Loading
پینٹاگون نے اپنے اہم ترین ادارے امریکی انڈو پیسیفک کمانڈ سے لفظ انڈو ہٹا دیا جو مودی کی ناکام سفارت کاری کی عکاس اور دنیا بھر میں بھارت کی رسوائی کا سبب بن گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے امریکی انڈو پیسیفک کمانڈ (INDOPACOM) کا نام تبدیل کرتے ہوئے اسے دوبارہ امریکی پیسیفک کمانڈ (USPACOM یا PACOM) رکھنے کا اعلان کر دیا۔
اگرچہ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے کمانڈ کے دائرۂ کار، ذمہ داریوں یا فوجی حکمت عملی میں کوئی فرق نہیں آئے گا تاہم اس فیصلے کے وقت اور پس منظر نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔
پینٹاگون کے مطابق یہ اقدام محض تاریخی نام کی بحالی ہے۔ امریکی پیسیفک کمانڈ 1947 میں دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم کی گئی تھی اور 2018 تک اسی نام سے کام کرتی رہی۔
بعد ازاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی حکومت کے دوران اس کا نام تبدیل کرکے امریکی انڈو پیسیفک کمانڈ رکھا گیا تھا تاکہ بحر ہند اور بحرالکاہل کو ایک مشترکہ اسٹریٹجک خطہ قرار دیا جا سکے۔
2018 میں "انڈو" کیوں شامل کیا گیا تھا؟
اس وقت کے امریکی وزیر دفاع جم میٹس نے نام کی تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ چین کی بڑھتی ہوئی بحری سرگرمیوں، جنوبی بحیرہ چین سے بحر ہند تک اس کے اثر و رسوخ اور بھارت کے ابھرتے ہوئے کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے "انڈو پیسیفک" کا تصور اپنایا گیا۔
اس تبدیلی کا مقصد بھارت کو صرف جنوبی ایشیا تک محدود طاقت کے بجائے ایشیا کے توازنِ قوت میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر پیش کرنا تھا۔ اسی دور میں امریکا، بھارت، جاپان اور آسٹریلیا پر مشتمل کواڈ (Quad) اتحاد کو بھی دوبارہ فعال کیا گیا تھا تاکہ چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کا مقابلہ کیا جا سکے۔
اب نام واپس کیوں بدلا گیا؟
پینٹاگون کا مؤقف ہے کہ "پیسیفک کمانڈ" کا تاریخی نام بحال کرنا اس ادارے کی روایات، تاریخ اور فوجی شناخت کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے کیا گیا ہے، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جغرافیائی سیاست میں نام بھی اہم پیغام دیتے ہیں اور اس تبدیلی کو محض علامتی قرار دینا مشکل ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور بھارت کے تعلقات حالیہ ہفتوں میں بعض معاملات پر تناؤ کا شکار رہے ہیں۔ ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں کے دوران آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے واقعات میں تین بھارتی ملاحوں کی ہلاکت پر نئی دہلی نے سخت احتجاج کیا تھا اور امریکی سفارت کاروں کو طلب کرکے جواب طلب کیا تھا۔
اس کے علاوہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ امن معاہدے اور فرانس میں ہونے والے جی 7 اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ملاقات کے فوراً بعد اس نام کی تبدیلی کا اعلان بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
بھارت میں کیا ردعمل سامنے آیا؟
بھارت میں اس فیصلے پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ "انڈو" کا لفظ ہٹانا بھارت کی اسٹریٹجک اہمیت میں کمی کا تاثر دے سکتا ہے، جبکہ دیگر ماہرین کے مطابق یہ صرف علامتی تبدیلی ہے اور امریکا و بھارت کے دفاعی تعلقات، مشترکہ فوجی مشقوں اور کواڈ اتحاد پر اس کا فوری عملی اثر نہیں پڑے گا۔
بھارتی سیاست دان اور مصنف ششی تھرور نے سوشل میڈیا پر سوال اٹھایا کہ آیا یہ فیصلہ "کواڈ اتحاد کے تابوت میں ایک اور کیل" ثابت ہوگا۔
دفاعی امور کے تجزیہ کار ڈیرک گراسمین کا کہنا ہے کہ نام کی تبدیلی سے یہ تاثر مل سکتا ہے کہ واشنگٹن چین کے حوالے سے نسبتاً کم جارحانہ حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے سفارتی روابط بڑھانے پر توجہ دینا چاہتا ہے۔
پالیسی تبدیل ہوئی یا صرف نام؟
ماہرین کے مطابق اگرچہ کمانڈ کا نام تبدیل کر دیا گیا ہے، لیکن اس کا جغرافیائی دائرہ کار، فوجی ذمہ داریاں، امریکی فوجی اڈے، بھارت کے ساتھ دفاعی تعاون، مشترکہ مشقیں اور کواڈ کے تحت جاری سرگرمیاں بدستور برقرار ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل