Wednesday, June 17, 2026
 

سلامتی کونسل کا افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی موجودگی پرتشویش کا اظہار

 



اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی موجودگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ افغان سرزمین پردہشت گردوں کی موجودگی اورطالبان رجیم کی طرف سے ان کی سرپرستی ایک بارپھر  عالمی سطح پربے نقاب ہوگئی ہے اور سلامتی کونسل نے طالبان رجیم پرانسداد دہشت گردی کے وعدوں پرعمل اورخواتین کومساوی حقوق فراہم کرنے پرزوردیا ہے۔ سلامتی کونسل نے افغانستان کیخلاف قرارداد منظور کرتے ہوئے یوناما کی مدت میں17 جون2027 تک توسیع کردی ہے۔ پاکستانی مندوب نے افغانستان سے درپیش دہشتگردی کے خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فتنۃ  الخوارج اور فتنۃ الہندوستان سمیت دیگرعالمی دہشتگرد گروہ افغانستان میں سرگرم اورسرحد پار دہشتگردی میں ملوث ہیں۔ امریکی مستقل مندوب نے طالبان رجیم  پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ طالبان رجیم کوانسداد دہشتگردی کی ذمہ داری پوری، یرغمالی سفارتکاری کا خاتمہ اورخواتین کےحقوق کی پامالی بند کرنا ہوگی۔ لائبیریا کےسفیرنے طالبان رجیم کوآڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ افغانستان ہمسایہ ممالک کے امن اورسلامتی کو خطرے میں نہ ڈالے اوردہشتگرد تنظیموں کواپنی سرزمین استعمال کرنے نہ دے۔  قائم مقام افغان مندوب نے ہرات میں مظاہرین پرفائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے خواتین کے حقوق کی صورتحال پرتشویش کا اظہارکیا۔ عالمی ماہرین کے مطابق طالبان رجیم نے دوحا میں وعدہ کیا تھا کہ وہ افغان سرزمین کو کسی ملک کیخلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے لیکن صورتحال اس کے برعکس ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان رجیم  کے پاس عوامی مسائل کاکوئی سیاسی حل نہیں، وہ اندرونی تنقید اور احتجاج کو کچلنے کے لیے وحشیانہ طاقت استعمال کررہی ہے ۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل