Loading
وزیر صحت سندھ نے اسپتال کے واش روم میں بچے کی پیدائش کے واقعے پر ڈاکٹروں کو کلین چٹ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس واقعے میں طبی عملے کی کوئی غفلت شامل نہیں تھی، وزیر صحت سندھ نے ڈاکٹروں کو بچا کر متاثرہ فیملی کو قصور وار ٹھہرادیا۔
وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو کے مطابق انکوائری کمیٹی نے ابتدائی طور پر عملے کو قصور وار قرار دیا تھا، تاہم بعد ازاں صورتحال کا جائزہ لینے پر یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ ڈاکٹروں کی کوئی کوتاہی ثابت نہیں ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ حاملہ خاتون خود بستر سے اٹھ کر واش روم گئی تھیں اور اسی دوران لیبر شروع ہو گیا، جس کے باعث بچے کی پیدائش لیبر روم کے فرش پر ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس واقعے کو طبی غفلت نہیں کہا جا سکتا اور اس نوعیت کی پیدائش بعض اوقات ہنگامی صورتحال میں ہو جاتی ہے۔
وزیر صحت کے مطابق لیبر روم میں خاتون کے تیماردار مردوں کی جانب سے ڈاکٹرز کے ساتھ بدتمیزی بھی کی گئی، جبکہ لیبر روم میں غیر متعلقہ افراد کا داخل ہونا بھی مناسب نہیں ہوتا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل