خواتین کی اہمیت کو کمتر سمجھیں۔ کچھ بھی سمجھیں لیکن خواتین کے ساتھ زیادتی، ناانصافی اور بدسلوکی کے واقعات ضرور ہورہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں تیزاب گردی کے واقعات کو روکنے کےلیے زیرو ٹالرینس اپنائی جانی چاہیے۔ تیزاب کی کھلے عام فروخت پر پابندی لگائی جائے اور صرف لائسنس شدہ دکانوں کو ہی صرف خاص مقاصد کےلیے تیزاب فروخت کرنے کی اجازت دی جائے۔ جن اداروں میں خواتین اور مرد اکٹھے کام کرتے ہیں وہاں پر خواتین کے ساتھ بدسلوکی پر بھی زیرو ٹالرینس پالیسی اپنائی جائے۔ اس ضمن میں انتظامیہ صرف اپنا مفاد نہ دیکھے بلکہ جو شخص خواتین کے ساتھ بدتمیزی کا مرتکب پایا جائے اس کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔ حکومتی اداروں سے بھی استدعا ہے کہ خواتین کے خلاف درج ہونے والے کیسز کا ٹرائل تیزی کے ساتھ کرے تاکہ مجرموں کو جلد ان کے کیفر کردار تک پہنچایا جاسکے۔ مقدمات کی سست روی کی وجہ سے ہی عام آدمی قانون کے پاس جانے کی کوشش ہی نہیں کرتا۔ سندھ میں منو بھیل کیس کی مثال سب کے سامنے ہے، جس میں اُسے سالہا سال انتظار کرنا پڑا۔ اس لیے اس اعتماد کو بحال رکھنے کےلیے اسپیڈی ٹرائل کے انعقاد کو ممکن بنانا ہوگا۔ آپ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان، عورت فاؤنڈیشن اور اے جی ایس سمیت خواتین کےلیے کام کرنے والی تنظیموں کی رپورٹیں اٹھا کر دیکھ لیں۔ آپ کو علم ہو گا کہ نہ جانے کتنے ہی کیس انتظار کی سولی پر لٹک رہے ہیں۔ بہت سی خواتین انصاف کے انتظار میں دنیا سدھار چکی ہیں لیکن انصاف کی صورت حال جوں کی توں رہی۔ آپ مختاراں مائی، قندیل بلوچ اور نور مقدم کے کیسوں کو دیکھیں، کتنے ہی سال ان کے لواحقین کو انتظار کی سولی پر لٹکنا پڑا اور اس دوران طاقتور اور باثر افراد نے کس طرح ملزمان کو بری کروانے کےلیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے۔ لہٰذا اس ضمن میں تجویز ہے کہ اس قسم کے کیسوں کا فیصلہ فوری ہو تاکہ متاثرہ خاتون اور اس کے خاندان کو انصاف کی فراہمی کو جلد از جلد ممکن بنایا جاسکے۔ مذکورہ واقعات نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ مرد خواتین کے ساتھ ان کی مرضی کے خلاف زبردستی کیوں کرنا چاہتے ہیں؟ کیوں انہیں انکار سُننے کی عادت نہیں۔ حال ہی میں ڈیرہ غازی خان میں ہونے ولے ایک واقعے میں ایک لڑکے نے اپنی منگیتر کو مار کر خود بھی خودکشی کرلی کیونکہ اس لڑکی کے والدین نے کسی وجہ سے لڑکے سے شادی سے منع کردیا تھا۔ میرے نزدیک مردوں کی یہ ہٹ دھرمی، ضد اور نام نہاد انا کا سلسلہ گھر سے شروع ہوتا ہے۔ جب گھر میں ہی اسے بہنوں پر فیصلہ کرنے کا اختیار مل جاتا ہے تو پھر وہ معاشرے میں ہر لڑکی پر اپنا فیصلہ تھونپنا چاہتا ہے اور اسے حاصل کرنا چاہتا ہے، چاہے اس لڑکی کی رضا مندی شامل نہ بھی ہو۔ اس سوچ کو بڑھاوا جھوٹی رومانوی کہانیاں، عشقیہ شاعری، ڈرامے اور رومانوی فلمیں دے رہی ہیں، جو معاشرے کے غریب اور متوسط طبقات کے لڑکوں کو ہیرو گیری کے چکر میں اس طرح کے واقعات میں مرکزی ملزم بنا دیتے ہیں۔ اس لیے ضرورت ہے کہ اس طرح کی چیزوں کو پرموٹ کرنے کے بجائے معاشرے کے مسائل کی صحیح عکاسی کی جائے تاکہ اس طبقے کے نوجوانوں کی سوچ بدلے اور وہ صحیح معنوں میں خواتین کی عزت کرنا سیکھیں۔ ابھی تو صورتحال یہ ہے کہ ہر سال ’’عورت مارچ‘‘ کو متنازع بنا دیا جاتا ہے۔ خواتین کی آزادی کو محدود کرنے کےلیے مذہبی رہنما تو اکثر و بیشتر بیان دیتے ہی رہتے ہیں، لیکن ان کے ساتھ ساتھ یہ بیڑا ہمارے ملک کی سلیبرٹیز نے بھی اٹھا لیا ہے۔ کسی کو خواتین کے پہناوے پر اعتراض ہے تو کسی کو کسی اداکار کے کسی کردار میں فحاشی نظر آتی ہے۔ حد تو یہ ہوگئی کہ ایک آرٹسٹ نے باقاعدہ وزیراعلیٰ پنجاب سے اپیل کی کہ خواتین کے لباس کےلیے کوڈ آف کنڈکٹ پنجاب حکومت جاری کرے۔ حد ہے کہ انہیں معاشرے میں وہ ادھ ننگے نودولتیے نظرنہیں آتے جو آپ کو معاشر ے میں کسی بھی جگہ نیکر بنیان پہنے نظر آئیں گے لیکن کوئی ان کو روکنے ٹوکنے والا نہیں۔ یاد رکھیں معاشرے کو پرامن معاشرہ، خواتین کو تحفظ دینے والا معاشرہ، اقلیتوں کو برابر کا شہری سمجھنے والا معاشرہ ہم سب نے مل جل کر ہی بنانا ہے۔ یہ صرف حکومت کا ہی کام نہیں، اس میں بطور پاکستانی شہری ہماری بھی ذمے داری بنتی ہے کہ اس معاشرے کو ہم ایسا خوبصورت اور انصاف پر مبنی بنائیں جو دنیا بھر میں دوسروں کےلیے مثال ہو اور یہ مثال ہم سب نے ہی مل کر قائم کرنی ہے اور اس کا فیصلہ بھی ہمیں ہی کرنا ہے کہ یہ مثال اچھی ہونی چاہیے یا بری۔ نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل